باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 24 اکتوبر، 2025

جسم کے راز (11) ۔ آئی وی ایف

 


بیضہ سب سے بڑا انسانی خلیہ ہے، یہ صفحے پر ایک فل اسٹاپ سے تھوڑا ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ بیضہ دانی سے نکلنے کے بعد، یہ تقریباً چوبیس گھنٹوں میں مر جائے گا جب تک کہ یہ ایک سپرم سے نہ ملے۔ لیکن اگر یہ ایک سپرم سے ملتا ہے، تو سب کچھ شروع ہو جاتا ہے۔ تقریباً ایک دن کے اندر، بارور شدہ بیضہ دو خلیوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، پھر، اس کے چند دن بعد، چار میں۔ اس کے بعد ہارمون رحم کی اندرونی تہہ کو جنین کے لیے قابل قبول بنانے میں مدد کرتے ہیں، جسے 'امپلانٹیشن ونڈو' کہا جاتا ہے۔ باروری کے چھ دن بعد، ننھا جنین – جو تقریباً 250 خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے بلاسٹروسسٹ (blastocyst) کہا جاتا ہے – رحم کی اندرونی تہہ سے چپک جاتا ہے اور اندرونی ٹشو میں گڑھا بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر حمل ناکام ہو ہے، تو اکثر اسی مقام پر ہوتا ہے۔
یہ ایک نازک وقت ہے۔ واقعات کا تال میل اور خلیات کا وہ رقص جس کے ذریعے ایک جنین کامیابی سے اپنی ماں سے جڑتا ہے، حیرت انگیز طور پر پیچیدہ ہے۔ جیسے ہی جنین رحم کی اندرونی تہہ میں داخل ہوتا ہے، جنین کے خلیے ماں کی خون کی نالیوں کی کچھ دیواروں کو توڑ دیتے ہیں۔ خون چھوٹے تالابوں میں رس جاتا ہے تاکہ جنین سے نکلنے والے درخت نما سٹرکچر کو گھیر لے۔ اس طرح پلاسنٹا بننا شروع ہوتا ہے، یہ ایک عارضی عضو ہے جو نشوونما پاتے ہوئے بچے کے لیے غذائی اجزاء اور آکسیجن جمع کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور فضلہ کو نکالتا ہے۔ بچے کا خون کبھی بھی ماں کے خون کے براہ راست رابطے میں نہیں ہوتا، لیکن مادے ان کو الگ کرنے والی پتلی جھلیوں کے پار آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ پلاسنٹا کی تعمیر بہت خاص ہے۔ واحد دوسرے انسانی خلیات جو کہ خون کی نالیوں کی دیواروں کو توڑ کر خون کے بہاؤ کو دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، وہ کینسر کے خلیات ہیں۔
جس وقت پلاسنٹا بننا شروع ہوتا ہے، خود جنین خشخاش کے دانے جتنا بڑا ایک کھوکھلا خلیوں کا گولا ہوتا ہے۔ تقریباً پندرہ دن بعد، ایک واضح اوپر، نیچے، سامنے، پیچھے، بائیں اور دائیں حصہ تیار ہوتا ہے۔ اٹھارہ دن کے بعد، دو چھوٹی نالیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ دونوں نالیاں چند دن بعد ضم ہو جاتی ہیں اور بائیس دن تک، جیسے کسی جادو سے، واحد نالی دھڑکنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ بچے کا پہلا عضو ہے: اس کا دل، جو اس کے نشوونما پاتے ہوئے جسم میں غذائی اجزاء کو پمپ کرنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ سب کچھ نظروں سے اوجھل ہے۔ کسی کے حاملہ ہونے کے بارے میں جاننے کے قریب ترین ہم ایک ٹیسٹ کے ذریعے پہنچتے ہیں جو آٹھ دن بعد ہارمونز کی موجودگی کا پتہ لگا سکتا ہے، اور اس کے چند دن بعد زیادہ قابل اعتماد طریقے سے۔ تین ہفتے پرانے جنین کو الٹراساؤنڈ سکین سے پکڑا جا سکتا ہے، لیکن ایک جنین کے پہلے دنوں کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہے، تفصیل سے مطالعہ کرنا تو دور کی بات ہے۔ تاریخی طور پر، اس طرح کی ابتدائی نشوونما کا علم جانوروں کا مطالعہ کر کے حاصل کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، ایک بڑھتے ہوئے دل کا پہلا مائیکروسکوپی منظر 1600 کی دہائی کے آخر میں اطالوی ماہر حیاتیات مارسیلو مالپیگھی نے چوزے کے جنین کی جانچ کر کے فراہم کیا تھا۔ حال ہی میں، انسانی جنین کی اناٹومی کو سرجری اور اسقاط حمل سے حاصل کردہ جنین کے ٹشو کے مجموعوں کا استعمال کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔ کیوٹو میں ایسے تقریباً 45,000 نمونے موجود ہیں، جن کی اکثریت 1962 سے 1974 کے درمیان حاصل کی گئی تھی۔  ہماری زندگی کے پہلے چند دنوں میں کیا ہوتا ہے؟ اس کا تفصیلی علم IVF کے بعد ان خواتین کے عطیہ کردہ جنین کا مطالعہ کرنے سے آیا ہے جنہیں ان کی مزید ضرورت نہیں تھی۔
آئی وی ایف انقلابی سائنسی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف بانجھ پن کے علاج میں مدد کرتا ہے بلکہ کئی قسم کے مواقع کھول دیتا ہے۔ جس میں جین کی ترمیم کرنے کے نئے امکانات کا پیچیدہ سفر بھی ہے۔ 1959 میں، چینی-امریکی سائنس دان مین چو چانگ پہلے شخص تھے جنہوں نے ایک ممالیہ جانور میں IVF کیا۔ انہوں نے ایک کالے خرگوش کے بارور شدہ انڈے کو ایک سفید خرگوش میں منتقل کیا، جس کے نتیجے میں سفید خرگوش نے کالے بچوں کو جنم دیا۔ IVF کے ساتھ پہلا انسانی حمل 1973 میں آسٹریلیا میں رپورٹ ہوا، لیکن اس کا نتیجہ اسقاط حمل کی صورت میں نکلا۔ IVF سے ایک کامیاب حمل پانچ سال بعد برطانیہ میں ہوا۔ لوئیس براؤن دنیا کی پہلی 'ٹیسٹ ٹیوب' بچی تھیں، جو 25 جولائی 1978 کو پیدا ہوئیں۔
سٹیپٹو نے پیش گوئی کی تھی کہ براؤن کی پیدائش انسان کے چاند پر اترنے سے زیادہ اہم ثابت ہو گی۔ وہ غلط تو نہیں تھے۔ تاہم، اس نے تنازعہ کھڑا کر دیا۔ ڈی این اے کی شکل دریافت کرنے والے نوبل انعام یافتہ سائنسدان جیمز واٹسن نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کو بتایا، 'سیاسی اور اخلاقی طور پر، پوری دنیا میں اس سے ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔' میکس پیروٹز، ایک اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان تھے۔ انہوں نے کہا “اگر ایبنارمل بچہ پیدا ہوا، تو کس کا قصور سمجھا جائے گا۔ اور یہ ایک بڑے پیمانے پر ہو سکتا ہے”۔ ایڈورڈز اور سٹیپٹو کو برطانوی حکومت سے حمایت اور فنڈنگ نہیں ملی۔ 
ایڈورڈز اور سٹیپٹو ایک ایسی ٹیکنالوجی کو تیار کرنے میں علمبردار تھے جس کی وجہ سے اب تک اسی لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ ایسی بڑی کامیابی کے لیے، یہ عجیب رہا کہ IVF کی ترقی کے لیے نوبل انعام سے نوازے جانے میں بتیس سال لگے، اس وقت تک سٹیپٹو اور پرڈی دونوں انتقال کر چکے تھے اور اس کے واحد وصول کنندہ، ایڈورڈز، پچاسی سال کے تھے اور تقریب میں شرکت کرنے کے لیے بہت کمزور تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئی وی ایف کا استعمال کرتے ہوئے حمل کے لیے، جنین کو لیب ڈش میں دو سے چھ دن تک کلچر کرنے کے بعد رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ غیر استعمال شدہ جنین کو حمل کی مستقبل کی کوششوں کے لیے منجمد کیا جا سکتا ہے، یا والدین کی رضامندی سے تحقیق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے لیے، انہیں زیادہ دیر تک کلچر کیا جا سکتا ہے۔
"انسانی جنین کو لیب ڈش میں کتنی دیر تک زندہ رکھا جا سکتا ہے اس پر چودہ دن کی حد پہلی بار 1979 میں ایک امریکی اخلاقی مشاورتی بورڈ نے تجویز کی تھی، اور پھر 1984 میں برطانوی حکومت نے اس کی توثیق کی۔ اس کے بعد برطانیہ، سپین اور آسٹریلیا سمیت چند ممالک نے انسانی جنین کو زیادہ دیر تک بڑھانا ایک جرم بنا دیا ہے۔ اس پر کام وارنک کی سربراہی میں کمیٹی نے کیا تھا۔ سوال یہ کہ چودہ دن ہی کیوں؟
عوامی حلقوں میں سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ مرکزی مسئلہ اس پر یہ ہے کہ “زندگی کب شروع ہوتی ہے؟”۔ کمیٹی نے اس پر نقطہ نظر اپنایا کہ یہ درست سوال نہیں کیونکہ اس کا جواب ٹھیک ملنا ممکن نہیں ہے۔ ان کی توجہ اس بات پر فیصلہ کرنے پر تھی کہ ایک لیب ڈش میں انسانی جنین کس مقام پر اس حالت میں پہنچتا ہے جب اسے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگرچہ ہر ایک کی اپنی رائے تھی لیکن کمیٹی میں اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ کوئی حد لگانا ضروری ہے۔ چودہ دن کی حد کی کئی وجوہات تھیں۔ اس دوران میں جنین میں اعصابی نظام کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ قدرتی طور پر بھی یہ وہ وقت ہے جو بہت سے جنین ضائع ہو جاتے ہیں۔ پندرہویں روز میں اس پر ایک نالی نمودار ہوتی ہے، جسے پریمیٹو سٹریک (primitive streak) کہا جاتا ہے۔ اور یہ وہ وقت ہے جب جنین اب مزید تقسیم ہو کر جڑواں بچوں میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ استدلال یہ ہے کہ اس لمحے سے پہلے، ایک جنین کو فرد نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا، تو یہ اب بھی تقسیم ہو کر دو افراد کیسے بن سکتا تھا؟ اس منطق سے، 15ویں دن پریمیٹو سٹریک کی موجودگی کو وہ لمحہ مانا جا سکتا ہے جس میں ایک منفرد انسان وجود میں آیا ہے۔
چودہ دن کی حد کے خلاف ایک دلیل یہ ہے کہ ایک جنین اپنے وجود میں اس کے بعد بھی بہت دیر تک درد کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ نیوران جو ریڑھ کی ہڈی سے دماغ کے اس حصے تک سگنل منتقل کرتے ہیں جہاں درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے، وہ اس وقت تک تیار نہیں ہوتے جب تک کہ جنین تقریباً تئیس سے چوبیس ہفتے کا نہ ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیتھولک چرچ کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ اسے اسی روز سے “فرد” مانا جائے جس روز بیضے اور سپرم کا ملاپ ہوا ہے۔ یہ رائے 1869 میں دی گئی تھی۔ اور دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس رائے کی وجہ سائنسی ٹیکنالوجی اور مائیکروسکوپ ہی تھی۔ جب ابتدائی مائیکروسکوپ سے سپرم کو دیکھا گیا تو اس کا مبہم خاکہ ہی نظر آتا تھا۔ کچھ سائنسدانوں نے قیاس کیا کہ انسان اس کے سر کے اندر بند ہے۔ یہ نقطہ نظر بالکل غلط تھا لیکن اس سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ انسان کا وجود ابتدا میں ہی موجود ہوتا ہے۔ کچھ مسلمان علما نے بھی کیتھولک چرچ کے اس خیال کو اپنا لیا۔ تاہم مسلم ورلڈ لیگ نے جو رائے لی، وہ یہ کہ بچے میں روح چار ماہ بعد آتی ہے۔ ہندو مت میں رائے یہ کہ زندگی ابتدا میں ہی شروع ہو جاتی ہے۔ جین مت میں اس کے لئے چالیس دن کا وقت ہے۔ بہرحال، مذہبی آرا کے وسیع تنوع میں سے چند کا یہ انتخاب یہ بتاتا ہے کہ دنیا کی متنوع اقدار میں سے اس بارے میں ہر ایک کو کسی اصول اور قوانین پر قائل کرنا انتہائی دشوار ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وارنک کمیٹی نے چودہ دن کی حد کی یہ تجویز دی تو دراصل یہ اس وقت کی سائنس کیلئے ممکن بھی نہیں تھا۔ کوئی ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی جو کہ جنین کو رحم سے باہر اتنی دیر کے لئے محفوظ رکھ سکتی۔ یہ حد اصل میں ایک تاثر دینے کے لئے بھی تھی کہ اخلاقی قدغن لگائی جا رہی ہے۔ تاہم، 2016 میں ہونے والے بریک تھرو نے یہ سب بدل دیا۔ اور یہ کرنے والی زرنیکا-گوئٹز ہی تھیں۔





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں