نومبر 2018 میں، چینی سائنس دان ہی جیانکوی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کرسپر (CRISPR) کا استعمال جڑواں بچوں کے جین کو تبدیل کرنے کے لیے کیا ہے۔ کرپسر جین ایڈیٹنگ کی ٹیکنالوجی ہے جو اس کام کے لئے بیکٹیریا اور آرکیا کے ڈی این اے سیکونس کو استعمال کرتی ہے۔ انسانوں میں اس کا استعمال کر کے جین بدل لینا اور تبدیل شدہ جین والے بچوں کی پیدائش ایک تہلکہ خیز خبر تھی۔
ہی جیانکوی اس سے پہلے چوہے اور بندر کے جنین کو ایڈٹ کرنے کا ڈیٹا پیش کر چکے تھے۔ اور اس وجہ سے، انہیں ہانگ کانگ یونیورسٹی میں انسانی جینوم ایڈیٹنگ پر دوسری بین الاقوامی سمٹ میں بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ 25 نومبر کی شام، میٹنگ شروع ہونے سے دو دن پہلے، منتظمین کو مطلع کیا گیا کہ جیانکوی نے کرسپر ٹیکنالوجی کی بانیوں میں سے ایک، جینیفر ڈوڈنا کو ای میل کر کے بتایا ہے ان بچوں کی پیدائش کی خبر دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرسپر بیکٹیریا کے جین میں پائے جانے والے خاص سیکونس کا نام ہے۔ 2005 میں، تین سائنسی پیپرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بیکٹیریا میں جینوم کے CRISPR حصے میں ایسے سیکونس شامل تھے جو بیکٹیریا پر حملہ کرنے والے وائرس سے ملتے جلتے تھے۔ اس نے اندازہ ہوا کہ یہ بیکٹیریا کے دفاعی نظام کا حصہ ہو سکتا ہے، جو انہیں وائرس سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔ 2006 میں ڈوڈنا نے اس موضوع پر تحقیق شروع کی تھی۔ کرسپر کو سمجھنے میں ان کے اور فرانسیسی سائنس دان ایمینوئل شارپینٹیئر نے 2020 میں نوبل انعام جیتا۔
کرسپر پر تحقیق جو بیس سالوں میں کم از کم نو مختلف ممالک کی لیبارٹریوں پر محیط تھی۔اور یہ ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بڑی طبی اہمیت کی دریافت ایک بظاہر غیرمتعلقہ عام سی تحقیق سے شروع ہوئی، جو کہ خوردبینی جانداروں میں عجیب جینیاتی تسلسل کو سمجھنے کی کوشش تھی۔
اب ہم جانتے ہیں کہ بیکٹیریا اور آرکیا واقعی حملہ آور وائرس پر حملہ کرنے کے لیے کرسپر کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا میں قدرتی طور پر پائے جانے والے انزائم کے ذریعے وائرل جین کو تباہ کرنے کے لیے ٹیگ کر کے کام کرتا ہے۔ اس بنیادی سائنس کو ایک اہم طبی پیش رفت سمجھا جانے کی وجہ یہ ہے کہ کرسپر نظام کو جانوروں کے خلیوں، بشمول انسانی خلیوں کے جینوم کو اپنی مرضی سے ایڈٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کرسپر ٹیکنالوجی خلیوں کے اندر جین کو بند یا ایڈٹ کرنے کا ایک طریقہ فراہم کرتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پیدا ہونے والے انسان میں جینیاتی طور پر ردوبدل کرنا ممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2015 میں، انسانی جنین میں جین کو ایڈٹ کرنے کے لیے کرسپر کے استعمال کی پہلی بار کوشش کی گئی۔ اس مطالعہ میں، چینی سائنس دان جونجیو ہوانگ نے اس کا تجربہ ایسے انسانی جنین میں کیا جو ویسے بھی ناقص تھے، کیونکہ ان میں کروموسومز کا ایک اضافی سیٹ شامل تھا۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ اس کام سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ تجربہ اتنا کامیاب نہیں رہا جتنا امید کی گئی تھی۔ اس میں ٹارگٹ کئے گئے جین کے علاوہ دوسرے کچھ جینز میں بھی تبدیلی ہو گئی تھی۔ اس سے ایک بات واضح تھی کہ اگر کرسپر کو جین ایڈیٹنگ کے لئے استعمال کیا جانا تھی، تو اس کی درستگی کو بہتر بنانا ضروری تھا۔
بہت سے سائنس دانوں نے انسانی جین تبدیلی کرنے کے مقصد کیلئے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا۔ لیکن نومبر 2018 میں ہی جیانکوی نے سائنسی اتفاق رائے کو ایک طرف رکھ کر یہ کام سرانجام دے دیا۔ انہوں نے پانچ ویڈیوز کے ذریعے اپنے کام کو بیان کیا اور تصدیق کہ یہ دو بچے پیدا ہو چکے ہیں جن کے نام لولو اور نانا ہیں جن کے جین میں مصنوعی طور پر تبدیلی کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کانفرنس میں 160 مندوبین اور کے سامنے انہوں نے تقریباً بیس منٹ تک تقریر کی جس میں انہوں نے اپنے کام کے بارے میں بتایا کہ پیدا ہونے والے بچوں میں انہوں نے ایک جین کو غیر فعال کیا جسے CCR5 کہا جاتا ہے۔ یہ جین شمالی یورپی باشندوں کی تقریباً 1 فیصد آبادی میں قدرتی طور پر غیر فعال ہوتی ہے، اور انہیں ایچ آئی وی سے بچاتی ہے۔ اور جیانکوی نے کہا کہ اس کا مقص بچوں کو ایچ آئی وی کے خلاف مزاحم بنانا تھا۔ انہوں نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی تھی کہ نشانہ سے ہٹ کر کوئی جینیاتی اثرات نہ ہوں۔
سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آٹھ جوڑوں نے ہی جیانکوی کے پروگرام میں حصہ لیا تھا اور جیانکوی نے کل اکتیس جنین پر کام کیا تھا۔
اس کے بعد ڈیوڈ بالٹی مور پوڈیم پر آئے (جو کہ اسّی سالہ نوبل انعام یافتہ سائنسدان تھے)۔ بالٹی مور نے کہا کہ یہ کام غیرشفاف طریقے سے کیا گیا۔ اور بالکل اس کام کو ایک بڑی غیرذمہ دارانہ حرکت قرار دیا۔
ہی جیانکوی کے کام کو جلد ہی ہر طرح کے سائنسی، تعلیمی اور طبی اداروں اور متعدد حکومتی اداروں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا – کیونکہ انہوں نے انسانی جنین کے تجربات کے لیے اخلاقی گائیڈلائن سے ہٹ کر کام کیا تھا۔ اور جس طرح کی تبدیلی انہوں نے بچوں میں کرنے کی کوشش کی تھی، وہ ویسے نہیں ہوئی جو کہ انہوں نے چاہا تھا۔ انہوں نے CCR5 جین میں ایک مخصوص تغیر پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں امپلانٹ شدہ جنین میں CCR5 جین کا ایک اور مختلف تغیر پایا گیا۔ ان کا نتیجہ کیا ہو گا، یہ معلوم نہیں کہ کیا وہ اچھی طرح سے ایچ آئی وی مزاحمت دے سکتے ہیں یا نہیں اور آیا دفاعی نظام میں یا پھر کہیں اور بھی دوسرے نتائج ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر بھی، ہی جیانکوی کو ‘خبطی سائنس دان' کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی ہر سائنس دان نے ان کے کام کی مذمت کی ہے۔ امریکہ میں تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ 2012 میں واپس چین آئے تھے۔ ان کے پوسٹ ڈاکٹریٹ ایڈوائزر، سٹیفن کوئیک، کے مطابق ہی جیانکوی 'ذہین اور پرجوش' سائنسدان ہیں۔ کئی سائنسدانوں نے ان کی ہمت کی تعریف بھی کی۔ ہی جیانکوی کی نظر میں آئی وی ایف کے بانی اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان رابرٹ ایڈورڈز ان کے ایک ہیرو ہیں جنہوں نے تنقید کی پرواہ کئے بغیر خطرہ مول لے کر یہ انقلابی کام کر کے دکھایا تھا۔ ویسے ہی جیسے پہلی ٹیسٹ ٹیوب بچے، لوئیس براؤن، کی ماں کو یہ احساس نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا کام تھا۔ ان کی نظر میں یہ ویسا ہی بڑا معرکہ ہے جس کے آئندہ آنے والی دہائیوں میں بڑے نتائج ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کانفرنس کے بعد ہی جیانکوی عوامی نظروں سے غائب ہو گئے۔ ان کے تحقیقی پروگرام کو روک دیا گیا۔ 120 سے زیادہ سائنس دانوں، جن میں بہت سے چینی بھی شامل تھے، نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں فوری قانونی کارروائی اور عالمی بحث پر زور دیا گیا۔مارچ 2019 میں، عالمی ادارہ صحت نے اس کے مسائل پر بحث کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ دسمبر 2019 میں، ایک عدالت نے ہی پر تیس لاکھ یوآن کا جرمانہ عائد کیا، اور پھر انہیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انکے دو ساتھیوں کو بھی جرمانے اور سزائیں دی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی قومی ادارے ان سے پیدا ہونے والے مسائل پر بحث جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن انسانی جنین کی جینیاتی ایڈیٹنگ کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے – کیونکہ جین ایڈیٹنگ کی آسانی سے نگرانی، حفاظت یا روک تھام نہیں کی جا سکتی۔ آئندہ دہائیوں میں یہ بحث جاری رہے گی۔
لیکن ایک بات جو کہ نظر آتی ہے، وہ یہ کہ ہم بچوں کی پیدائش کے طریقے میں ایک بڑی وسیع تبدیلی دیکھنا ممکن ہیں۔ نئی سائنس کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے قوانین کا ممالک اور ثقافتوں کے درمیان مختلف ہونا یقینی ہے، اور اس بارے میں قوانین کو نافذ کرنا مشکل ہو گا۔ چیزیں اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں کہ یہ پیشگوئی کرنا ناممکن ہے کہ اکیسویں صدی میں کتنے بچے پیدا ہوں گے جنہیں یہ نئی سائنس چھیڑے گی۔ ابھی ہم صرف نقطہ آغاز پر ہیں۔
(جاری ہے)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں