باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 24 اکتوبر، 2025

جسم کے راز (12) ۔ چودہ دن


زرنیکا-گوئٹز  یہ معلوم کرنا چاہتی تھیں کہ جنین کے پہلے ہفتے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنا غیر معمولی طور پر مشکل تھا۔ ان کی ٹیم نے چوہے کے جنین سے شروعات کی۔ دن بہ دن، ان کی ٹیم نے ہارمونز، غذائی اجزاء اور گروتھ فیکٹرز کی ان گنت حالتوں کا تجربہ کیا جو جنین کو کسی کے بھی حاصل کردہ وقت سے زیادہ زندہ رکھ سکتے ہیں۔ دن مہینوں میں بدل گئے۔ انہوں نے نہ صرف وہ شوربہ بدلا جس میں خلیات رکھے جاتے تھے بلکہ انہوں نے یہ بھی تجربہ کیا کہ آیا جنین معمول کی سخت پلاسٹک ڈش کے بجائے نرم جیل پر رکھے جانے سے بہتر طور پر زندہ رہ سکتے ہیں۔  سب کچھ ٹھیک کرنے کا عمل کئی مہینوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ طریقہ کار بہتر اور قابل اعتبار ہو گیا۔ پھر اگلا قدم واضح تھا – چوہے کے جنین کے طریقہ کار کو انسانی جنین پر آزمانا تھا۔
مئی 2013 میں ایک دن، انہوں نے ایک آئی وی ایف کلینک سے عطیہ کیے گئے دو انسانی جنین کو کلچر کرنا شروع کیا۔ حیرت انگیز طور پر، ان میں سے ایک نے بڑھنا شروع کر دیا۔ یہ انسانی جنین آٹھ دن سے زیادہ زندہ رہا۔ کسی نے بھی اس مقام سے آگے لیب ڈش میں زندہ انسانی جنین کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ جس چیز کا وہ اگلے دنوں مشاہدہ کرنے والے ہیں وہ رحم میں ہونے والے عمل سے ملتی جلتی ہو گی۔ تاہم، 11ویں دن تک، جنین نے خود کو منظم کرنا شروع کر دیا، اور آپریشن سے جمع کیے گئے نمونوں کے ابتدائی مطالعہ کی بنیاد پر نصابی کتابوں میں دکھائے گئے منظر سے ملتا جلتا نظر آیا۔
بارہوں دن انہوں نے پروجیکٹ کو ختم کر دیا، اور آئندہ کئے جانے والے کسی تجربے میں وہ تیرہویں دن سے آگے نہیں بڑھے۔ اس کی وجہ وارنک کمیٹی کی سفارشات والا بین الاقوامی معاہدہ تھا، جو برطانیہ کا قانون تھا۔ تقریباً اسی وقت، نیویارک میں ایک ٹیم، جس کی قیادت ایرانی سائنس دان علی بریونلو کر رہے تھے، نے بھی ایک ایسا ہی کارنامہ انجام دیا۔ بریونلو نے اپنی ٹیم کے ایک فرد کو زرنیکا-گوئٹز کی لیب میں چوہے کے جنین کو زندہ رکھنے کا ان کا طریقہ سیکھنے کے لیے بھیجا اور پھر، اپنی لیب میں واپس آ کر، اس طریقہ کار کو انسانی جنین کے لیے ٹھیک کیا۔ امریکہ میں، چودہ روز کی تاریخ قانون کے بجائے رہنما اصول ہے، لہٰذا جاری رکھنا غیر قانونی نہیں ہوتا، لیکن بریونلو نے چودہ دن مکمل ہونے کے آخری گھنٹے پر تجربے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دو لیب ٹیموں کی کامیابیوں کو سائنس میگزین نے 2016 کے سال کی سب سے بڑی پیش رفت کے طور پر ووٹ دیا، کیونکہ ان کے کام نے انسانی نشوونما کے ابتدائی مرحلے، یعنی انسانی زندگی کے آغاز کا مطالعہ کرنے کا ایک نیا طریقہ کھولا۔ یہ کارنامہ خود اہم تھا – ِ کیونکہ یہ دریافت کہ ایک جنین لیب کے حالات میں اتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے، غیر متوقع تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جنین امپلانٹ ہونے کے بعد کچھ وقت تک خود کفیل ہوتا ہے، اسے پہلے پہل ماں کے ٹشو سے بہت کم ہی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم، زرنیکا-گوئٹز کی لیب میں، ایسے آثار تھے کہ جنین کو اپنے موجودہ کلچر کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت تھی۔ ہو سکتا ہے کہ ماں کے ٹشو یا پیچیدہ مواد کو شامل کر کے، انہیں زیادہ دیر تک زندہ رکھا جا سکے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ایک انسانی جنین کو رحم کے باہر کتنی دیر تک زندہ رکھا جا سکتا ہا۔ علی بریونلو کی خواہش ہے کہ  انسانی جنین کو اکیس دن تک رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنین کی نشوونما کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ ایک نیا انسان بنتے وقت بے شمار ساختوں کے ظاہر ہونے اور غائب ہونے کو سمجھنے سے لے کر، یہ معلوم کرنے تک کہ جب انسانی نشوونما میں کچھ غلط ہو جائے تو کیا ہوتا ہے۔ تاہم بریونلو جانتے ہیں کہ یکطرفہ طور پر پابندیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنا غلط ہو گا۔ انسانی جنین کی تحقیق اخلاقی، ثقافتی اور سیاسی طور پر تنازعہ کھڑا کرتی ہے۔ نازک معاملات کو نزاکت کے ساتھ ہی حل ہونا چاہیے”
"پھر بھی، یہ فیصلہ کرنا کہ انسانی جنین کو کتنی دیر تک کلچر کیا جانا چاہیے، اس میں کچھ ردوبدل اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ حالیہ سائنسی پیش رفت دوسرے، اس سے بھی زیادہ پیچیدہ دشوار گزار مسائل کو سامنے لے آئی ہے۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں