باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

اتوار، 9 نومبر، 2025

جسم کے راز (17) ۔ محراب کے پتھر

 

مارکو پولو ایک پُل کو پتھر در پتھر بیان کرتا ہے۔
قبلائی خان پوچھتا ہے: "لیکن وہ کون سا پتھر ہے جو اس پُل کو سہارا دئے ہوئے ہے؟ جس کی وجہ سے پل قائم ہے؟”
مارکو جواب دیتا ہے: "پُل کو کسی ایک پتھر یا دوسرے پتھر سے سہارا نہیں ملتا، بلکہ اس محراب سے ملتا ہے جو یہ پتھر مل کر بناتے ہیں۔"
قبلائی خان خاموش رہتا ہے، سوچ میں گم ہو جاتا۔ پھر وہ پوچھتا ہے: “تو پھر تم مجھ سے ان پتھروں کی بات کیوں کرتے ہو؟ مجھے تو صرف محراب سے غرض ہے۔"
مارکو پولو جواب دیتا ہے: "پتھروں کے بغیر کوئی محراب نہیں ہوتا۔"
-“ان دیکھے شہر” سے اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیونارڈ ہرزنبرگ (لین) اور لیونور ہرزربرگ (لی) نے 1953 کے موسم گرما میں شادی کی، جب لین اکیس سال کے تھے اور لی اٹھارہ سال کی تھیں۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک، 2013 میں لین کی وفات تک، انہوں نے ایک ساتھ سائنسی تحقیق کی۔
جب انہوں نے اپنا سائنسی سفر شروع کیا، تو لیبارٹری کے لیے اپنی ضرورت کی ہر چیز خریدنے کے بجائے اپنے آلات خود بنانا عام تھا۔ لین اور لی کی بڑی کامیابی ایک سائنسی آلے کی ترقی تھی، جسے آج تقریباً ہر بائیولوجی لیب اور ہر ہسپتال استعمال کرتا ہے، جو جسم کے خلیوں کو گننے، ترتیب دینے اور تجزیہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
1959 میں، لین کو سٹینفورڈ میں ایک نئی لیب قائم کرنے کے لیے بھرتی کیا گیا اور لی نے بھی ان کے ساتھ کام شروع کیا۔
آج تو یہ عجیب لگے گا لیکن حیرت انگیز طور پر، اس وقت کیلٹیک میں خواتین کو کسی بھی انڈرگریجویٹ یا گریجویٹ پروگرام میں داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ لی کو اس بات کی اجازت مل گئی تھی کہ وہ کلاس میں بیٹھ سکیں۔ کورس کے آخر میں پروفیسر انہیں ایک خط دے دیتے تھے جس میں تصدیق کی جاتی کہ انہوں نے کورس لیا ہے، اور دوسرے تمام طلباء کی طرح ان کی کارکردگی کو بھی گریڈ دیا ہے۔ تاہم یونیورسٹی کی طرف سے انہیں کوئی ڈگری نہیں دی گئی۔ اس لئے لی کے پاس اب سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایک پروفیسر بننے کا منفرد اعزاز ہے کہ انہوں نے بغیر باضابطہ طور پر کالج سے گریجویٹ ہوئے یہ کام کیا۔
ان کی محبت ایک دوسرے سے بھی تھی اور سائنس سے بھی۔ ڈی این اے کی ڈبل ہیلکس شکل حال ہی میں دریافت ہوئی تھی، اور جینیات ان کے لیے خاص طور پر دلچسپ تھی۔سٹینفورڈ میں، وہ دفاعی نظام کا مطالعہ کرنے میں بھی شامل ہو گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے اس نظام کی پیچیدگی سامنے آ رہی تھی۔ کئی مختلف قسم کے دفاعی خلیات دریافت ہوئے تھے – کچھ جو خاص طور پر بیکٹیریا کو نگلنے میں اچھے تھے، جبکہ دوسرے وائرس سے متاثرہ خلیوں کو مار سکتے تھے۔ لیکن اس وقت ہماری سمجھ الجھن کا شکار تھی؛ یہ واضح نہیں تھا کہ کچھ قسم کے دفاعی خلیے کیا کرتے ہیں، جبکہ دیگر ابھی دریافت ہونے باقی تھے۔ لین کو درپیش کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ ایک نمونے میں کتنے خلیے تھے جس میں کئی اقسام شامل تھیں۔ انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرنے کے لیے، انہوں نے ایک ایسی تکنیک کا استعمال کیا جس نے ہر قسم کے خلیے کو ایک خاص رنگ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے خلیات کو مؤثر طریقے سے 'لیبل' کر دیا اور اس طرح انہیں گننا ممکن کیا۔ لیکن مائیکروسکوپ کے نیچے ایک ایک کر کے خلیوں کو گننا بہت مشقت طلب تھا۔ لین کو احساس ہوا کہ اگر کوئی ایسی مشین ہوتی جو اس کے لیے لیبل شدہ خلیوں کو گن سکتی تو یہ کتنا مفید ہوتا۔ لیکن یہ ان کے فوری کرنے کا کام نہیں تھا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ومبر 1961 میں اس کی تلاش انہیں نیو میکسیکو لے گئی۔ یہاں پر سائنسدانوں نے ایک مشین بنائی تھی جو کہ تابکار ذرات کی گنتی کرتی تھی اور سائز معلوم کرتی تھی۔ اس مشین کا مقصد ایٹمی تجربات کے بعد جانوروں کے پھیپھڑوں میں تابکاری کے اثرات معلوم کرنا تھا۔ لین کا خیال تھا کہ اس آلے میں تبدیلیاں کر کے لیبل شدہ خلیات بھی گنے جا سکتے ہیں۔ نیومیکسیکو کے سائنسدانوں کی اس کام میں دلچسپی نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی مشین کا بلیوپرنٹ لین کو دے دیا۔
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں