باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعرات، 20 نومبر، 2025

جسم کے راز (27) ۔ آنتوں کے بیکٹیریا اور موٹاپا

 

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کی ساخت کا تعلق جین، خوراک اور ورزش سے ہے۔ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں ایک بڑا عنصر بھی ہے: آنتوں کے بیکٹیریا۔ اس سائنسی دریافت کی ابتدا 2004 میں واشنگٹن یونیورسٹی میں ہوئی، جہاں جیفری گورڈن کی لیبارٹری میں ایک محقق نے کچھ غیر متوقع اور اہم مشاہدہ کیا۔
فریڈرک بیکہیڈ اس بات سے حیران ہوئے تھے کہ وہی بیکٹیریا جو ہماری آنت میں مزے سے بے ضرر طریقے سے رہتے ہیں، اگر وہی بیکٹیریا جسم کے کسی دوسرے حصے، جیسے کہ پیشاب کی نالی میں پائے جائیں تو بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ آنت میں بیکٹیریا کا پتا لگانے اور ان کنٹرول کرنے کے طریقے جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں کچھ مختلف ہوں گے۔ انہوں نے گورڈن کے ساتھ ملکر  پلان کیا کہ اس بات پر تحقیق کریں کہ جراثیم کسی جانور کے میٹابولزم کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ گورڈن نے تجویز دی کہ وہ پہلے ایک بہت ہی سادہ چیز دیکھیں: آیا کسی جانور کے جسم میں چربی کی مقدار اس کی آنت میں کسی بھی بیکٹیریا کی موجودگی سے کس طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہوں کی آنت میں دیگر جانوروں کی طرح بہت سے بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ لیکن لیبارٹری میں، چوہوں کو جراثیم سے پاک ماحول میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ چوہے ایک سیل بند پلاسٹک انکلوژر میں پیدا ہوتے ہیں اور پالے جاتے ہیں اور انہیں خاص خوراک کھلائی جاتی ہے جس میں جراثیم نہیں ہوتی۔ ان کو 'جراثیم سے پاک چوہوں’ کا “سائنسی” نام دیا جاتا ہے۔
بیکہیڈ نے 2004 میں جو مشاہدہ کیا وہ یہ تھا کہ جراثیم سے پاک چوہے ایک عام لیب کے ماحول میں پالے گئے چوہوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دبلے تھے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ، جب اس نے جان بوجھ کر جراثیم سے پاک چوہوں کو بیکٹیریا سے متاثر کیا، تو ان کا وزن بڑھنا شروع ہو گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے زیادہ کھانا شروع کر دیا لیکن وہ موٹے ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر، یہ نتائج بتاتے کہ مائکروبز براہ راست کسی جانور کے جسمانی وزن کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ جراثیم سے پاک چوہے قدرتی طور پر نہیں پائے جاتے، اس لیے ان کے وزن میں اتار چڑھاؤ کسی اور چیز کے محض ضمنی اثرات ہو سکتے تھے۔ ایک براہ راست ربط قائم کرنے کے لیے ایک مختلف قسم کے ثبوت کی ضرورت تھی، اور یہ گورڈن کی ٹیم میں ایک محقق روتھ لی کی طرف سے آیا۔
اپنے تجربے میں، جراثیم سے پاک چوہوں کے بجائے اس نے ایک مخصوص جینیاتی تغیر والے چوہے استعمال کیے۔ یہ تغیر موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔ ان چوہوں میں لیپٹن نامی ہارمون کی پیداوار کے ذمہ دار جین کا ایک غیر فعال ورژن تھا،۔ اس ہارمون کی کمی چوہے کو اس کی ضرورت سے زیادہ توانائی اپنی خوراک سے لینے کا سبب بنتی ہے۔ اس جینیاتی تغیر والے چوہوں کے مائکروبایوم کا مطالعہ کرنے اور بغیر تغیر والے چوہوں کے مائکروبایوم سے موازنہ کرنے سے، لی نے معلوم کیا کہ موٹے چوہوں کی آنت میں بیکٹیریا کا ایک منفرد مرکب موجود تھا۔ یہاں تک کہ ان چوہوں کے درمیان بھی، جنہیں بالکل ایک ہی خوراک دی گئی تھی اور وہ بالکل ایک ہی ماحول میں رہ رہے تھے۔  وہ چوہے جنہوں نے یہ جینیاتی تغیر وراثت میں حاصل کیا تھا، اپنے بہن بھائیوں سے مختلف مائکروبایوم رکھتے تھے۔
یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے مائکروبایوم اور ان کے جسمانی وزن میں تبدیلیاں دونوں اس جینیاتی تغیر کی وجہ سے الگ الگ طور پر ہوئی ہوں، لیکن زیادہ امکان یہ لگتا تھا کہ دونوں کا آپس میں تعلق تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ اس تغیر نے چوہوں کو موٹا کیا، جس کے نتیجے میں ان کا مائکروبایوم بدل گیا، یا یہ کہ تغیر نے مائکروبایوم کو متاثر کیا، جس کے بعد چوہوں کا وزن بڑھ گیا۔ گورڈن کی لیب میں اگلے تجربات نے اسکا جواب دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لی اور گورڈن کی لیب میں کام کرنے والے ایک اور محقق پیٹر ٹرنمباف نے ان چوہوں سے بیکٹیریا لے کر جراثیم سے پاک چوہوں میں منتقل کیا۔ حیرت انگیز طور پر، جن چوہوں کو زیادہ وزن والے چوہوں سے جراثیم ملے، انہوں نے دبلے پتلے چوہوں سے جراثیم دیے گئے چوہوں کے مقابلے میں بہت زیادہ وزن بڑھایا۔ زیادہ وزن والے چوہوں سے بیکٹیریا لینے کے دو ہفتوں بعد، ان کے جسم کی چربی میں اوسطاً 47 فیصد اضافہ ہوا۔ جنہیں دبلے پتلے جانوروں سے جراثیم دیے گئے، انہوں نے بھی اپنی جسمانی چربی میں اضافہ کیا، لیکن بہت کم۔
ان نتائج نے ظاہر کیا کہ آنتوں کے جراثیم براہ راست چوہوں کے سائز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کا تعلق اس بات سے بالکل نہیں تھا کہ انہوں نے کتنا کھانا کھایا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔
جراثیم کا تفصیل سے تجزیہ کرکے، ٹیم نے معلوم کیا کہ موٹے چوہوں سے بیکٹیریا کا ایک بڑا حصہ ایسے انزائمز پر مشتمل تھا جو ایسی شکر کو توڑتے ہیں جو دوسری صورت میں ہضم نہ ہونے والی ہوتی ہیں۔ اس نے معلوم ہوا کہ موٹے چوہوں کی آنت میں جراثیم چوہے کو خوراک سے زیادہ توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت دے دیتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اسی قسم کے بیکٹیریا بعد میں موٹے انسانوں میں بھی زیادہ پائے گئے۔ 
اگلی کی جانے والے تحقیق میں لی نے دکھایا کہ موٹے انسانوں سے جراثیم لئے جائیں تو یہ بھی جراثیم سے پاک چوہوں کا وزن دبلے پتلے لوگوں سے لئے گئے جراثیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس سے ایک بڑا خیال پیدا ہوا۔۔ کہ کسی شخص کے آنتوں کے جراثیم کا ماحول اس بات کو متاثر کر سکتا ہے کہ خوراک سے کتنی توانائی نکالی جاتی ہے، اور یہ چیز کسی شخص کے جسمانی وزن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ 
اس بنیادی دریافت نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے نئے امکانات کا اشارہ دیا، لیکن ابھی اس تک پہنچنے کے لئے ایک مزید قدم کی ضرورت تھی۔
(جاری ہے)



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں