باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

ہفتہ، 22 نومبر، 2025

جسم کے راز (28) ۔ غذائیں


گلیسیمک انڈیکس (glycaemic index) کھانے کی درجہ بندی کا طریقہ ہے جو کہ 1981 میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں ڈیوڈ جینکنز کی ٹیم کی تحقیق سے آیا۔  اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ = خوراک کا ہماری بلڈ شوگر کی سطح پر اثر کس طرح کا ہوتا ہے۔ جینکنز نے لوگوں کے چھوٹے گروہوں کو رات بھر کچھ کھانے سے منع کیا۔ پھر ایک مخصوص خوراک کھلا کرِ دو گھنٹوں میں ان کے بلڈ شوگر کی سطح کو ماپا۔ ہر قسم کے کھانے کو اس بات کے مطابق ایک سکور دیا گیا کہ اس نے کاربوہائیڈریٹ کی فی یونٹ ان سطحوں کو کتنا بڑھایا۔ چینی کو 100 کے سکور کے ساتھ معیار بنایا گیا۔ شہد کا سکور 87، مکئی کا 59، ٹماٹر کے سوپ کا 38 تھا۔ اہم بات یہ کہ اس میں کھانے کی درجہ بندی اس بنیاد پر نہیں تھی کہ یہ کس قسم کا ہے، بلکہ اس بات پر کہ یہ انسانی جسم کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ آج، ہر قابل تصور خورد چیز کا اس طرح تجزیہ کیا گیا ہے۔ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہائی گلیسیمک انڈیکس والی غذاؤں سے پرہیز کریںِ۔ کم گلیسیمک انڈیکس والی غذاؤں سے توانائی کو آہستہ آہستہ جذب ہوتی ہے، جس سے ہمیں زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تاہم، یہ اتنا سادہ نہیں۔ مثال کے طور پر، 1981 کے تجزیے کے مطابق، گلیسیمک انڈیکس پر گاجر روٹی سے کہیں زیادہ سکور کرتی ہے کیونکہ گاجر کے کاربوہائیڈریٹ کی ایک مخصوص مقدار روٹی کے کاربوہائیڈریٹ کی اتنی ہی مقدار سے کہیں زیادہ بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ کا سبب بنتی ہے، لیکن روٹی کے برابر کاربوہائیڈریٹ لینے کے لیے بہت بڑی تعداد میں گاجریں کھانی پڑیں گی۔ ایک اور سکور جسے گلیسیمک لوڈ (glycaemic load) کا ہے۔ کھانے کے گلیسیمک انڈیکس کو اس کے کل کاربوہائیڈریٹ دیا جاتا ہے۔ یہ گاجر کو روٹی کے مقابلے میں بہت کم سکور دیتا ہے۔ 
(نہ ہی گلیسیمک انڈیکس اور نہ ہی گلیسیمک لوڈ ایک خوراک کے وٹامن اور منرل کو مدنظر رکھتا ہے۔ بہرحال، اس قسم کی تفصیلات کے باوجود ان اور دیگر انتباہات کے باوجود وزن کم کرنے کے لئے بے شمار غذائی پلان کھانے کی درجہ بندی کے ان طریقوں پر بنائے گئے ہیں)۔"
دنیا کے کئی حصوں میں، وزن کا بڑھنا اچھی خبر ہے: کئی پسماندہ ممالک میں بچوں کی ناکافی غذائیت بڑا مسئلہ ہے جس وجہ سے ہر سال ایک بچوں میں بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، دنیا بھر میں موٹے بچوں (اور بڑوں) کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔  بہت سے ممالک میں وزن کم کرنے کی صنعت اب بہت بڑی ہے۔
ایک جزوی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایک غذائی پلان سب کے لئے کام نہیں کرتا۔ جو ایک شخص کے لیے کام کرتا ہے وہ ضروری نہیں کہ ہر دوسرے شخص کے لیے بھی موثر ہو۔ ہم سب ایسے لوگوں کو جانتے ہوں گے جو کچھ بھی کھا لیں، ان کا وزن زیادہ نہیں بڑھتا۔ یہ تغیر کنٹرول شدہ تحقیق میں بھی ثابت ہوتا ہے۔ بارہ ماہ تک جاری رہنے والے سٹڈی بتاتی ہے کہ مختلف غذائی پلان میں ہر شخص کا انفرادی ردعمل بہت زیادہ مختلف تھا؛ کچھ کا وزن بڑھا اور کچھ کا کم ہوا، کچھ کا تھوڑا، کچھ کا بہت زیادہ۔ اس فرق پر تحقیق میں ارن ایلیناو نے ایک اہم دریافت کی۔
ارن ایلیناو طبی ڈاکٹر تھے جو تحقیق کی طرف آئے۔ ان کی مہارت امیونولوجی (دفاعی نظام) میں تھی۔ ان کی توجہ مائکروبایوم کی طرف ہو گئی۔ 2012 سے انہوں نے خوراک، موٹاپے اور مائکروبایوم کے درمیان تعلق کو سمجھنے کا کام شروع کیا۔
ان کے ساتھ دوسرے محقق ارن سیگل تھے۔ سیگل جینیات کا مطالعہ کر رہے تھے، لیکن انہیں غذائیت میں بھی گہری دلچسپی تھی اور ان کی شادی بھی ایک ماہر غذائیت سے ہوئی تھی۔ انہوں نے اس موضوع پر بہت کچھ پڑھا تھا اور وہ ایک یا دوسری غذا کی خوبیوں کے بارے میں مقابلہ کرنے والے دعووں اور جوابی دعوؤں سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے سوچا، 'بڑے ڈیٹا اور کمپیوٹر الگورتھم کے ساتھ کیوں نہ اس سب کو ترتیب دی جائے’۔ 
دونوں سائنسدانوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اگر وہ کافی لوگوں کے بارے میں کافی معلومات جمع اور تجزیہ کر سکتے ہیں، تو نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں