باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 24 اکتوبر، 2025

جسم کے راز (3) ۔ جزو اور کل

 


انسانی جسم اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے صرف حصہ بہ حصہ، جزو بہ جزو اور آلہ بہ آلہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسے ایک فن کا شائق کسی فن پارے کو مختلف زاویوں سے جانچ پرکھ کر اس سے  بہتر طور پر لطف اندوز ہوتا ہے، اسی طرح جسم کے ہر نئے زاویے سے جانچنے اور جاننے سے ہماری مجموعی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر سائنسی آلہ — چاہے وہ خوردبین ہو، کمپیوٹر ہو یا ریاضی — اور جسم کا ہر پہلو — دماغ، خلیہ یا مائیکرو بایوم — اتنی تخصیص (specialization) مانگتا ہے کہ ایک ماہر دوسرے شعبے سے لاعلم رہ جاتا ہے۔ 
ہر میدان اپنی مخصوص اصطلاحات، علامتوں اور کوڈ میں بند ہے۔تحقیق کی دنیا الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی ہے، جہاں ایک گروہ ایک ہی آلے یا جسم کے ایک ہی جزو پر مرتکز ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ زمین کی سب سے سادہ مخلوق — ایک واحد بیکٹیریا — کو بھی اب مکمل طور پر نہیں پڑھا جاتا، اور انسان کا جسم تو کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
انیسویں صدی میں، 1890 میں ہی “ٹائمز” اخبار نے لکھا تھا
کہ علم ’’اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اب کسی ایک کے قابو  میں نہیں آ سکتا‘‘
اور یہ ہی آج ہر شعبے کی حقیقت ہے: کوئی انسان کسی ایک علم کا مکمل ماہر نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانی جسم پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، ہر ایک کسی ایک خاص موضوع پر ہوتی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ چھ اہم جدید حیاتیاتی میدانوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے،
تاکہ ہم پورے جسم کو ایک اکائی کے طور پر دیکھ سکیں۔ علم کی وسعت نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اپنے جسم کے بارے میں ایسے ہی سوچیں جیسے طبیعیات دان روشنی کے بارے میں سوچتے ہیں — کبھی لہر ہے، کبھی ذرّہ، کبھی ریاضی کا فارمولا۔
اسی طرح انسانی جسم بھی الفاظ اور خاکوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ کتابی خاکے صرف غلط نہیں۔ تقریباً صحیح ہیں، تاہم مکمل نہیں۔
جیسے جیسے ہم خلیوں میں گہرائی تک جاتے ہیں، یہ سوال مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر خلیہ ہے کیا؟
خلیے ایک دوسرے سے جینیاتی مواد کا تبادلہ کر سکتے ہیں، اپنا اندرونی مادہ بانٹ سکتے ہیں، اور کبھی کبھی مل کر سپر خلیے بن جاتے ہیں۔ یوں یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ
ایک خلیہ کہاں ختم ہوتا ہے اور دوسرا کہاں شروع۔ اور جب خلیے کی تعریف ہی دھندلا جائے، تو وہ بنیادی اصول — "زندگی خلیوں سے بنی ہے" — بھی غیر واضح ہو جاتا ہے۔
یعنی، کبھی کبھی زیادہ علم ہونا فہم کو کم کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ اول کی خلائی مخلوق نے دوربین لگا کر اپنی دنیا سے ہماری دینا میں ہونا والا فٹبال کا میچ دیکھا تھا۔ اور بڑے برس لگا کر یہ دریافت کیا تھا کہ اس میں گیند ہونی چاہیے جو کہ اس میں ہونے والی حرکات اور سکنات کی گتھی سلجھا دیتی ہے۔ یہ ایک بڑی اہم دریافت تھی لیکن کیا یہ کافی تھی؟ نہیں۔ فٹ بال دیکھنے والے ایلین کے لیے گیند کی دریافت صرف ابتدا تھی۔ کھیل کے معانی اس سے کہیں زیادہ گہرے تھے — کھلاڑیوں کی مہارت، حکمت عملی، آف سائیڈ کے اصول، ٹورنامنٹ، کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے، ٹی وی حقوق، اور یہاں تک کہ بڑے میچ کے بعد ہونے والے ٹریفک جام کے اثرات۔ فٹبال کے کھیل کو سمجھنا محض گیند کی دریافت نہیں۔
اسی طرح انسانی زندگی بھی اتنی ہی تہہ دار اور پیچیدہ ہے۔ مگر ہمیں اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے — کیونکہ یہ تحقیق صرف جسم کے میکانزم کی تفصیلات نہیں بتاتی،
بلکہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو کیسے دیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں