باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعرات، 27 نومبر، 2025

جسم کے راز (30) ۔ ذہن پر اثر


خوردبینی جاندار یقیناً کسی شخص کے رویے کو بدل سکتے ہیں۔ ریبیز (Rabies) اس کی ایک مشہور مثال ہے۔ یہ ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جو انسانوں اور کتوں کو متاثر کرتا ہے۔ متاثر شدہ کتے کے کاٹنے سے انسان میں آ سکتا ہے۔ اس میں صرف پانچ جین ہوتے ہیں (ایک کتے کے تقریباً 19,000 اور انسان کے 21,000 جین ہیں)۔ یہ وائرس ایسے پروٹین پیدا کرتا ہے جو اعصابی نظام کے ساتھ تعامل کرتے ہیں، جس سے متاثرہ میزبان پریشان اور اس کا رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے۔ اس رویے کی تبدیلی کا ایک اثر یہ ہے کہ متاثر ہو جانے والے کتے کے کسی دوسرے کتے یا کسی انسان کو کاٹنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اس طرح وائرس منتقل ہو جاتا ہے۔ جراثیم کی بے شمار دوسری مثالیں ہیں جو اپنے میزبان کے رویے کو اپنے فائدے کے لیے تبدیل کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر، کچھ آنتوں کے بیکٹیریا مکھیوں میں یہ ترغیب پیدا کرتی ہیں کہ وہ اپنی خوراک تبدیل کریں اور ایسی خوراک کھائیں جو کہ ساتھی بیکٹیریا کی تعداد بڑھائے۔ دوسرے بیکٹیریا ایک مکھی کی خمیر کو کھانے کی خواہش کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ابھی ان مشاہدات کو اچھی طرح سے سمجھا نہیں گیا ہے، لیکن اس میں غالباً آنتوں کے بیکٹیریا کی مکھی کے اعصابی نظام اور شاید مکھی کے سونگھنے کی حس کو متاثر کرنے کی صلاحیت شامل ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آنتوں کے بیکٹیریا اپنے فائدے کے لئے انسانی رویے کو متاثر کر سکتے ہیں؟ یہ ایک متنازعہ موضوع ہے۔ ایک ہزار سے زائد لوگوں پر ہونے والے ایک سٹڈی نے انسانوں میں کچھ قسم کے جراثیم کی نشاندہی کی جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودگی ہمارے لئے معیار زندگی کو بہتر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر جراثیم ہیں جن کا تعلق ڈپریشن سے ہے۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ آیا یہ پیٹرن یہ بتاتا ہے کہ ان کی موجودگی ایسا ہونے کی وجہ ہے یا نہیں۔ کیونکہ ایسے پیٹرن کی بہت سی دوسری ممکنہ وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر، ذہنی صحت کی مشکلات والے کچھ لوگوں کی نیند کم ہو سکتی ہے یا خوراک میں بے قاعدگی ہو سکتی ہے جو ان کے مائکروبایوم کو متاثر کر سکتا ہے۔ یعنی کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کی زندگی کے طریقے کی وجہ سے یہ مائیکروب موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی متاثر ہوتی ہے یا پھر دونوں کے بیچ میں کوئی چیز ہے۔ بہر حال، یہ ممکن ہے کہ آنتوں کے بیکٹیریا ہماری ذہنی صحت کو براہ راست متاثر کرتے ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سیروٹونن اور ڈوپامین جیسے نیورو ٹرانسمیٹر پیدا کرتے ہیں۔ یہ مالیکیول براہ راست دماغ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن مقامی طور پر بھی کام کر سکتے ہیں، شاید اس ویگس نرو (vagus nerve) پر جو آنت کو دماغ سے جوڑتی ہے۔
ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اگر ہماری ذہن کی حالت اور رویہ آنتوں کے مائکروبایوم سے متاثر ہوتا ہے، تو یہ صرف بالواسطہ طور پر ہو سکتا ہے، کیونکہ آنتوں کے جراثیم کا انسانی دماغ کو کنٹرول کرنے کے لیے ارتقا ہونا محال ہے۔ اگر ہم آنتوں کے مائکروبایوم کو ایک ایسے ماحولیاتی نظام کے طور پر تصور کریں جہاں ہر قسم کے بیکٹیریا وسائل اور رہنے کی جگہ کے لیے دوسروں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، تو یہ ذرا مشکل ہے کہ ایک قسم کا بیکٹیریا انسانی رویے کو صرف خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے متاثر کر سکتا ہے، کسی بھی ایک شخص کی آنت میں بیکٹیریا کی بہت سی اقسام ہیں۔ اگر ایک قسم کا آنتوں کا بیکٹیریا ہمیں اس خوراک کو ترجیح دینے پر مجبور کرتا ہو جس پر وہ پرورش پاتے ہیں، تو یہ ناگزیر ہے کہ دوسرے مائیکروب بھی اس خوراک سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ایسا کرنے سے اس خاص بیکٹیریا کو مسابقتی فائدہ نہیں ہو گا۔
تاہم، ایک ممکنہ امیدوار ہمارا دفاعی نظام ہے جو اس کام کے لئے درمیانی واسطہ ہو سکتا ہے اور جسم میں ہر چیز کو اثر کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دفاعی نظام کی سرگرمی اداسی کے احساسات کو متحرک کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایسا تب ہوتا ہے جب بھی آپ بیمار محسوس کرتے ہیں یا بخار ہوتا ہے۔ تو ایسا ضرور ممکن ہے کہ آنتوں کے کچھ مائیکروب (جن کا ہمارے دفاعی نظام سے واسطہ پڑتا رہتا ہے) اس ذریعے سے ہمارے موڈ اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلد، پھیپھڑوں اور منہ ۔۔۔ ہر جگہ پر مائکروبایوم ہوتے ہیں، جن کو ہم آنت کے مقابلے میں بہت کم جانتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک میں ہی ایک اپنی کائنات موجود ہے۔ اوراس سیریز میں ہم نے صرف بیکٹیریا پر بات کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر مائیکروب ہمارے جسم کے اندرونی نظام کا حصہ ہیں۔ ان میں وائرس اور فنگس شامل ہیں۔ وائرس کی اقسام جنہیں فیج (phage) کہا جاتا ہے، یہ ہمارے مقامی بیکٹیریا کو ‘بیمار’ کرتی ہیں۔ اور جن کے بارے میں، ایک بار پھر، ہم بہت کم جانتے ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا زمین سے باہر دوسرے سیاروں پر زندگی ہو سکتی ہے؟ معلوم نہیں لیکن غیرارضی ایلین کی کہانیاں ہمارے تصورات اور سائنس فکشن کا حصہ رہتی ہیں۔ لیکن ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ہمارے اپنے جسم کے اندر ‘ایلین’ موجود ہیں۔ اور یہ سائنس فکشن والے ایلین سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ جو علم ہم ان کے بارے میں حاصل کر رہے ہیں وہ ہماری زندگیوں پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ کل یا پرسوں تو شاید نہیں، لیکن بائیسویں صدی میں یقینی طور پر۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں