بیماریوں سے نمٹنے کے علاوہ فلو سائیٹومیٹری نے عام طور پر انسانی جسم کو دیکھنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اوسط جسم میں تقریباً 37 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں، اور فلو سائیٹومیٹری نے ان سب کو سمجھنے کی کوشش کو طاقتور بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر، کئی قسم کے خلیے ہیں ہمارے دفاعی نظام کو بناتے ہیں – جیسے کہ ٹی خلیے، بی خلیے وغیرہ – لیکن یہ واضح ہو گیا ہے، خاص طور پر پچھلے کچھ سالوں میں، کہ یہ نام صرف موٹی موٹی تفصیلی بیان کرتے ہیں۔ ہر انفرادی خلیہ اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔
دفاعی خلیے کی ایک قسم کو نیچرل کلر سیل (Natural Killer cell) کہا جاتا ہے۔ خون کے ہر قطرے میں ان دفاعی خلیوں میں سے تقریباً ایک ہزار ہوتے ہیں، اور یہ خاص طور پر ایسے خلیوں کا پتہ لگانے اور مارنے میں اچھے ہوتے ہیں جو کینسر زدہ ہو چکے ہوں یا وائرس سے متاثر ہو گئے ہوں۔ لیکن تمام نیچرل کلر خلیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اندازہ ہے کہ کسی بھی ایک شخص میں اس دفاعی خلیے کی ہزاروں اقسام ہیں۔
جسم میں ان کے مختلف کردار پوری طرح سے سمجھا نہیں گیا، لیکن کچھ کا امکان ہے کہ وہ خاص قسم کے وائرس پر حملہ کرنے میں خاص طور پر ماہر ہوں گے، جبکہ دوسرے ممکنہ طور پر کینسر کا پتہ لگانے میں بہتر ہوں گے، اور اسی طرح دفاعی خلیوں کی دوسری اقسام کے ساتھ ہے۔ ہمارے خلیے اتنے ہی متنوع ہیں جتنے وہ انسان جنہیں وہ بناتے ہیں، اور یہ سمجھنا کہ خلیوں کی ایسی پیچیدہ آبادی ایک ساتھ کیسے کام کرتی ہے، ایک بڑا محاذ ہے۔ اس میں کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کچھ مدد ضرور کرتی ہے۔ہر خلیے میں دس ہزار مختلف قسم کے پروٹین ہو سکتے ہیں۔
یہ بے انتہا پیچیدگی ہے اور اس کی نقشہ بندی کے الگورتھم پروٹین اور ان کے مقام کی مدد سے یہ نقشہ سازی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکنالوجی میں حالیہ پیشرفت میں ایک ماس سائیٹومیٹری (mass cytometry) ہے۔ اس میں، اینٹی باڈیز کو رنگوں کے بجائے مختلف دھاتی ایٹموں سے لیبل کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے انفرادی خلیے کے بارے میں تقریباً ایک سو مختلف خصوصیات کو ماپا جا سکتا ہے۔
جبکہ گزشتہ دہائی میں ایجاد کیا جانے والا ایک اہم طریقہ – سنگل سیل آر این اے سیکوینسنگ (single-cell RNA sequencing) ہے۔ یہ اس بات کی پیمائش کر سکتا ہے کہ ہر خلیہ اپنے پاس موجود 20,000 انسانی جینز میں سے ہر ایک کو کس حد تک استعمال کر رہا ہے۔ یہ انجینئرنگ کا ایک حیران کن کارنامہ ہے۔ اور اس میں جس قدر کمال خلیاتی بائیولوجی کا ہے، کم از کم اتنا ہی کمپیوٹر سائنس کا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹ سائنس دانوں کے کنسورشیم نے ان کی مدد سے ٹریکیا (trachea) کی اندرونی تہہ کا تجزیہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ 11 سینٹی میٹر لمبی نالی ہے جو کہ ہمارے گلے سے ہمارے پھیپھڑوں تک ہوا لے جاتی ہے۔ سب سے پہلے، اس ٹیم نے چوہوں کی ٹریکیا کا مطالعہ کیا۔ اس تحقیق سے پہلے، ٹریکیا میں چھ قسم کے خلیوں کے موجود ہونے کا علم تھا۔ اس میں ان کی زیادہ تفصیل سامنے آئی۔ لیکن دلچسپ چیز یہ تھی کہ خلیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد ایسی تھی جو پہلے سے معلوم کسی بھی چیز سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ پہلے تجزیے میں ٹیم کو 300 میں سے تین ایسے نظر آئے جو کہ غیرمتوقع تھے۔
انہوں نے تجربے کو کئی بار دہرایا، اور جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ انہیں ٹریکیا میں ایک نئی قسم کا خلیے ملا ہے۔
یہ نئے خلیے پہلے صرف اس لیے نظر نہیں آئے تھے کیونکہ وہ تعداد میں کم ہیں اور تقریباً 1 فیصد ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر اہم ہیں۔ جب ٹیموں نے تفصیل سے دیکھا کہ کون سے جین ان خلیوں میں منفرد طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تو وہ ایک حیران کن چیز کے سامنے آئی۔ ان خلیوں میں خاص طور پر فعال جینز میں سے ایک CFTR نکلا۔ حیران کن یہ اس لئے تھا کیونکہ اس جین کا نقص سسٹک فائبروسس (cystic fibrosis) کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔
"خراب CFTR سے سسٹک فائبروسس کس طرح ہوتا ہے؟ یہ 1989 میں اس ربط کی دریافت کے بعد سے ایک معمہ رہا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے، جو عام طور پر بچپن میں شروع ہوتی ہے، جس کی علامات میں اکثر پھیپھڑوں کے انفیکشن اور سانس لینے میں دشواری شامل ہوتی ہے۔ اس کا کوئی مستقل علاج دستیاب نہیں۔
لیکن ان نئے دریافت شدہ خلیوں کے کام کو سمجھنے کی تحقیق اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ جسم کے خلیوں کے بارے میں ہماری سمجھ عملی حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس کے امتزاج کی وجہ سے بدل رہی ہے۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں جسم کی سمجھ کا کھیل بدلنے والی دریافتیں ہونے والی ہیں۔ اور اس میں شروعات ہوئی ایک نئے پراجیکٹ کی، جو کہ انسانی خلیات کا نقشہ بنانے کے لئے (Human Cell Atlas) تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکتوبر 2016 میں 93 سائنسدانوں کی لندن میں ملاقات ہوئی جہاں پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ انسانی خلیات کے لئے گوگل میپ کی طرز کا نقشہ بنانا ایک انقلابی پیشرفت ہو سیتی ہے۔ اگلے سال میں انہوں نے ایک پلان تیار کر لیا تھا۔ 102 ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سائنسدان اب اس کا حصہ ہیں۔ اس وقت تک یہ دس کروڑ سے زائد خلیات کی نقشہ بندی کر چکے ہیں۔
اس کی ایک دلچسپ دریافت حمل کے وقت دفاعی خلیات کے رویے کی تھی۔ اس سے قبل خیال تھا کہ ماں کے رحم کی اندرونی تہہ میں دفاعی نظام بند ہو جاتا ہے تا کہ پلاسنٹا اور جنین کو یہ بیرونی جسم سمجھ کر اس پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ لیکن معلوم ہوا کہ حقیقت اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔
یہ تو درست ہے کہ رحم میں دفاعی خلیات کی سرگرمی کچھ کم ہو جاتی ہے۔ تاہم، نیچرل کلر خلیات (وہ دفاعی خلیے جو کینسر کو مارنے کے ماہر ہیں)، یہاں پر بالکل ہی مختلف کام کرتے ہیں۔ مارنے کے بجائے، یہ پلاسنٹا کی تعمیر میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں جینز کا ایک خاص پروفائل آن ہو جاتا ہے جس وجہ سے یہ اس علاقے میں الگ ہی طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر دفاعی خلیات بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہر ایک کا کردار کیا ہے؟ یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ہم یہاں اپنے علم کی سرحد پر ہیں۔ لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نئی دریافتوں کے آغاز پر ہیں۔
اس کے علاوہ تفصیلی نقشے کی مدد سے سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے کہ وائرس ایک ٹشو سے دوسرے میں کیسے سفر کرتا ہے۔
اس پراجیکٹ سے قبل خیال تھا کہ جسم میں دو سو اقسام کے خلیات ہیں۔ لیکن اب تک یہ پراجیکٹ ہزاروں اقسام دریافت کر چکا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ مستقبل میں ذاتی جینیاتی انفارمیشن صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اثر انسانی خلیات کے گہرے مطالعے سے بھی آ سکتا ہے۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
Your Ad Spot
اتوار، 9 نومبر، 2025
جسم کے راز (20) ۔ خلیات کا گوگل میپ
Tags
The Secret Body#
Share This
About Wahara Umbakar
The Secret Body
لیبلز:
The Secret Body
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
رابطہ فارم
Post Top Ad
Your Ad Spot
میرے بارے میں
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں