باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 24 اکتوبر، 2025

جسم کے راز (2) ۔ نیا دور


جدید سائنسی دریافتوں میں جو کچھ ہم سیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انسانی جسم دوسری دنیاؤں سے بھری ہوئی ایک دنیا ہے۔ ہر عضو نت نئے خلیات کا ایک گودام ہے، اور ہر خلیے کا اپنا الگ منفرد اندرونی منظر ہے جس میں سیڑھیاں، کیپسول، پٹڑیاں اور دیگر سٹرکچر ہیں، جو حیاتیاتی تعمیراتی مواد کے اجزا سے تیار کیے گئے ہیں: پروٹین، شکر، چربی اور دیگر کیمیکل۔ ہمارا خام مال کوئی خاص نہیں ہے – آکسیجن، کاربن، ہائیڈروجن اور دیگر عناصر شامل ہیں – لیکن، ایک غیر معمولی انداز میں، ایک غیرمعمولی ترتیب کے ساتھ یہ خام عناصر ایک ایسا جسم تخلیق کرتے ہیں جو باشعور، اپنی مرمت کے قابل ہے۔ خود کر پرکھ بھی سکتا ہے اور شاعری بھی تخلیق کر سکتا ہے ہے۔ ہم کائنات میں اپنے جیسی کسی بھی اور شے سے واقف نہیں؛ اور غالب گمان ہے کہ کائنات میں ہمارے جیسا کچھ اور نہیں ہو گا۔ اور یقیناً اس سے زیادہ بڑا کمال کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم کیسے کام کرتے ہیں۔ ایسا کر لینا ہماری حیران کن تخلیق کا عروج ہو گا۔ نئے آلات اور اوزار، مائیکروسکوپ سے لے کر ڈیٹا کو تجزیہ کرنے والے پیچیدہ ڈیٹا سسٹم تک، جسم کی تہوں کو پہلے کبھی اس انداز میں نہیں دیکھا گیا۔ ہماری متفرق ایجادات ہمیں خود ہمارے بارے میں بہتر سمجھ فراہم کر رہے ہیں۔
یقیناً، تمام سائنس کا ہماری زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ لیکن کوئی بھی چیز ہمیں اتنی گہرائی سے یا براہ راست متاثر نہیں کرتی جتنی انسانی جسم کے بارے میں نئے انکشافات۔ بے شمار مثالیں ہیں: ہمارے جینز کا تجزیہ ہماری انفرادیت کی ایک نئی تفہیم پیش کرتا ہے؛ دماغی خلیوں کی سرگرمیوں کے تجزیے اس طرف اشارہ دیتے ہیں کہ یادوں کو کیسے ذخیرہ کیا جاتا ہے؛ ہمارے خلیوں کے اندر پائی جانے والی نئے سٹرکچرز کی دریافت ادویات کے لیے نئے خیالات کو جنم دیتی ہیں؛ ہمارے خون میں گردش کرنے والے مالیکیول ذہنی صحت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو بدل دیتے ہیں۔
یہ کتاب انسانی حیاتیات میں حالیہ پیش رفتوں کے بارے میں ہے، اور یہ ہمارے مستقبل کے لیے بہت اہم ہیں۔ علم کی سرحد پر جو بھی کچھ ہو، اسے اہم گردانا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب ان میں سے چھ ایسی دریافتوں کے بارے میں ہے جو بلا شبہ سنسنی خیز اور خاص طور پر اثر انگیز ہیں: انفرادی خلیہ، جنین (embryo)، جسم کے اعضاء اور نظام، دماغ، مائیکروبایوم اور جینوم۔ ان موضوعات کو آپ پہلے بھی جانتے ہوں گے۔ ان میں کس طرح کی نئی تفصیلات حال ہی میں سامنے آ رہی ہیں جو ہماری سمجھ اور صلاحیت کو یکسر تبدیل کر رہی ہیں۔ 
ہم دیکھیں گے کہ نئی دریافتیں ہماری روزمرہ کی زندگیوں کو کس طرح تبدیل کر رہی ہیں یا کر سکتی ہیں۔ اور شاید ان کا ہم پر براہ راست اثر مستقبل قریب میں ہو۔ میری رائے یہ ہے کہ ہماری زندگیوں پر ہونے والا سب سے بڑا اثر سائنس کے جس شعبے کا ہو گا یہ مصنوعی ذہانت یا خود کار چلنے والی کاریں یا روبوٹ نہیں ہیں۔ مستقبل قریب میں ہم پر سب سے زیادہ اثر انسانی حیاتیات کا ہو گا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیسویں صدی کے آخر میں طبیعیات میں ایک زبردست انقلاب آیا۔
1887 میں جرمن سائنس دان ہائنرش ہرٹزنے یہ دریافت کیا کہ ایسی پُراسرار الیکٹرومیگنیٹک لہریں موجود ہیں جو آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ برطانوی سائنس دان جیمز کلارک میکسویل کے نظریات کے عین مطابق تھا، جنہوں نے کہا تھا کہ روشنی بھی انہی لہروں کی ایک قسم ہے، اور اسی طرح دیگر غیر مرئی لہریں — جیسے ایکس رے (X-rays) اور ریڈیو ویو (Radio Waves) — بھی وجود رکھتی ہیں۔
اُس وقت یہ بالکل واضح نہیں تھا کہ ان لہروں کی دریافت کے عملی اثرات کیا ہوں گے، یا کیا کوئی اثر ہوں گے بھی یا نہیں۔
بدقسمتی سے، ہرٹز 1894 میں صرف چھتیس سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔ انہیں اندازہ بھی نہ تھا کہ ان کی دریافت ایک دن ریڈیو، ٹی وی، اور انٹرنیٹ جیسی ایجادات کی بنیاد بنے گی۔
اسی طرح، آج انسانی جسم کے بارے میں جو دریافتیں ہو رہی ہیں، وہ بھی مستقبل میں ہماری زندگیوں پر ان گنت اور ناقابلِ تصور اثرات ڈال سکتی ہیں۔ آئندہ آنے والی دہائیاں میں سبھی ان نتائج سے متاثر ہو سکتے ہیں۔۔
اس ترقی کے لئے سائنس کے پردے کے پیچھے انسان، مشین اور تحقیق ہے۔ وہ سائنس دان، وہ محقق، اور وہ جدید ٹیکنالوجی جو انسانی جسم کے رازوں کو بے نقاب کر رہی ہے۔
جس طرح ایلین سائنسدانوں کو گیند کی دریافت کے لیے بہتر دوربین ضروری تھی، اسی طرح انسانی جسم کو سمجھنے کے لیے نئے سائنسی آلات لازمی ہیں۔ یہ آلات شاید موبائل فون یا سوشل میڈیا کی طرح شہہ سرخیوں کا حصہ نہیں بنتے لیکن ان کے اثرات زیادہ گہرے اور دوررس ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1665 میں رابرٹ ہک نے ایک سادہ خوردبین کے ذریعے کارک کے ٹکڑوں میں چھوٹے خانے دیکھے، جنہیں اس نے خلیے کہا۔
آج کی جدید خوردبینوں میں، ہم خلیوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ چھوٹی شاخیں نکالتے ہیں، جال بُنتے ہیں، اور مالیکیول کے پیکٹ خارج کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ خلیے ہمارے اعضاء میں کس طرح حرکت کرتے ہیں، ان کے اندر جین اور انزائم کس وقت اور کیسے فعال یا غیر فعال ہوتے ہیں۔
ان نئے آلات نے نہ صرف ہمیں یہ دکھایا کہ خلیے کس طرح کام کرتے ہیں، اور ہمیں جسم کو سمجھنے اور اس میں مداخلت کرنے کی طاقت بھی دے دی ہے۔ اپنی لیبارٹری میں ہم نے انہی خوردبینوں کی مدد سے دیکھا کہ مدافعتی خلیے کس طرح کینسر کے خلیوں کو پہچانتے اور تباہ کرتے ہیں۔ ان پراسس کو مالیکیول کی سطح پر دیکھ کر سائنس دان یہ سمجھنے لگے کہ مدافعتی خلیے کینسر کو کیسے شناخت کرتے ہیں — جبکہ کینسر کے خلیے خود کو کیسے چھپاتے ہیں۔
یہ تمام علم نئی ادویات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں تین ہزار سے زائد کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں جن میں کینسر کی نئی دوائیں آزمائی جا رہی ہیں، جن کا مقصد مدافعتی نظام کو فعال یا مضبوط بنانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ نئی خوردبینیں انسانی جسم کے بے شمار راز آشکار کر رہی ہیں، لیکن وہ ایک بڑا مسئلہ بھی پیدا کر رہی ہیں۔ ایک قسم کی خوردبین سب سے زیادہ باریک تفصیل دکھا سکتی ہے،
لیکن اس تفصیلی تصویر کو حاصل کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ دوسری خوردبین مالیکیول کی حرکت دکھانے میں بہتر ہے، مگر وہ اتنی درست (precise) نہیں۔
تیسری خوردبین حرکت اور درستگی دونوں قربان کر کے وسیع منظر (wide view) دیتی ہے — مثلاً، بجائے ایک خلیے کے ننھے حصے کے۔ یہ پورے عضو کا منظر دکھاتی ہیں۔
اسی دوران، ریاضیاتی تجزیے اور کمپیوٹر سمولیشن ایک  بالکل مختلف زاویہ پیش کرتے ہیں۔
ہم جین یا پروٹین کی سرگرمی کو بھی ناپتے ہیں، جو جسم کو ایک اور رخ سے ظاہر کرتے ہیں۔ یوں انسانی جسم کو سمجھنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے آپ مونا لیزا کی صرف بائیں آنکھ دیکھ کر پوری تصویر کا مطلب جاننے کی کوشش کریں۔
جتنا حیرت انگیز وہ ٹکڑا ہے، اتنا ہی ادھورا بھی ہے۔
کیونکہ مونا لیزا کو سمجھنے کے لئے بھی صرف تصویر کو قریب سے دیکھ لینا کافی نہیں۔ تاریخ، مصوری، قدر اور دیگر طریقوں سے اسے جاننا الگ معنی آشکار کرتا ہے۔ جس طرح مونا لیزا کو سمجھنے کے بھی بے شمار طریقے ہیں، ویسے ہی خود کو سمجھنے کے بھی۔
(جاری ہے)



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں