باتیں ادھر ادھر کی

تازہ ترین

Post Top Ad

Your Ad Spot

اتوار، 9 نومبر، 2025

جسم کے راز (19) ۔ اینٹی باڈی


جسم میں خلیات قسم قسم کے ہیں۔ ایک عام نیورون جس میں لمبے خلیے میں سے کئی قسم کی شاخیں نکلی ہیں، خون کے سرخ خلیے سے، جو کہ چپٹی پلیٹ کی طرح ہے، بہت مختلف ہے۔  بہت قسم کے خلیات خوردبین کے نیچے چھوٹے اور گول لگتے ہیں۔ لیکن جسم کے ہر قسم کے تمام خلیات میں بالکل ایک ہی جین ہیں۔ (ماسوائے بیضے اور سپرم کے، جن میں آدھے جین ہوتے ہیں)۔  تو پھر ایک خلیہ دوسرے سے مختلف کیسے ہوتا ہے؟ اس کا انحصار اس پر ہے کہ کہ اس میں کن جین کا سوئچ آن ہے۔ اس سے خلیہ کی خاصیت، صلاحیت اور کام طے ہوتے ہیں۔ جین پروٹین کے مالیکیول تیار کرنے کے کوڈ ہیں۔ اس لئے جب جین آن ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس خلیے میں یہ جین ہے، وہ ایسی پروٹین تیار کرے گا جس کا کوڈ اس جین میں ہے۔ مثال کے طور پر: خون کے سرخ خلیے  میں وہ جین آن ہے جو ہیموگلوبن تیار کرتی ہے۔ یہ آکسیجن سے جڑتا ہے اور ان خلیات کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ آکسیجن کو پھیپھڑوں سے جسم کے دیگر حصوں تک لے جا سکیں۔ (ہیموگلوبن پروٹین کے چار مالیکیول سے بنتی ہے جن کا کوڈ الگ الگ جین کے پاس ہے)۔ یہ والے جین خون کے سرخ خلیوں میں تو آن ہوتے ہیں لیکن کسی بھی اور خلیے میں نہیں۔ اس کی ایک اور مثال : مدافعتی نظام کے خلیات میں سے ایک ٹی سیل ہے۔ اس کی سطح پر پروٹین کا گروپ مل کر ٹی سیل ریسپٹر بناتا ہے۔ یہ اسی خلیے سے خاص ہے۔ اور اس کی مدد سے یہ کسی خلیے میں انفیکشن یا کینسر کا پتا لگاتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو یہ کہ ایک خلیہ کیا کر سکتا ہے، اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس میں کونسی پروٹین ہے۔ اس لئے الگ قسم کے خلیات کو الگ کرنا ہے تو اس کے لئے ایسا طریقہ درکار ہے ہر خلیے کی پروٹین کا خاص دستخط ٹیگ کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اینٹی باڈی پروٹین کے وہ مالیکیول ہے جو کہ جسم کے مدافعتی نظام کے کچھ خلیات خارج کرتے ہیں۔ یہ بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا، وائرس یا دیگر خطرناک خلیات سے چپک جاتے ہیں اور انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔ اینٹی باڈیز خاصے پیچیدہ ہیں اور جسم کے کمال عجائب میں سے ہیں۔  مدافعتی نظام کے خلیات “بی سیل” اینٹی باڈی خارج کرتے ہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ ہر انفرادی بی سیل چرف ایک ہی قسم کی اینٹی باڈی خارج کرتا ہے۔ ہر اینٹی باڈی کی منفرد شکل ہے جو کہ قریب قریب Y کی طرح کی ہوتی ہے۔ یہ اپنے دو سروں سے اپنے ہدف (مثلاؔ، ایک خاص بیکٹیریا) کے باہری حصے سے چپک جاتی ہے۔ منفرد اینٹی باڈیز کا مطلب یہ ہے کہ ایک اینٹی باڈی صرف ایک ہی خاص ہدف کے لئے ہے۔ اور جو بات کمال کی ہے، وہ ایک اور ہے۔ 
بی سیل جراثیم سے چپکنے والی شکل کی اینٹی باڈی پیدا نہیں کرتے بلکہ ہر اینٹی باڈی کا اوپری حصہ تقریباً رینڈم شکل کا ہوتا ہے۔ پھر، جیسے ہی ہر بی سیل ہڈی کے گودے میں تیار ہوتا ہے، اسے جانچا جاتا ہے کہ آیا جس طرح کی اینٹی باڈی وہ پیدا کرتا ہے، وہ جسم میں قدرتی طور پر موجود کسی چیز سے چپکتی تو نہیں؟ اگر ایسا ہو تو ایسے بی سیل کو مار دیا جاتا ہے یا غیرفعال کر دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہڈی کے گودے سے باہر نکلنے کی اجازت صرف ان بی خلیوں کو ہوتی ہے جو ایسی اینٹی باڈیز بناتے ہیں جو صرف ان چیزوں سے چپکیں جو جسم میں عام طور پر موجود نہیں۔
اگر ہم میں دس ارب بی سیل ہیں، تو اس کا مطلب یہ کہ ہم میں سے ہر ایک میں دس ارب مختلف شکلوں والی اینٹی باڈیز بن سکتی ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی ایسی چیز سے چپک سکتی ہے جو کہ پہلے سے جسم میں موجود نہیں تھی۔  جب ایک انفرادی بی سیل باہر سے آنے والی کسی خطرناک چیز سے چپکنے والے شکل رکھتا ہے اور اس خطرے کو مار سکتا ہے تو وہ بی سیل تیزی سے multiply ہوتا ہے۔ تا کہ اس کی مفید اینٹی باڈی بڑی مقدار میں تیزی سے تیار ہو سکے۔ اس طرح، اینٹی باڈیز کو جسم کے لیے عملی طور پر کسی بھی خارجی چیز کے خلاف بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے ہمارا دفاعی نظامایسے جراثیم کا جواب دے سکتا ہے جن کا سامنا پہلے کبھی نہیں ہوا، بشمول ایسے جراثیم جو کائنات میں پہلے کبھی وجود میں بھی نہیں آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان ایسی اینٹی باڈی پیدا نہیں کر سکتے جو کہ انسانی پروٹین کو ہدف بناتی ہیں۔ لیکن اگر ایسا کر لیا جائے تو پھر کسی خاص خلیے کو بآسانی ٹیگ کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے لئے غیرانسانی خلیہ استعمال کیا جائے۔ یہ وہ بڑی ایجاد تھی جو کہ لین اور لی نے کی۔ چوہے یا کسی اور جانور میں انسانی پروٹین داخل کی جائے۔ وہ جانور اس کے خلاف مدافعاتی عمل دکھائے۔ اس کے بی سیل بڑی تعداد میں ایسی اینٹی باڈی خارج کرنے لگیں جو کہ اس خلیے کو پکڑ لیتی ہے۔ اور اس جانور کی تلی (جہاں پر بی سیل بکثرت ہوتے ہیں) سے یہ بی سیل اکٹھے کر لئے جائیں۔
اس میں مسئلہ یہ ہے کہ بی سیل جانور کے جسم کے باہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے انہوں نے ایک اور دلچسپ تکنیک استعمال کی (جو کہ ملسٹین اور کوہلر کی ایجاد تھی)۔  ان بی سیل کو کینسر کے خلیات کے ساتھ فیوز کر دیا۔ تا کہ نئے خلیات بنیں جن کے بڑھنے کی خاصیت کینسر کی طرح ہو (جو کہ کینسر کی مہارت ہے) جبکہ وہ مطلوب اینٹی باڈی ہی پیدا کرتے ہوں۔  یہ خیال بظاہر پاگل پن لگتا تھا لیکن یہ کام کر گیا۔ چوہوں کے کینسر کے خلیات اس میں کام آئے۔ 
اب ان اینٹی باڈیز کو اکٹھا کیا گیا۔ یہ اب ایک خاص انسانی خلیہ کو ٹیگ کرنے میں مہارت رکھتی تھیں۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری خلیات کو گننے کی کہانی میں ان کا اہم کردار ہے کیونکہ اس طریقے سے خاص خلیات کو ٹارگٹ کر کے ٹیگ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ اہم اس لئے کہ خلیات کی معمولی ویری ایشن کو بھی الگ کیا جا سکتا ہے۔ 
لیکن یہ طریقہ (جس پر کوہلر اور ملسسٹین کو نوبل انعام ملا) میڈیکل سائنس کے لئے بڑا سنگ میل ہے۔ اینٹی باڈی کو اس طرح سے تیار کرنا مونوکلونل اینٹی باڈی کہلاتا ہے۔ اور اس کی اہمیت میڈیکل سائنس میں بہت زیادہ ہے۔ آج کی بہت سی کامیاب ادویات اس طریقے سے بنائی جاتی ہے۔ اور ان کی پیداوار سالانہ ایک کھرب ڈالر کا بزنس ہے۔
(جاری ہے)





  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

Your Ad Spot

میرے بارے میں