1873 میں اطالوی سائنسدان کامیلو گولجی نے دریافت کیا کہ کیمیکلز (سلور نائٹریٹ اور پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ) کی مدد سے خلیوں کے بیرونی کنارے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے وہ ایک مائیکروسکوپ کے نیچے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ پندرہ سال بعد، ہسپانوی سائنس دان رامون وائی کاہال نے ان کیمیکلز کا استعمال دماغ کے ٹکڑوں پر اور ایک بنیادی دریافت کی۔ اس وقت تک یہ واضح نہیں تھا کہ دماغ کس چیز سے بنا ہے۔ گولجی کا خیال تھا کہ یہ ریشوں کے ایک مسلسل نیٹ ورک سے بنا ہے۔ لیکن رامون وائی کاہالنے دیکھا کہ یہ درست نہیں، بلکہ دماغ الگ خلیوں – نیورانز – سے ملکر بنا ہے۔ جہاں دو انفرادی نیوران جڑتے ہیں، وہاں خلیوں کے کناروں کے درمیان ایک ننھا سا خلا موجود ہے۔ یہ سائنیپس (synapse) – جسے اب ہم وہ جنگشن سمجھتے ہیں جہاں کیمیائی اور برقی سگنلز ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں منتقل ہوتے ہیں۔ گولجی اور کاہال اس پر اختلاف کرتے رہے۔ جو کہ تلخ ہو گئے۔ دونوں سائنسدان صرف ایک بار ملے، جب انہیں 1906 میں ایک ساتھ نوبل انعام ملا۔ گولجی نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ دماغ نیورون سے ملکر بنا ہے۔ اور یہ دعوٰی انہوں نے نوبل انعام کی تقریر میں بھی دہرایا لیکن بہرحال، وہ اس معاملے میں ٹھیک نہیں تھے۔
یہ دریافت کہ دماغ الگ خلیوں سے بنا ہے جو سائنیپس کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، اس عضو کو سمجھنے کی بنیاد ہے، اور اس نے دیگر چیزوں کے علاوہ دماغی سرجری اور اعصابی ادویات کے علاج کے امکانات کو بھی کھول دیا۔
"اب، ڈیڑھ صدی کے بعد سائنیپس کا شاندار تفصیل سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ پروٹین مالیکیولز جو وہاں جمع ہوتے ہیں، ہر ایک کو الگ کیا جا سکتا ہے اور انفرادی ایٹموں کی سطح پر جانچا جا سکتا ہے۔ اس طرح، مثال کے طور پر، ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح منشیات ان مخصوص ریسپٹر پروٹینز سے چپک جاتی ہے جو سیروٹونن کا پتہ لگاتے ہیں۔ یا کس طرح ایک اینٹی سائیکوٹک دوا ڈوپامائن کے ریسپٹر سے جڑتی ہے۔ تفصیل کی یہ سطح ہمیں نئی اور بہتر ادویات ڈیزائن کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
لیکن اس قسم کا تفصیلی نظارہ یہ بالکل بھی ظاہر نہیں کرتا کہ دماغ اصل میں کام کیسے کرتا ہے۔ اس کو اتنا قریب سے دیکھ کر تجزیہ کر کے یہ امید رکھنا کہ دماغ کو سمجھا جا سکے گا۔۔ یہ ویسے ہے، جیسے لیونارڈو کے پینٹ کی کیمسٹری کا تجزیہ کرکے مونا لیزا کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس لئے لئے وسیع نقطہ نظر درکار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ کو دیکھنے کا وسیع نقطہ نظر فنکشنل میگنیٹک ریزوننس امیجنگ، یا fMRI کی مدد سے دستیاب ہے۔ اس کے ذریعے ہم ایک شخص کی دماغی سرگرمی کی تصویر بنا سکتے ہیں۔ ایک شخص اپنے سر کو ایک کئی ملین ڈالر کی بڑی ڈونٹ کی شکل والی مشین کے سوراخ میں رکھ کر لیٹ جاتا ہے۔ دماغ کے اندر خون کے بہاؤ کا پتہ لگانے کے لیے ایک مضبوط مقناطیسی میدان کا استعمال کرتی ہے۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں کا وہ جزو ہے جو آکسیجن کو لے کر جاتا ہے اور درکار جگہ پر اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر اس کے پاس آکسیجن ہو تو اس کی مقناطیسی خصوصیات قدرے مختلف ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اسکین سے دماغ کی وہ تصویر بنائی جا سکتی ہے جس میں ایک مخصوص محرک یا تجربے کے جواب میں دماغ کا ایک حصہ 'روشن' ہو جاتا ہے کیونکہ خون کا بہاؤ اس طرف ہو جاتا ہے۔
یہ ہائی ٹیک آلہ ان گنت تجربات میں استعمال کیا گیا جا چکا ہے۔
Post Top Ad
Your Ad Spot
منگل، 11 نومبر، 2025
جسم کے راز (21) ۔ دماغ کا نظارہ
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں