باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

منگل، 11 نومبر، 2025

جسم کے راز (22) ۔ پیپسی یا کوک؟ توقع کا ذائقہ


فنکشنل ایم آر آئی سے انسانی دماغ پر دلچسپ تجربے کئے گئے ہیں جن میں وہ تجربہ بھی شامل ہے جو کہ عصر حاضر کے بڑے اہم مباحثے کو سمجھنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ یہ کوک اور پیپسی کا مقابلہ ہے۔ 
کیمیائی طور پر، یہ دونوں مشروبات بہت ملتے جلتے ہیں، پھر بھی بہت سے لوگ ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ ایسا کیوں ہے، سائنس دانوں نے لوگوں کے دماغی سرگرمی کو اس وقت اسکین کیا جب وہ ان مشروبات کو پی رہے تھے۔ اس مشین میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کونسا حصہ کس وقت فعال ہے۔ اور اس کے ذریعے آپ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس وقت ذہن میں احساس کیا ہے۔ تو ہم یہ معلوم کر سکتے تھے کہ آخر کسی ایک مشروب کو ترجیح دینے والے دماغ میں دوسرے کے مقابلے میں فرق کیا ہے۔
اس سے نکلنے والا نتیجہ ایک دلچسپ چیز سامنے لایا۔ حیرت انگیز طور پر، لوگوں کے دماغ کے وہ حصے جو مشروب چکھتے وقت فعال تھے، اس بات کا انحصار اس پر نہیں تھا کہ وہ کون سا برانڈ پی رہے تھے۔ بلکہ اس کا انحصار اس بات پر تھا کہ آیا کہ انہیں علم ہے کہ وہ کون سا برانڈ پی رہے ہیں۔ 
اگر انہیں پہلے ہی معلوم ہو کہ وہ کون سا برانڈ چکھ رہے ہیں، دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی بڑھاتا تھا جو یادوں اور عقلی کنٹرول سے وابستہ ہے۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ کوک پسند کرنے والے لوگوں نے کوک کو زیادہ پسند اس وقت کیا جب کہ وہ جانتے تھے کہ یہ کوک ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح، ایک اور مطالعہ سے پتہ چلا کہ لوگوں نے ایک مشروب کا ذائقہ اس وقت زیادہ پسند کیا جب کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ مہنگا مشروب ہے۔ دماغ کا ایک حصہ جو خوشگواری کا تجربہ کرنے میں حصہ رکھتاہے، اس وقت زیادہ فعال تھا جب انہیں معلوم تھا کہ مشروب کی قیمت زیادہ ہے۔ واضح طور پر، مشروبات کے لیے ہماری ترجیحات صرف اس بات پر مبنی نہیں ہیں کہ انکا ذائقہ کیسا ہے، بلکہ اس میں ہماری توقعات اور احساسات کا ذائقہ بھی شامل ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے ارد گرد کی دنیا کو محسوس کرتے ہیں لیکن ہم جو کچھ بھی اس دنیا کا ہمارا تجربہ اور احساسات مکمل طور پر ہمارے دماغوں میں تخلیق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، روشنی ایک الیکٹرومیگنیٹک لہر ہے۔ اس کا کوئی رنگ نہیں۔ رنگ ہمارے دماغ کا تخلیق کردہ احساس ہے جو اس کی فریکوئنسی کی ترجمانی کرتا ہے۔ باہر کی دنیا میں جو چیزیں ہم دیکھتے ہیں وہ وجود رکھتی ہیں۔ لیکن غروب آفتاب کا منظر، قوس قزح کا تماشا اور جس طرح ہم کسی دوسرے شخص کی تصویر بناتے ہیں، وہ سب ہمارے اپنے سر کے بیچ کی تخلیق ہیں۔ اسی طرح، پیپسی، کوک اور مختلف مشروبات سب محض مالیکیولز کا مرکب ہیں؛ ان کے ذائقے اور ہماری ترجیحات ہمارے دماغوں میں تخلیق ہوتی ہیں۔ جیسا کہ مورفیئس نے 1999 کی سائنس فکشن فلم دی میٹرکس میں نیو کو سمجھایا تھا: “حقیقی محض وہ برقی سگنلز ہیں جن کی تمہارا دماغ ترجمانی کرتا ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
fMRI کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے مطالعے دلچسپ چیزیں ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے دماغ کے کون سے حصے ہمارے رویوں اور احساسات میں شامل ہیں۔ لیکن وہ بھی اس بات تک نہیں پہنچ پاتے کہ دماغ اصل میں کیسے کام کرتا ہے۔ fMRI اور دیگر امیجنگ تکنیک انفرادی نیوران کی سرگرمی کو نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کے دماغی سرگرمی کے نقشے ایک نفیس شماریاتی تجزیہ کا نتیجہ ہیں جو دماغ کو ایک معکب ملی میٹر کے مکعب کی سیریز کے طور پر تقسیم کر کے تجزیہ کرتا ہے۔ ہر مکعب میں تقریباً دس لاکھ نیوران شامل ہوتے ہیں۔ ان سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دماغ کا ایک علاقہ بڑھی ہوئی سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ بتانا ممکن نہیں کہ کون سے مخصوص نیوران فائر کر رہے ہیں یا اس کے کیا نتائج ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، جہاں تفصیلی پیمانے کا نظارہ بہت قریب سے ہے، fMRI اسکینز کے ساتھ ہم بہت دور سے دیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)


تحریر: وہارا امباکر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں