سائنس میں نئی سمت اکثر نئے تصورات نہیں، بلکہ نئے آلات شروع کرتے ہیں۔ تصورات کی بنا پر پرانی چیزوں کی نئی طریقوں سے وضاحت کی جا سکتی ہے۔ جبکہ آلات نئی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں، جن کی وضاحت کی تلاش نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
۔فریمین ڈائسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
196 میں، کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ولیم ڈریئر نے اپنے ایک طالب علم کو نصیحت کی کہ اگر آپ سائنس کے کسی شعبے میں بڑا کام کرنا چاہتے ہیں، تو ایک نئی ٹیکنالوجی ایجاد کریں۔
طالب علم لیروئے لی ہڈ نے اس بات کو دل سے لگا لیا۔1970 میں، ہڈ خود اس یونیورسٹی کے اساتذہ میں شامل ہو گئے۔ وہ حیاتیات میں نئی چیزیں کرنا چاہتے تھے اور ان کی دلچسپی اس میں تھی کہ اس کے لئے کس قسم کے نئے آلات برا اثر ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جاندار چیزوں – پروٹین اور جین – کو بنانے والے مالیکیولز کا کیمیائی تجزیہ بہت سست تھا اور عام طور پر ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ ان کو خودکار بنانا انقلابی پیشرفت ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے پروٹین سے آغاز کیا کیونکہ وہ پہلے ہی ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔ ہر قسم کا پروٹین امینو ایسڈ نامی تعمیراتی بلاکس کے ایک منفرد سیکوینس سے بنا ہوتا ہے، جو ایک زنجیر میں جڑے ہوتے ہیں۔ بیس امینو ایسڈز ہیں، لیکن ہم اب بھی نہیں جانتے کہ وہ انسانی جسم میں کتنی قسم کے پروٹین بناتے ہیں۔ یہ 20,000 سے زیادہ ہیں، لیکن اگر باریک تغیرات کو شامل کیا جائے تو ان کی تعداد اربوں میں گنی جا سکتی ہے۔ کسی بھی پروٹین کو سمجھنے کا آغاز اکثر ان تعمیراتی بلاکس کے سیکوینس کو قائم کرنے سے ہوتا ہے، جو جسم میں اس کے کام کے بارے میں اشارہ دیتا ہے۔ خاص طور پر اگر یہ کسی دوسرے قسم کے پروٹین سے مشابہ ہو جس کا کام ہم پہلے ہی جانتے ہیں۔ ایک پروٹین کے سیکوینس کی شناخت بھی اس جین کو پہچاننے میں ایک اہم قدم ہے جو پروٹین کی تخلیق کے لیے ذمہ دار ہے۔
1981 میں، ہڈ اور ان کے ساتھیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے پروٹین کی سیکوینسنگ کے لیے ایک آلہ بنا لیا ہے۔ ان کی مشین کسی بھی دوسرے طریقہ سے کہیں زیادہ قابل اعتماد ثابت ہوئی، اور جلد ہی ہڈ کی لیب کو تجزیہ کرنے کے لیے ان گنت اہم نمونے موصول ہوئے: ہارمون، اعصابی نظام کے ریسپٹرز، خون کے فیکٹر، مدافعتی خلیوں سے خارج ہونے والا مواد، اور بہت کچھ۔"
1983 میں، ہڈ کی لیب نے ایک قسم کے پروٹین کا تجزیہ کیا جسے پریون پروٹین (prion protein) کہا جاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں کئی اعصابی تنزلی کی بیماریاں غلط شکل والے پریون پروٹین کی وجہ سے ہو سکتی ہیں، بشمول وہ جسے 'پاگل گائے کی بیماری' کے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن اس وقت یہ محض ایک خیال تھا۔ ایسا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ پروٹین خود سے ایک متعدی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے ساتھی، اسٹینلے پروسینر کی جانب سے پریون پروٹین سیکوینس کی شناخت اس نئی تفہیم کی طرف ایک اہم قدم تھا، جس نے بالآخر انہیں 1997 میں نوبل انعام دلوایا۔ ان کے کام کی بدولت، اب ہم جانتے ہیں کہ پریون پروٹین انسانی جسم میں بکثرت پائے جاتے ہیں، اور یہ کہ غلط شکل والے پریون پروٹین دماغ میں گچھا بن کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ یہ متعدی ہو سکتا ہے، کیونکہ غلط شکل والا پریون پروٹین عام پریون پروٹین کو بگاڑ سکتا ہے، جس سے نئے متعدی ذرات پیدا ہوتے ہیں اور ایک اس رد عمل میں بیماری پھیلتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہڈ نے پروٹین اینالائزر اور دیگر آلات کے لئے خیالات کو کمپنیوں کو بزنس کے لئے پیش کیا تو کسی نے دلچسپی نہیں لی۔ وہ انیس کمپنیوں کے پاس گئے لیکن نتیجہ نہیں نکلا۔ اور یہ حیران کن نہیں۔بہت سے سائنس دان جو نئے آلات یا ادویات کی طرف پہل کرتے ہیں، ان کےے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔بالآخر، سان فرانسسکو میں مقیم ایک سرمایہ کار نےان کے یونیوررسٹی کو اپنی کمپن (Applied Biosystems) قائم کرنے کے لیے ابتدائی سرمایہ فراہم کیا۔ 1982 میں، اس نے ایک پروٹین اینالائزر فروخت کرنا شروع کیا، اور جلد ہی بائیوٹیک آلات کے لیے دنیا کی سرکردہ کمپنیوں میں سے ایک بن گئی۔
ہڈ کی لیب نے جلد ہی ایک اور مشین تیار کی: یہ ایک پروٹین سنتھیسائزر تھا۔ یہ مشین امینو ایسڈ کو کیمیائی طور پر جوڑ کر ڈیزائن کے مطابق پروٹین مالیکیولز تیار کر سکتی تھی۔ ہڈ کی لیب نے سب سے پہلے اسے ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے بننے والی ایک پروٹین کا نمونہ تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے ذریعے سائنس دانوں کو اس کی مالیکیولر ساخت کا پتہ لگانے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں دوا ساز کمپنی مرک (Merck) کو ایک کیمیکل بنانے میں مدد ملی جو ایک اینٹی-ایچ آئی وی دوا کے طور پر مفید ثابت ہوا۔
نئی ٹیکنالوجی کا اثر ان کے آغاز میں تصور کیے گئے کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ ہڈ کی لیبارٹری سے اس کے بعد جو نکلا، وہ واقعی شاندار تھا۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
Your Ad Spot
جمعرات، 27 نومبر، 2025
جسم کے راز (31) ۔ پروٹین
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں