آئی وی ایف کا عمل روزانہ انجیکشن سے شروع ہوتا ہے۔ دو ہفتے تک ہارمون لگائے جاتے ہیں۔ اس سے کئی بیضے اکٹھے میچور ہو جاتے ہیں۔ مان کو حاصل کیا جاتا ہے۔ معائنہ کیا جاتا ہے کہ کونسے والے زیادہ صحت مند ہیں۔ تازہ سپرم بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
اس کو بیضے سے ملانے سے پہلے اسے دھونا ہے۔ یہ سادہ عمل نہیں۔ اینٹی بائیوٹک اور پروٹین کے سپلیمنٹ میں یہ غسل ایک سینٹری فیوج میں ہوتا ہے۔ پھر ان کا ملاپ دو میں سے کسی ایک طریقے سے کیا جاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہزاروں سپرم کو لیب ڈش میں بیضے کے ساتھ ملا کر رکھ دیا جائے اور چند گھنٹے انتظار کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ مائیکروسکوپ کے نیچے سوئی کے ذریعہ اسے بیضے میں داخل کیا جائے۔
اگلا قدم یہ کہ فرٹیلائز ہو جانے والے بیضے کو بڑھنے دیا جائے۔ یہاں پر بہت سے طریقے ہیں۔ اور اس پر ہزاروں سائنسی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ کتنا گلوکوز، امینو ایسڈ، وٹامن، اینٹی بائیوٹک اور گروتھ فیکٹر کی مدد سے وہ شوربہ تیار کیا جائے جس میں اس کو رکھنا ہے۔ اس پر مارکٹنگ کی ایک صنعت بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، آکسیجن، درجہ حرارت، نمی کا نماسب ایڈجسٹ کئے جاتے ہیں۔ حرکت کا بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اسے جس جگہ پر رکھا جاتا ہے، اسے دھیرے دھیرے سے جھولایا جاتا ہے۔ اس کا کسی کو علم نہیں کہ کس چیز کا کتنا فائدہ ہے۔ ہر کلینک کا اس میں اپنا طریقہ کار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسا والا ایمبریو زیادہ بہتر امکان رکھتا ہے کہ اس سے کامیاب حمل ٹھہرے، اس کے لئے ان کا مائیکروسکوپ کے نیچے معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں ڈھیروں سائنسی لٹریچر ہے جو اس پر راہنمائی کرتا ہے کہ کیا چیز دیکھی جائے۔
اس کو مزید جانچنے کے لئے بائیوپسی کی جا سکتی ہے جو کہ بڑا احتیاط سے کیا جانے والا نازک کام ہے۔ اور ان میں سے بہترین ایمبریو کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اس پر کوئی تنازعہ نہیں کہ والدین کو اس کا حق ہو کہ ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں تا کہ بعد میں بچے میں کسی طرح کے جینیاتی مسائل کا امکان کم سے کم ہو۔ لیکن یہ انتخاب اتنا آسان نہیں۔ اور پھر جو ایمبریو منتخب نہ ہوں؟ ان کا کیا کیا جائے؟ انہیں منجمد کیا جا سکتا ہے جو کہ ان کی زندگی کو معطل کر دے۔ انہیں ضائع کیا جا سکتا ہے۔ یا پھر انہیں سائنسی تحقیق کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمبیریو کی جینیاتی تشخیص کی جا سکتی ہے جو کہ PGD کا ٹیسٹ ہے اور یہ کئی نئے سوال کھول دیتا ہے۔ چار سو سے زائد کنڈیشن ہیں جن کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر کوئی کسی سطح کے رسک کا بتا سکتی ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ کتنا ہے۔ کچھ اقسام کی جینیاتی حالتیں وہ ہیں جو صرف بڑی عمر میں مسئلہ پیدا کر سکتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس وقت تک ان کا علاج دستیاب ہو۔ اور جینیاتی حالتوں کی وجہ سے ہونے والے اثرات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک جینیاتی ویری ایشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاص بیماری کا خطرہ بڑھ جائے گا تو عین اسے ویری ایشن کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایڈز سے محفوظ رہے گا۔ جینیاتی ٹیسٹ کی مدد سے ایمبریو کے انتخاب کا بڑا مسئل یہ ہے کہ یہ ہمیں ایک بڑے مشکل سوال کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔ یعنی کہ “جینیاتی نقص کیا ہے؟”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات پر تو اختلاف نہیں ہو گا کہ ایسی جینیاتی حالت جو کہ فرد کی جلد موت کا سبب بن جائے، مطلوب نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بات اسی پر موقوف نہیں۔ اس پر فرض کیجئے کہ اگر بچے کی قوت سماعت اچھی نہیں؟ کیا ایسے ایمبریو کو ضائع کر دینا درست فیصلہ ہو گا؟ یا پھر ضائع نہ کر دینا درست فیصلہ ہو گا؟ بہت سے لوگ قوت سماعت کے بغیر ہی طویل اور بہت کامیاب زندگیاں گزارتے ہیں۔ ہم سب اپنے تعصبات رکھتے ہیں کہ ہم اگلی نسل میں کیا چاہتے ہیں اور کیا نہیں۔ 2002 میں ایک جوڑے نے جان بوجھ کر ایسے بچے کا انتخاب کیا جو کہ قوت سماعت سے محروم ہو۔ سائنس ایسا کرنا ممکن کر دیتی ہے۔ اور یہ اخلاقی مخمصہ ہے۔ ہم زندگیوں میں اپنے شریک حیات چننے میں یا اپنا طرز زندگی گزارنے کے انتخاب تو آزاد ہیں۔ لیکن نئے آنے والے وجود کا انتخاب؟ یہاں پر کوئی سادہ اصول کام نہیں کرتا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایمبریو کا چناؤ ہر صورت میں مسئلہ ہے۔ ڈاؤن سنڈروم کے لئے سکریننگ عام ہے۔ والدین کو یہ انتخاب دینا کہ اس کے بچے کو ڈاؤن سنڈروم نہ ہو، متنازعہ نہیں سمجھا جاتا۔
بہرحال، میرے پاس اس میں درست یا غلط کیلئے کوئی جواب نہیں ہے۔ ار میری رائے اتنی ہی اہم ہے جتنی آپ کی۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ نئی سائنس انسانی نسل اور قسمت کے ڈیزائن کے لئے نئی راہیں کھول رہی ہے۔ ہمیں، زیادہ سے زیادہ، اپنے ملک کے قانون کی پابندی کرنی ہے اور اگر قانون پسند نہ ہو تو دوسرے ملک میں بھی جانا ممکن ہے جہاں پر قانون سخت نہ ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہم اپنے بچوں کی بہت سی چیزوں کے ذمہ دار ہیں۔ وہ کیا کھائیں، کس سکول جائیں، کس طرح کے مشاغل اختیار کریں، کس طرح کے دوست بنائیں۔ لیکن بنیادی جینیات کا انتخاب ایک الگ ہی لیول ہے۔ اور اس پس منظر میں نومبر 2018 میں ایک متنازعہ بریک تھرو ہوا جس نے دنیا بھر میں اشتعال پیدا کر دیا۔ اور اس چیز کو واضح کر دیا کہ ہم اس بارے میں کہاں پر کھڑے ہیں۔ یہ چین میں ہونے والے جڑواں بچوں کی پیدائش تھی۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
Your Ad Spot
ہفتہ، 25 اکتوبر، 2025
جسم کے راز (13) ۔ انتخاب
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں