دماغ کے بارے میں ہمارا بڑا سوال یہ نہیں کہ یہ بتا کس سے ہے بلکہ کچھ اس طرح کے ہیں کہ “ایک شخص جو سائیکل چلانا جانتا ہے، اس کے دماغ میں اس شخص کے مقابلے میں کیا فرق ہو گا جو سائیکل چلانا نہیں جانتا؟”۔ یعنی کہ سائیکل سواری کی صلاحیت دماغ میں کیسے لگتی ہے؟ اس کا وزن کیا ہے؟ یہ ہے کہاں پر؟ ایسے سوالات کے جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اعصابی نظام کے وائرنگ کے اسرار نہ کنگھالے جا سکیں۔ اعصابی نظام کے ایسے ممکنہ نقشے کو کنکٹوم کہتے ہیں (اور یہ زیادہ پرانی اصطلاح نہیں)۔ خیال ہے کہ انسانی کنکٹوم بنا لینا ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔
لیکن یہی کافی نہیں۔ دماغ کے کام میں صرف اعصابی جوڑوں کا ہی تعلق نہیں بلکہ اس سے زیادہ باریکیاں ہیں۔ ہر جوڑ پر سگنل کی مضبوطی کیا ہے۔ یہ بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ انسانی دماغ کا کنکٹوم جامد نہیں۔ یہ روز تبدیل ہو رہا ہے۔ اور بچپن سے بڑے ہونے تک تو یہ تبدیلی بہت ہی زیادہ ڈرامائی ہوتی ہے۔
سائیکل چلانے کی صلاحیت سادہ طریقے سے کہیں پر نہیں پڑی ہوئی۔ بہرحال، کنکٹوم کا پتا لگا لینا یقنی طور پر اچھا قدم ہو گا۔ ویسا ہی جیسے جینیات کے لئے انسانی جینوم کو پڑھ لینا تھا۔
اور کنکٹوم کو حاصل کر لینا شاید جسم کے دیگر حصوں کے اصول اور راز بھی آشکار کر دے۔ کیونکہ اگرچہ دماغ اہم ہے لیکن انسانی اعضا کی بائیولوجی کے اعتبار سے یہ منفرد نہیں ہے۔ دیگر جگہوں پر بھی خلیات کے نیٹورک بنتے ہیں۔ وائرنگ ہوتی ہے۔ خلیات تال میل سے کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمیں دفاعی نظام کے کئی حصوں کا علم ہے۔ کونسا خلیہ بیکٹیریا کو کھا جاتا ہے اور کونسا وائرس کی انفیکشن کا پتا لگاتا ہے۔ لیکن یہ پورا نظام کیسے کام کرتا ہے؟ اس میں ہمیں بہت سی چیزوں کا علم نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دفاعی نظام اربوں خلیات پر مشتمل ہے جو پورے جسم میں پھیلے ہوئے ہیں اور خون اور ٹشو میں حرکت میں ہیں۔ ان کے جسم کے دوسرے خلیات کے ساتھ ان گنت تعلق بنتے ہیں۔ دفاعی نظام کی وائرنگ کی ڈایاگرام بنانا دماغ سے بھی زیادہ دشوار ہو گا۔ ٹیکنالوجی کی پیشرفت جاری ہے۔ تاہم، ابھی پہلے دماغ کی ڈایاگرام کے لئے بھی جو ٹیکنالوجی درکار ہے، وہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ کی سٹڈی کے لئے جو طریقہ جو اپنایا گیا، وہ یہ کہ اس کو تہہ در تہہ دیکھا جائے۔ تہہ کو اتارنے کے لئے جو چاقو استعمال کیا جاتا ہے، یہ باریک ہیرے سے بنا ہے۔ اس قدر باریک کہ اس کی نوک محض بارہ کاربن کے ایٹموں پر مشتمل تھی۔ یہ خون کے خلیے کے تین سو ٹکڑے کر سکتا ہے۔ اور کند نہیں ہوتا۔ ہیرا جسم کے راز آشکار کر سکتا ہے۔ اور یہاں پر عام مائیکروسکوپ کام نہیں آتی۔ تاہم، کوانٹم فزکس اور ریاضی کی مدد سے الیکٹرون مائیکروسکوپ سے تصویر بنائی جا سکتی ہے۔
لچمین کی لیبارٹری نے اس سٹڈی کے لئے مشین بنائی جو کہ تصویر بنائے، پرت اتارے، پھر تصویر بنائے، پھر پرت اتارے۔ اس کی فلم بنتی جائے۔ یہ مشین بنانے میں چھ سال لگے۔ چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار تہیں اتاری جا سکتی تھیں۔ تاہم، الیکٹرون مائیکروسکوپ کی رفتار سست ہے۔ چوہے کے ایک مکعب ملی میٹر دماغ کی سٹڈی میں سترہ برس لگ جاتے۔ لچمین کی ٹیم نے ایک نئی مائیکروسکوپ تیار کی جس میں الیکٹرون کی ایک کے بجائے 61 شعاعیں کام کرتی ہیں۔ اور کمپیوٹر کی مدد سے اس کا تجزیہ کر کے کام جلد کیا جا سکتا ہے۔ اس سب کی مدد سے وہ دماغ کے ایک مکعب ملی میٹر کے دس لاکھویں حصے کا عکس لے سکتے ہیں۔ یہ ایک نیورون سے بھی چھوٹا ہے۔ اس کا تجزیہ کرنا مشکل کام تھا۔ بظاہر لگتا تھا کہ اس میں کچھ زیادہ نہیں ہو گا۔ لیکن چوہے کے دماغ میں اتنی جگہ میں 1407 ایگزون اور 193 ڈینڈرائٹ موجود تھے جو کہ 1700 سائنیپس کے ذریعے جڑے تھے۔
ٹیم کو جس چیز سے حیرانی ہوئی، وہ یہ کہ کتنی ہی بار، ایک ہی ایگزون اور ڈینڈرائٹ مختلف جگہوں سے آپس میں جڑے تھے۔ تاہم، یہ نامعلوم رہا کہ ان کے کسی بھی مقام پر جڑنے کی وجہ کیا ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق اس بات سے نہیں تھا کہ یہ کتنے قریب تھے۔
ان تصاویر کے لئے نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں لیکن لچمین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی وائرنگ کی ڈایاگرام اتنا ڈیٹا رکھے گی جتنا اس وقت دنیا بھر میں ڈیجیٹل مواد موجود ہے تو یہ کام تو مستقبل قریب میں نہیں ہونے والا۔ لیکن سادہ جانوروں پر یہ کیا جا سکتا ہے۔
اس میں ایک چھوٹے کیچوے کے دماغ کا نقشہ 2019 میں شائع ہوا۔ اس کیچوے کا سائز ایک ملی میٹر سے کم ہے۔ دس سال میں یہ نقشہ تیار ہوا۔ نہ صرف ہر نیورون اور سائنیپس کا بلکہ ان کے سائز کا بھی۔ اب ہم جانتے ہیں کہ جب درجہ حرارت تبدیل ہوتا ہے تو گرمی اور سردی کا اس کے نیورون پر کیا اثر ہوتا ہے۔ چھوے سے کیا ہوتا ہے۔ اس کو دھکا دیا جائے تو کیا ہو گا۔ لیکن اس کے بارے میں بھی بہت کچھ نامعلوم ہے۔ نر اور مادہ کے دماغ میں فرق ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ کیچوے کی “شخصیت” اور انفرادیت کہاں پر ہے۔ اس کے زندگی کے واقعات اس کو طویل مدت کے لئے کیسے متاثر کرتے ہیں۔
اور نہ ہی ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس نقشے کو بنانا کا اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ ایک سائنسدان کا کہنا تھا کہ اس کا یقینی طور پر وہ طریقہ کام نہیں کرے گا جو مصنوعی ذہانت (نیورل نیٹورک) بنانے کا ہے۔ یہ مکڑی کے جالے سے زیادہ مشابہت رکھے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال، ایک بار یہ نقشہ بن جائے تو پھر مشکل کام شروع ہوتا ہے۔
جسم کے کئی اعضا ہیں جن کو دیکھ کر بہت کچھ معلوم کیا جا سکتا۔ دل کے چار خانے ہیں۔ ان سے سراغ ملتا ہے کہ خون کس طرح جسم اور پھیپڑوں میں الگ الگ بھیجا جاتا ہے۔ یا پھر چھوٹی سطح پر چلے جائیں تو ڈی این اے کا مالیکیول بھی اپنے کام کرنے کا طریقہ بتا دیتا ہے۔ دماغ کا معاملہ الگ ہے۔ اس کو محض دیکھ کر کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ “سائکل چلانے کی مہارت” کہاں پر ملے گی۔
اس کے لئے کچھ اور چاہیے۔ یہ آپٹو جینیٹکس (optogenitics) ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں