باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

جمعہ، 24 اکتوبر، 2025

جسم کے راز (4) ۔ چھوٹی اشیا


تیس سالہ سائنس دان رابرٹ ہُک نے 1665 میں دنیا کی پہلی مائیکروسکوپ سے لی گئی تصویری کتاب 'مائیکروگرافیا' شائع کی۔ اس میں، ہُک نے پہلی بار مختلف روزمرہ کی اشیاء کی تفصیلی ڈرائنگ پیش کیں جنہیں ڈرامائی طور پر بڑا کر کے دکھایا گیا تھا۔ سوئی کا سرا، استرے کے بلیڈ کا کنارہ، اور ایک دیو قامت پسو شامل تھا۔ کارک کے ایک باریک ٹکڑے کے اندر، بڑی کی گئی تصویر نے ڈبوں جیسی ساخت ظاہر کیں۔ ہُک نے انہیں 'خلیات' کا نام دیا۔ تین سال بعد، کپڑے کے ڈچ تاجر اینٹونی وین لیوینہوک نے ہُک کی کتاب دیکھی اور خود بھی مائیکروسکوپ بنانا شروع کر دیے جو ہُک کے مائیکروسکوپ سے بہتر ثابت ہوئے۔ 1676 میں، لیوینہوک نے پانی کے ایک قطرے میں چھپے ہوئے ننھے جانداروں کو دیکھا۔ یہ بیکٹیریا کا پہلا مشاہدہ تھا۔ ایک سال بعد، اس نے ایک اور اہم دریافت کی جو کہ سپرم تھے۔
طاقتور ہونے والے مائیکروسکوپ ایسی دنیاؤں کو بے نقاب کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں پہلے کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔ مائیکروسکوپ کو بہتر بنانا نئے انکشافات کا راستہ ہے۔ 1872 میں، جرمن سائنسدان ارنسٹ ایب نے دکھایا کہ اس چیز کی ایک حد ہے کہ ایک مائیکروسکوپ کتنا طاقتور ہو سکتا ہے۔ ایب کے ریاضیاتی تجزیے نے دکھایا کہ ایک بے عیب آپٹیکل مائیکروسکوپ بھی لامتناہی طور پر زوم نہیں کر سکتا، کیونکہ روشنی چھوٹے اجسام کے ارد گرد diffract  ہوتی ہے۔ کسی بھی مائیکروسکوپ کے ذریعے حاصل کی جانے والی اعلیٰ ترین ریزولیوشن روشنی کی ویو لینتھ کا تقریباً نصف ہو گی۔ جو تقریباً 200 نینو میٹر یا انسانی بال کی چوڑائی کا تقریبا ایک ہزارواں حصہ ہے۔ ہمارے لیے اتنے چھوٹے فاصلے کا تصور کرنا مشکل ہے لیکن حیرت انگیز اور اہم چیزیں ہیں جو اس سے چھوٹی ہیں۔ تتلی کے پروں کے اندر کے سٹرکچر جو انہیں ان کی قوس قزح جیسی رنگت فراہم کرتی ہیں، سے لے کر ایچ آئی وی وائرس تک جس نے 35 ملین لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ 
دوسرے سائنسی آلات ہمیں ان چیزوں کا پتہ لگانے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی زندہ نمونوں پر کام نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ اشیا کا براہ راست معائنہ کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، ایک الیکٹران مائیکروسکوپ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نمونے کو کیمیکلز میں نہلا کر ایک ویکیوم چیمبر میں رکھا جائے۔ ہم اس کی مدد سے معائنہ اور تفتیش تہ کر سکتے ہیں لیکن زندگی کی حالت میں نہیں۔ صرف روشنی سے چلنے والا مائیکروسکوپ ہی ہمیں ایک زندہ خلیے میں براہ راست عمل کا مشاہدہ کرنے دیتا ہے، اور ایب کا قانون ایک خاص نقطہ سے آگے ایسا کرنے میں ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ لگتا تھا۔
اور پھر بھی، اب، دریافتوں کے ایک ایسے حیران کن اور دلچسپ سلسلے کی بدولت ہم ایب کی پیش گوئی کردہ ممکنہ حد سے کم از کم دس گنا چھوٹے پیمانے پر دیکھنے کے قابل ہیں۔ اس وجہ سے نئی انسانی اناٹومی کی دریافت ہمارے لئے نئی چیزیں دریافت کر رہی ہے۔ اس حد تک کہ ہمیں یہ دوبارہ سوچنا پڑا ہے کہ حیاتیات کی بنیادی اکائی – خلیہ – دراصل کیا ہے۔
اس قابل ذکر کارنامے کی کہانی ایک جاپانی سائنس دان اوسامو شیمومورا اور جیلی فش کے ساتھ ان کی دلچسپی سے شروع ہوتی ہے۔ اور یہ کہانی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محض تجسس کی خاطر تحقیق کس قدر دلچسپ نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ شیمومورا کے ذہن میں جو سوال تھا، وہ یہ کہ آخر یہ جیلی فش جو روشنی دیتی ہے، یہ آتی کہاں سے ہے۔
(جاری ہے)



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں