باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعرات، 27 نومبر، 2025

جسم کے راز (33) ۔ نیا دور


آج، آئی وی ایف کے ذریعے بچوں کی پیدائش معمول بن چکی ہے۔ اعضاء کی پیوند کاری عام ہو گئی ہے۔ اور حالیہ برسوں میں کینسر کے شفا پا جانے والوں کی شرح تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ جو کچھ آنے والا ہے، ان کے مقابلے میں یہ کامیابیاں ماند پڑ جائیں گی۔ انسانی حیاتیات میں پیش رفت غیر معمولی رفتار سے تیز ہو رہی ہے۔ صحت کی تعریف، جانچ اور اس کی درستگی کے لئے بالکل نئے طریقے۔ خلیوں، بیکٹیریا، خوراک اور انسانی دماغ کے بارے میں نئے خیالات، اور بچوں کی پیدائش کے لیے کئی نئے تصورات ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔ اور یہ محض تفصیلات کا اضافہ نہیں۔ ہم انسانی حیاتیات کے کئی پہلووں میں ایک نئے دور کے دہانے پر ہیں۔
فطرت کی حیاتیاتی تبدیلی سے پہلے بھی بڑا عالمی انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ جب ہزاروں سال قبل، نوع انسانی نے فصلوں، مویشیوں اور پالتو جانوروں کو گھریلو بنانا شروع کیا، تو یہ کرنا بالآخر شہروں، پیچیدہ معاشیات اور سیاسی درجہ بندی کی ترقی کا باعث بنا۔ ایسا کرنا نہ ہی یہ شروع میں مقصد تھا۔ اور ان میں سے کسی کی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔  ساتھ ہی ساتھ، دوسری طرف، اس سے دیگر مسائل پیدا ہوئے جیسے متعدی امراض کا پھیلاؤ یا پھر دولت اور طاقت سے متعلق مسائل۔ 
اسی طرح، یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کہ انسانی حیاتیات میں آج کی نئی پیش رفتیں اب سے سو یا ہزار سال بعد ہماری زندگیوں کو کیسے متاثر کر چکی ہوں گی۔ کیونکہ جہاں ہم آگے جا رہے ہیں، وہاں کا کوئی نقشہ نہیں ہے۔ لیکن انسانی حیاتیات کی موجودہ سرحدوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو اگر اکٹھا دیکھا جائے تو لگتا یہ ہے کہ یہ سائنسی انقلاب ہمیں پچھلے انقلابات سے بہت مختلف انداز میں متاثر کر سکتا ہے۔
جہاں پر زرعی، صنعتی اور ڈیجیٹل انقلابات نے ہمارے ماحول اور معاشروں کو متاثر کیا ہے، وہاں نئی انسانی حیاتیات ہم میں سے ہر ایک کو انفرادی طور پر، جسمانی اور نفسیاتی طور پر نئی طاقتوں سے لیس کر سکتی ہے، اور ہم میں سے ہر ایک کو خود فیصلہ کرنا پڑے گا کہ انہیں کب اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، مستقبل قریب میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا کسی ایسے الگورتھم سے غذائی مشورہ لینا ہے یا نہیں جس نے ہمارے اپنے فضلے اور خون کے اجزاء کا تجزیہ کیا ہو۔ ہمارے جسم کے خلیوں کی گہری جانچ کی سکے گی، خاص طور پر ہمارے مدافعتی نظام کی، اور نتائج یہ ظاہر کریں گے کہ ہم کسی قسم کی بیماری یا مسئلے کے خطرے میں ہیں۔ پھر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں یا نہیں۔ اس سے زیادہ یہ کہ کسی خاص چیز کے خطرے کا علم سے، ہمارا اپنے بارے میں احساسِ بھی بدل جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں اپنی علمی صلاحیت کو بڑھانے کا موقع بھی ملے گا اور یہ بھی ہم پر اثرانداز ہو گا کیونکہ ایسا کرنے میں ہم اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ دوسرے بھی یہی کر رہے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ کہ کام میں کامیابی، یا تعلیمی کامیابی، اپنا مطلب بدل دے گی۔ ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آیا ایسی ادویات استعمال کرنی ہیں یا نہیں جو ہمارے جذبات پر نقب لگا سکتی ہیں۔ جہاں ایسی ادیات ذہنی صحت کے لئے ضروری ہو سکتی ہیں (جیسا کہ ڈیپریشن کے علاج کے لئے)، وہاں پر یہ ہماری شخصیت اور ذات کے احساس کو بدل سکتی ہیں۔ کیا ہم ایسا کرنا چاہیں گے؟ اور اگر ہاں تو کیا اور کس حد تک؟ 
اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی اگلی نسل میں ان کی پیدائش سے پہلے خاصیت کے انتخاب کی صلاحیت؟ یہ ہماری نسل کے لئے سب سے خطرناک صلاحیت ہو سکتی ہے۔ 
آج جہاں پر معلومات حاصل کرنا آسان سے آسان تر ہو رہا ہے، وہاں پر اس میں سے یہ جاننا کہ “درست سائنسی معلومات” کونسی ہے؟ کس پر بھروسہ کیا جائے؟ یہ آسان نہیں۔ ویکسین اور بنیادی صحت کے بارے میں بھی غلط معلومات کا عام ہونا غلط فیصلوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ یعنی کہ ایک طرف انتخاب کی وجہ سے نتائج کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب انتخاب کرنے کے لئے جو درست معلومات درکار ہو گی، اس تک پہنچنا مسئلہ بن رہا ہے۔ اس لئے اس چیز کی ضرورت زیادہ ہو گی کہ یہ سمجھا جائے کہ سائنس کس طرح کام کرتی ہے۔خاص طور پر انسانی جسم کے نئی سائنسی خیالات پر وسیع بحث معاشرے اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے اہم ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائنس کو کئی بار درستگی اور قطعیت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ نقطہ نظر درست نہیں۔ اور انسانی جسم جیسی چیز کا گہرائی سے مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم بنیادی طور پر ڈائنامک اور، لچکدار ہیں اور ان خلیوں کی کائنات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو خود اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ یہ سب تقریباً جادوئی لگتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ ہمیں تاریخی طور پر تقسیم کرنے والے بہت سے نظریات کو بے معنی کر دیتا ہے۔ ہماری اپنی جینیاتی اور شناخت کی سرحدیں دھندلی ہیں اور ہر کوئی ایک دوسرے سے تعلق رکھتا ہے۔ جسم کی سمجھ اس انسانی تنوع کو سمجھنے – اور سراہنے – کے لیے ناگزیر ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھرب ہا کھرب خلیے کسی خاص تریب میں ملکر ایک انسان کو بناتے ہیں۔ لیکن جب ہم پوری کائنات میں خود کو دیکھتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک بہت چھوٹا ہے – ایک ناقابل فہم وسیع کائنات میں ایک نقطے سے بھی کم – لیکن ساتھ ہی ساتھ، پھر بھی ہم میں سے ہر ایک میں ایک ایسی عظمت ہے جسے سمجھنا ناممکن ہے۔ اور ہم ایک مہم جو نوع ہیں۔ ہم نے جتنے سفر شروع کئے ہیں، ان میں سے اپنے اندر سفر کرنا غالباً ہمارے لئے سب سے بڑی اور سب سے اہم مہم جوئی ہے۔ اور ہر مہم جوئی کی طرح ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمیں کہاں پر لے کر جائے گی۔
(ختم شد)



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں