اگر ہم مختلف طرح کے سکے الگ کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے انہیں سوراخوں کی ایک سیریز سے گزارتا ہے جن کا سائز گھٹتا جاتا ہے، تاکہ سب سے بڑے سکے پہلے ایک ڈھیر میں الگ ہو جائیں، اس کے بعد اگلے بڑے سکے نکال لیے جائیں، اور اسی طرح تمام سکوں کو الگ کر لیا جائے۔ تاہم، خلیوں کو اس طرح آسانی سے چھانٹا نہیں جا سکتا، کیونکہ بہت سی مختلف قسم کے خلیوں کا سائز ملتا جلتا ہوتا ہے، اور وہ اپنی شکل بدل سکتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ ننھے خلیوں کو الگ کرنے کے لیے سکے چھانٹنے والے سے کہیں زیادہ نفیس مشین کی ضرورت ہے۔
وہ مشین جسے لین اور لی نے تیار کیا، اسے فلو سائٹو میٹر (Flow Cytometer) کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر، خلیوں کو روشنی کی شعاعوں میں سے ایک ہی قطار میں بہیں۔ یہ کام کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ جدید مشینوں میں سب سے زیادہ عام طور پر، ایک مائع میں موجود خلیوں کو دوسرے مائع کے دھارے میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، جسے شیث فلوئڈ کہا جاتا ہے۔ ایک قدرتی عمل کے ذریعے جسے ہائیڈرو ڈائنامک فوکسنگ (hydrodynamic focusing) کہتے ہیں، یہ خلیوں کو دونوں مائع کے مرکز میں ایک باریک لکیر میں سفر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کبھی کبھار، خلیوں کو بالکل سیدھ میں لانے کے لیے صوتی لہروں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
اہم بات یہ کہ خون کے نمونے میں موجود مختلف قسم کے خلیوں کو پہلے ہی مختلف چمکدار رنگ کے مارکرز کے ساتھ لیبل کیا جاتا ہے۔ آجکل، یہ خاص پروٹین مالیکیولز کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے جسے مونوکلونل اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے – اپنا آلہ بناتے وقت لین اور لی نے الگ الگ ٹیوبوں میں خلیوں میں رنگ شامل کیے اور پھر انہیں ملا دیا، تاکہ مختلف رنگ کے خلیوں کی طے شدہ تعداد کے ساتھ نمونے تیار کر سکیں۔
آلے کے اندر، ایک قطار میں بہنے والے خلیے لیزر شعاعیں سے گزرتے ہیں۔ جب خلیوں کا دھارا لیزر روشنی سے گزرتا ہے تو مختلف فلوروسینٹ مارکرز ایک مختلف رنگ خارج کرتے ہیں۔ آئینے اور عدسے اس روشنی کو جمع کرتے ہیں اور انہیں ڈیٹیکٹرز پر فوکس کرتے ہیں، جو روشنی کو بجلی کے پلس (pulses) میں تبدیل کرتے ہیں۔ دوسرے ڈیٹیکٹر خلیے سے منعکس ہونے والی روشنی کی مقدار کا پتہ لگاتے ہیں، اور ان کی مدد سے خلیے کے سائز اور اندرونی پیچیدگی کے بارے میں معلومات فراہم ہوتی ہے۔ جدید آلے میں، ہر سیکنڈ میں ہزاروں خلیوں سے انفرادی رنگوں کے پلس اور منعکس شدہ روشنی کی مقدار کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، اور کمپیوٹر سافٹ ویئر نتائج کو ظاہر کرتا ہے۔
نیومیکسیکو سے لئے گئے بلیوپرنٹ سے لے کر اس آلے کی تیاری میں لین اور لی کی ٹیم کو سات سال لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بہت اہم ایجاد تھی۔ خلیات کو گن لینے سے بہت سے کام لئے جا سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہاں پر کام نہیں روکا۔ کئی جگہوں پر مختلف خلیات کو چھانٹنے اور الگ کرنے کی ضرورت پیص آتی ہے۔ اس کیلئے انہوں نے اسی کام کو آگے بڑھایا۔ یہ اگلی ایجاد FACS کہلاتی ہے۔ یہ آلہ بنیادی فلو سائٹو میٹر کی طرح کام کرتا ہے، لیکن ایک اہم فرق ہے۔ لیزر کے سامنے سے گزرنے سے پہلے، خلیوں کا دھارا ایک چھوٹے سے سوراخ یا نوزل سے گزرتا ہے جسے ارتعاص دیا جاتا ہے تاکہ بوندیں پیدا ہوں، جن میں سے ہر ایک میں ایک واحد خلیہ ہو۔ بوندوں کو ایک ہی جگہ پر گرانے کے لیے درکار درست فریکونسی، کو 'دی سویٹ سپاٹ' کہا جاتا ہے، جس کا نام اس اصول کے موجد سویٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ برقی چارج کی مدد سے اسے ٹھیک جگہ پر گرا کر مختلف اقسام کے خلیات کو اکٹھا کر لیا جاتا ہے۔ اور اس طرح، مختلف قسم کے خلیوں کو الگ الگ چھانٹا جاتا ہے۔
انہیں معلوم تھا کہ خلیات کو چھانٹنا کس قدر اہم ہو گا۔ اس سے ہماری دفاعی نظام اور جسم کے دیگر حصوں کی پیچیدگی کا نقاب اتارنے میں مدد ملے گی۔ یہ جانا جا سکے گا کہ ایک سسٹم میں کتنی قسم کے خلیات ہیں۔ ان کی خاصیت اور کام معلوم کئے جا سکیں گے۔ اور اگر زندہ خلیات کو اس طریقے سے الگ چھانٹ لیا جائے تو ان پر تجربات کئے جا سکیں گے۔ لیکن ان کے، یا کسی اور کے لئے بھی، یہ ناممکن تھا کہ وہ یہ جان سکے کہ انہوں نے جو آلہ بنایا ہے، وہ کس قدر زیادہ طاقتور ہو گا۔
اس کی بنیاد جس مشین نے دی تھی، اس کو ایٹمی تجربات کی تحقیق میں جسم میں تابکار ذرات کی گنتی کی لئے تیار کیا گیا تھ۔ تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی کی تحقیق سے شفا کی طاقتور قوت ایجاد ہو گئی۔
آج خون، ٹشو یا ٹیومر کے نمونوں پر فلو سائیٹومیٹری کرنا ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں عام ہے۔ ان سے جسم میں بیکٹیریا اور وائرس کا پتا لگایا جاتا ہے۔ مریض کے دفاعی نظام کی صورتحال دیکھی جاتی ہے۔ ویکسین کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کو تھوڑا سا بدل کر جینیاتی نقائص کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے سمندروں میں ننھی زندگی کی سٹڈی ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو یہ عام ہے اور اس کو بنانا منافع بخش کاروبار ہے لیکن جب یہ ایجاد ہوا تو اس وقت کوئی اس کے لئے تیار نہ تھا۔ پھر لین کی ملاقات ڈکنسن کمپنی کے برنارڈ شور سے ہوئی۔ شور کا خیال تھا کہ اگر ان کی کمپنی یہ آلہ بنا لے گی تو شاید دس خریدار ہوں گے۔ اگر بہت ہو گیا تو زیادہ سے زیادہ 30 آلات بک سکیں گے۔ لین کا کہنا تھا کہ وہ 100 آلات بیچ سکتے ہیں۔ شور نے اس پر شرط لگانے کا فیصلہ کیا۔ اور اسکو بنانے کا لائسنس لے لیا۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کی مانگ کتنی ہو گی۔ وہ سن 2000 تک 30000 فلو سائٹومیٹر بیچ چکے تھے۔ 2018 تک یہ 3.7 ارب ڈالر کی مارکیٹ ہو چکی تھی اور مانگ بڑھ رہی تھی۔ اپنی شرط سے شور ایک کامیاب بائیوٹیکنالوجی کمپنی بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
Your Ad Spot
اتوار، 9 نومبر، 2025
جسم کے راز (18) ۔ گنتی کی مشین
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں