ایرک بیٹزگ نے ہار مان لی تھی۔ چھ سال تک بیل لیبارٹری میں کام کرتے رہے تھے جہاں پر ان کا مقصد مائیکروسکوپ کو بہتر کرنا تھا۔ 1994 میں انہیں اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ ان کی تحقیق کے لئے فنڈ ملنا مشکل تر ہو رہا ہے اور ان کے سامنے تحقیق کے راستے بند نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کام بند کر دیا اور ملازمت چھوڑ دی۔
وہ اپنے والد کی کمپنی میں کام کر رہے تھے جو کہ مشینی اوزار بناتی تھی۔ یہاں پر انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ بزنس میں نیا آلہ بنانا کس قدر مشکل ہے۔ اسے نہ صرف اپنا کام کرنا ہے بلکہ لاگت میں بھی کم ہونا ہے، محفوظ ہونا ہے، قابل اعتبار ہونا ہے، اس کے ساتھ ترکیب استعمال بھی دی جانی ہے۔ 2002 میں انہوں نے یہ کام بھی چھوڑ دیا۔ 42 سال کی عمر کے بیٹزگ کے اب دو بچے تھے، بے روزگار تھے اور کسی ملازمت حاصل کرنے کے آثار بھی نہیں لگ رہے تھے۔ یقینی طور پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ نوبل انعام جیتنے کے راستے پر ہیں۔
انہوں نے بیل لیبارٹری کے پرانے دوست ہیرالڈ ہیس سے رابطہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہیس سے ہونے والی گپ شپ سے انہیں احساس ہوا کہ ہم دونوں ہی تجربات کرنے سے کتنا لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور مائیکروسکوپ پر تحقیق کس قدر مزیدار کام تھا۔
یہ وہ وقت تھا جب انہوں نے جی پی ایف پروٹین کے بارے میں پڑھا۔ اور احساس ہوا کہ یہ وہ گمشدہ ٹکڑا تھا جو کہ اگر مل جائے تو وہ مائیکروسکوپ کی دنیا میں کچھ نیا کر سکتے ہیں۔ ہیس غیرشادی شدہ تھے۔ ان کے سٹور میں بیل لیبارٹری کے وقت کا سامان پڑا تھا۔ اگرچہ آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور کامیابی کی امید مبہم تھی لیکن ان کے لئے یہ ایک جنون تھا اور زندگی میں ایک ہی بار ملنے والا موقع۔ ان کی بیوی نے اس کام کے لئے انہیں پچیس ہزار ڈالر دے دیے۔
کمرے کے قالین پر پلاسٹک بچھا کر اس پر سامان رکھا جاتا۔ گتے کے ڈبے میں آلات کو کمپیوٹر سے جوڑا جاتا۔ دن رات اس میں جٹے رہے۔ کئی بار ایک صوفے پر سو جاتا اور دوسرا اپنا کام جاری رکھتا۔ توجہ بٹانے والی کوئی شے نہیں تھی۔ انہوں نے ایسا مائیکروسکوپ تیار کرنا تھا جو کہ ایب کا قانون توڑ سکے۔
سبز جیلی فش کی پروٹین وہ اہم حصہ تھی جو کہ ان کا منصوبہ کامیاب بنا سکے۔ جب اس پر نیلی روشنی ڈالی جائے تو یہ روشن نظر آنے لگے۔ بیٹزگ اور ہیس کا بڑا آئیڈیا یہ تھا کہ نیلی روشنی سے نہلا دینے کے بجائے ہلکی نیلی روشنی کے مختصر فلیش کی مدد سے دیکھا جائے۔ اس طریقے سے صرف چند مالیکیول ایک وقت میں روشن ہوں گے۔ اور یہ فاصلے پر ہوں گے۔ ہر مالیکیول نیلی روشنی کے نقطے کے طور پر نظر آئے گا۔ ایب کے قانون کے مطابق یہ دھندلا عکس ہو گا لیکن اس کی ٹھیک پوزیشن معلوم کی جا سکے گی۔ بار بار یہ کیا جائے گا تو پھر ہر بار روشن ہونے والے مالیکیول فرق ہوں گے۔ اس طریقے سے آہستہ آہستہ کر کے ہر مالیکیول کی ٹھیک جگہ معلوم کی جا سکے گی۔ اور انہیں کمپیوٹر سافٹ وئیر کی مدد سے ایک تصویر میں اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اور یوں ایسی تصویر مل جائے گی جو کہ اس سے کہیں زیادہ ریزولیوشن کی ہو گی جسے ممکن سمجھا جاتا تھا۔
جلد ہی انہوں نے ابتدائی کام مکمل کر لیا۔ لیکن اس کو ٹیسٹ کرنے کے لئے انہیں ایک بائیولوجسٹ درکار تھا۔ یہ انہیوں جینیفر شوارٹز کی صورت میں مل گیا۔ جینیفر نے بیٹزگ کا لیکچر سنا تھا جس میں وہ اپنا خیال بتا رہے تھے۔ دو خبطی شخص جنہوں نے دس سال سے کوئی سائنسی مقالہ نہیں لکھا تھا۔ لیکن کام کے جنون میں جٹے تھے۔ جینیفر نے انہیں کام کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں جگہ بھی دلوا دی۔
اگلے چھ ماہ میں وہ ایسی مائیکروسکوپ تیار کر چکے تھے جو کہ زندہ خلیے میں مالیکیول دیکھ لیتی تھی۔
اسی وقت میں ہارورڈ یونیورسٹی میں چینی سائنسدان ژوانگ نے ایسی مائیکروسکوپ ایجاد کی۔ فرق یہ تھا کہ ژوانگ نے اس میں کیمیائی رنگ استعمال کیا تھا۔
جرمنی میں سٹیفن ہیل نے بھی نئی طرح کی مائیکروسکوپ تیار کی لیکن ان کا طریقہ بالکل مختلف تھا۔ ہیل کی مہارت فزکس میں تھی۔ انہوں نے روایتی مائیکروسکوپ کی حدود کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر دو مالیکیول کا فاصلہ روشنی کی ویولینتھ سے کم ہو جائے تو دونوں بیک وقت روشن ہو جائیں گے اور مائیکروسکوپ کے پاس انہیں الگ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہو گا۔ انہیں ایک اور تدبیر سوجھی۔
ہیلی کاپیٹر اپنی اڑان کے لئے گریویٹی کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ تیزی سے حرکت کرنے والے پنکھ وہ حربہ ہیں جو کہ اسے اٹھان دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کوانٹم آپٹکس کی مدد لی۔ ان کی مائیکروسکوپ میں لیزر کی دو شعاعیں ایک ہی جگہ پر پڑتی تھیں۔ دونوں کی فریکونسی الگ ہوتی تھی۔ یہ فزکس کے اصولوں کے تحت صرف اتنے حصے کو روشن کرتی تھیں جو کہ ایب کے قانون سے کم تھا۔
ہیل نے اپنا یہ اصول 1994 میں وضع کیا اور یہ مائیکروسکوپ 1999 میں تیار کی۔
بٹزک اور ہیل کو 2014 میں کیمسٹری کا نوبل انعام اس کام کر دیا گیا، جو کہ دلچسپ تھا۔ یہ کام فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کی فتح تھی اور اس میں کمپیوٹر سائنس، برقیات اور ریاضی نے بھی اپنا کام کیا تھا۔ اور ان سائنسدانوں میں سے کوئی بھی کیمسٹ نہیں تھا۔
Post Top Ad
Your Ad Spot
جمعہ، 24 اکتوبر، 2025
جسم کے راز (6) ۔ نئی مائیکروسکوپ
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں