اوسامو شیمومورا 1960 کی دہائی میں اپنی اہلیہ اکیومی کے ساتھ پرنسٹن یونیورسٹی میں کام کرنے والے خاموش محقق تھے۔ وہ موسم گرما میں سان جوآن جزائر کا سفر کرتے تھے تاکہ جیلی فش اکٹھی کر سکیں۔ ان کے بچوں نے بھی مدد کی۔ مقامی لوگ کبھی کبھار حیران ہوتے تھے کہ یہ خاندان اپنے جال اور بالٹیوں کے ساتھ اتنی زیادہ جیلی فش کیوں اکٹھی کر رہا ہے۔ 1955 میں، یہ جیلی فش اپنے چھتری نما جسم کے کنارے پر سبز چمک خارج کرتی ہوئی دیکھی گئی تھیں۔ شیمومورا اس حیاتیاتی عمل کو سمجھنا چاہتے تھے جو انہیں چمکدار بناتا تھا۔ جگنو، کیڑے اور گہرے سمندر کی مچھلیاں – ساتھیوں کو راغب کرنے، شکاریوں کو خبردار کرنے اور ایسے طریقوں سے بات چیت کرنے کے لیے روشنی کا استعمال کرتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کیسے یا کیوں ہوتا ہے۔ شیمومورا اس کے بنیادی اصول جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالآخر، جیلی فش کے خلیوں سے نکالے گئے عرق کا مطالعہ کرتے ہوئے شیمومورا نے دو قسم کے پروٹین مالیکیول کی نشاندہی کی جو جیلی فش کے خلیوں کو چمکدار بناتے ہیں۔ ایک کیلشیم کی موجودگی میں نیلی روشنی خارج کرتا ہے اور دوسرا نیلی روشنی کو جذب کر کے سبز روشنی خارج کرتا ہے۔ یہ دوسرا پروٹین، جسے بعد میں گرین فلوروسینٹ پروٹین یا GFP کا نام دیا گیا، مائیکروسکوپی میں اتنا اہم کردار ادا کرنے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے کئی سال بعد، 25 اپریل 1989 کو کولمبیا یونیورسٹی میں مارٹن چلفی ایک لیکچر میں بیٹھے تھے جس میں شیمومورا کے کام کا ذکر کیا گیا تھا۔ چلفی نے فوراً تصور کرنا شروع کر دیا کہ اس سبز چمکدار پروٹین کو دوسرے جانوروں کے خلیوں کے اندر استعمال کر کے مخصوص قسم کے خلیوں یا یہاں تک کہ خلیوں کے اندر موجود بعض مالیکیولز کے مقام کو کیسے نمایاں کیا جا سکتا ہے۔ چلفی ایک چھوٹے کیڑے کا جس کا وہ مطالعہ کر رہے تھے جہاں پر یہ کام آ سکتا تھا۔ گوگل اور وکیپیڈیا کے دور سے پہلے، انہوں نے اگلے دن لوگوں کو فون کرنے میں گزارا تاکہ وہ اس کے بارے میں سب کچھ معلوم کر سکیں۔
ان لوگوں میں سے ایک جس کو انہیں فون کیا، وہ ڈگلس پراشر تھے جو سمندری مخلوقات پر تحقیق کر رہے تھے۔ اور اس جین کی شناخت پر کام کر رہے تھے جو GFP کی پیداوار کے لیے ہدایات رکھتا تھا۔ یہ 1992 میں جا کر ممکن ہوا۔ یہ الگ کر لیا گیا اور پراشر نے چلفی کو یہ جین بھیج دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلفی کی لیب میں ہونے والا اگلا کام یہ تھا کہ انہوں نے دریافت کیا کہ جیلی فش کی اس جین کو واقعی دوبارہ استعمال کر کے بیکٹیریا یا کیڑے کو سبز چمکدار بنایا جا سکتا ہے۔ یہ کرنے والی سائنسدان پی ایچ ڈی کی طالبہ، چھبیس سالہ غیا یوسکرچن تھیں۔ بیکٹیریا کی سبز چمک اتنی مدھم تھی کہ چلفی کا لیب مائیکروسکوپ پہلے اسے پکڑ نہیں سکا تھا۔ خوش قسمتی سے، انہوں نے ایک دوسری لیب میں مائیکروسکوپ پر دوبارہ جانچ کی اور دریافت کیا کہ ان کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔
یہ پہلے ہی ثابت ہو چکا تھا کہ جینز کو انواع کے درمیان منتقل کیا جا سکتا ہے – کیونکہ جینز کی بنیادی کیمسٹری زمین پر موجود تمام زندگی میں یکساں ہے – لیکن یہ حقیقت کہ کسی جاندار کو سبز چمکدار بنانے کے لیے صرف ایک جین کی ضرورت تھی، یہ ایک اہم انکشاف تھا۔ چلفی کی لیب نے پہلی بار ان نتائج کو اکتوبر 1993 کے شمارے میں بیان کیا۔ انہوں نے لکھا: "ہمارے پاس بہت سے خیالات ہیں کہ جی ایف پی کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس بہت سے مزید خیالات ہوں گے۔ اگر آپ اس جین کو حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو براہ کرم ہمیں لکھیں”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب چلفی نے پہلی بار اپنے یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ میں دوسروں سے اس کے بارے میں بات کی تو بہت کم لوگوں نے اس کی صلاحیت کو سمجھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ جب آپ پہلی بار کسی نئی چیز کے بارے میں سنتے ہیں تو اس کی مکمل اہمیت کا احساس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اس سے اگلا قدم اٹھانے والی ان کی اہلیہ ٹولے ہیزلریگ تھیں۔ ان کی لیبارٹری میں وہ بڑا قدم اٹھایا گیا جس نے اس جین کو ایک اور کے ساتھ جوڑ کر ایک مفید آلہ بنا دیا جو کہ اس پروٹین کو ایک اور پروٹین سے جوڑ دیتا تھا۔ سبز چمکنے والی جیلی فش پروٹین کو خلیے میں داخل کر کے ننھے پیمانے پر زندگی کو دیکھنے کا “حیاتیاتی لیزر پوائنٹر” بن گیا۔
بالآخر، سبز جیلی فش پروٹین کو خمیر سے لے کر انسانوں تک، ہر طرح کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے لیے تجربات کی ایک وسیع قطار میں استعمال کیا جانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2008 میں، شیمومورا اور چلفی، کو روجر تسیئن کے ساتھ (جنہوں نے جی پی ایف کی چمک کو بہتر بنایا اور مختلف رنگوں میں چمکنے کے لیے دوسرے پروٹین تیار کیے) کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔
کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ جیلی فش پر کی گئی تحقیق حیاتیات کی اتنی ساری شاخوں کے لیے اتنی قیمتی چیز کا باعث بنے گی۔ سائنسی کامیابیاں ہر طرح کے طریقوں سے ہوتی ہیں۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں، شیمومورا نے نوٹ کیا کہ 1990 کے بعد جیلی فش ان پانیوں میں بہت کم رہ گئی تھیں جہاں وہ انہیں اکٹھا کیا کرتے تھے، شاید آلودگی کی وجہ سے۔۔۔ تاہم، اگر جیلی فش وہاں سے تیس سال پہلے غائب ہو چکی ہوتی، تو وہ کبھی بھی GFP دریافت نہ کر پاتے۔
اور اگر شیمومورا نے کبھی GFP دریافت نہ کیا ہوتا، تو شاید زندگی پر تحقیق کرنے والا غیر معمولی نیا طریقہ کبھی بھی نہ بن پاتا۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
Your Ad Spot
جمعہ، 24 اکتوبر، 2025
جسم کے راز (5) ۔ سبز پروٹین
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں