باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 14 نومبر، 2025

جسم کے راز (25) ۔ دماغ پر روشنی

 


دہائیوں سے سائنسدان یہ عقدہ حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر یک خلوی جانور سبز الجی کیسے روشنی کی طرف حرکت کرتا ہے۔ اس کی “بصارت” کا راز کیا ہے؟ اس کا جواب 2003 میں سامنے آیا۔ جرمنی کی ایک ٹیم نے اس کے خلیے میں ایک پروٹین دریافت کیا۔ یہ پروٹین الجی کی سطح پر ہوتا ہے۔ اور جب اس پر روشنی پڑے تو یہ چھوٹا سا سوراخ بنا لیتا ہے۔ اس کے بعد ہونے والے واقعات کا خلاصہ یہ ہے کہ روشنی کی وجہ سے برقی رو پیدا ہوتی ہے اور نتیجے میں خلیے اس سمت کی طرف حرکت کرتا ہے۔ روشنی سے کسی چیز کو متحرک کر دینے کا شعبہ آپٹو جینیٹکس کا ہے۔ یہ کام کرنے والے نوجوان سائنسدان بویڈین اور ڈیسروتھ تھے۔ 
مارچ 2004 کو ڈیسروتھ نے الجی کی تحقیق کرنے والے سائنسدان سے رابطہ کیا۔ 4 اگست 2004 کو بویڈین پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے کامیاب تجربہ کر لیا جس میں نیورون نیلی روشنی پڑنے پر برقی رو پیدا کرتا تھا۔ اگلے دو سال میں یہ کام کئی ٹیمیں کر چکی تھیں اور 2006 میں آپٹو جینیٹکس کی اصطلاح ایجاد کی گئی۔
اگلے کئی سال ڈیسروتھ نے اس کوشش میں گزارے کہ ایک زندہ جاندار کے اندر اس کام کو کیا جا سکے۔ دو بڑے مسائل تھے۔ پہلے تو یہ کہ الجی کی پروٹین کو دماغ کے نیورون میں لے کر جانا۔ دوسرا یہ کہ ایک مخصوص نیورون کو دماغ کے اندر روشنی سے ٹارگٹ کرنا۔ 
پہلے کے لئے جینیاتی حربے استعمال کیے گئے۔ جین کو وائرس میں ڈال کر چوہے میں انجیکٹ کیا گیا۔ دوسرے کے لئے فائبر آپٹکس کام آئیں۔ ایک طرف لیزر اور دوسرے طرف مطلوب ہدف جس تک سرجری کے ذریعے پہنچایا گیا۔ چوہا حرکت تو کر سکتا تھا لیکن فائبر آپٹکس کے پتلی سی تار اس کے سر سے لگی ہوتی ہے۔
اب دماغ تک روشنی پہنچا کر چوہے پر اثرانداز ہوا جا سکتا تھا۔ اور اس تکنیک کی مدد سے پہلے بار دماغ کے بارے میں وسیع تناظر میں معلومات لی جا سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
اس پر ہونے والا کام انسانوں پر نہیں، چوہوں پر ہی ہوا ہے۔ اور وہ بھی ان کے قدرتی ماحول میں نہیں۔ لیکن پھر بھی بہت دلچسپ معلومات مل رہی ہیں۔ مثلا، چوہوں پر یہ معلوم کیا گیا کہ کوکین کی وجہ سے دماغ پر کیا اثر ہوتا ہے۔ اور پھر 2013 میں بونکی اور ان کی ٹیم نے سان فرانسسکو میں یہ دکھایا کہ آپٹوجینیٹکس سے چوہوں میں کوکین کی لت کیسے چھڑوائی جا سکتی ہے۔ 
انسان اور چوہوں کے دماغ بہت مختلف ہیں لیکن بہت کچھ مشترک بھی ہے۔ دماغ کا بنیادی سٹرکچر ایک سا ہے اور کئی پاتھ وے ایک ہی ہیں۔ لذت کا احساس ایک ہی طرح سے ہوتا ہے (یہ انعامی پاتھ وے ہے) اور منشیات اس پاتھ وے کو ہیک کر لیتی ہیں۔ 
آپٹوجینیٹکس کو انسانی دماغ پر استعمال تو نہیں کیا جا سکتا (اس کے لئے دماغ میں جینیاتی تبدیلی درکار ہے) لیکن اس کی جگہ پر مقناطیسی طریقہ (TMS) استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 2016 میں کوکین کے عادی افراد کا نشہ چھڑوانے کے لئے یہ کام کیا گیا۔ اور نتائج واضح تھے۔ نشے کی طلب میں واضح کمی دیکھنے کو ملی تھی۔ بہرحال، ہم ابھی اس کے عملی طبی استعمال سے بہت دور ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ابھی “سائکل چلانے کی مہارت” کو سمجھنے کے قریب نہیں اور جلد اس کا کوئی امکان بھی نہیں۔ لیکن جس طرح ٹیکنالوجی آگے بڑھتی رہی، توقع ہے کہ موجودہ علم بہتر ہوتا جائے گا۔ اگر ایسا ہو سکا تو پھر نفسیاتی عوارض اور ذہنی صحت کے میدان میں اچھی پیشرفت ہو سکتی ہے لیکن یہ ساتھ ہی ساتھ کچھ اور دروازے کھول سکتا ہے جو کہ بہت متنازعہ بھی ہو سکتے ہیں۔
موجودہ سائنس میں “ذہانت” ایک طرح کا ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعریف کرنا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ اور اسے ماپنا تو بہت دور کی بات ہے۔ (ذہانت کے ٹیسٹ صرف یہی بتاتے ہیں کہ کوئی شخص اس والے ٹیسٹ میں کتنا اچھا ہے)۔ تحقیق ہمیں اس میدان کی جانب لے جا سکتی ہے۔ فی الحال، ہماری کمزوریاں، ہماری خود پسندی اور فخر، ہماری محبت و نفرت کی صلاحیت ہمارے دماغ کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔ یہ وہ بند کمرہ ہے جس میں ہم جھانگ نہیں سکتے۔ یہ ایک ایسا کوڈ ہے جسے ابھی کریک کرنا باقی ہے۔ ایک ایسی دہلیز ہے جسے ابھی عبور نہیں کیا گیا ہے، لیکن کیا یہ صرف وقت کی بات ہے؟ ایک مکالمہ، کتاب، گانا یا فلم۔۔۔ بہت سی چیزیں ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ اور بہت سے لوگ ہمیں متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ اچھے یا برے کے لئے۔  مصنوعات بیچنے والے اشتہار ہوں۔۔ سیاسی نظریات میں ہمیں اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنے والے، مبلغین، جرائم روکنے والے یا جرائم کا ارتکاب کروانے والے ۔۔۔۔ ان سب کی دلچسپی ہمارے دماغ میں اپنی من پسند تبدیلی سے ہے۔ اور دماغ کے بارے میں زیادہ علم ان کے حربوں کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں کسی وقت میں  ۔۔۔  انسانی دماغ کے بارے میں ہماری سمجھ ایک اگلی سطح پر ہو گی۔ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ہونے والے اثرات معمولی نہیں ہوں گے۔ اس وقت ہم اندھیرے میں ٹٹول رہے ہیں۔  یہ کہنا مشکل ہے کہ بیس، پچاس یا ایک ہزار سال بعد۔۔۔ کب یا کیا ہو گا۔ لیکن دماغ کے رازوں کا کسی بھی حد تک افشا ہونا بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں