باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

اتوار، 23 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (10)۔ ذہین فنگس


کیا دنیا کو محسوس کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے؟ جو کہ انسانوں کا ہے؟ یہ ہمارا تعصب ہے۔ اور پرندے ہمیں اس میں غلط ثابت کرتے ہیں۔ کئی چھوٹے پرندے اپنے چھوٹے دماغوں کے ساتھ اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدرت میں ذہانت کا کوئی ایک طریقہ نہیں۔ اپنے اجداد ۔۔ ڈائنوساروں کے وقت سے ہی ۔۔۔ ان کی ذہانت نے ہم سے الگ راستہ لیا ہے۔ ان میں نیوکورٹیکس موجود نہیں لیکن یہ کمال کی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے دماغ کا سٹرکچر ہی الگ ہے۔
آج ہم جانتے ہیں کہ کوے اور پرندوں کی دیگر سماجی انواع ذہنی استعداد کے حوالے سے بندروں اور دیگر primates سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس کا محتاط جانوروں کی اندرونی دنیا کے بارے میں محتاط بیانیہ محض انسانی تعصب ہے۔ “ہمیں معلوم نہیں” موجودہ روایتی جواب سے بہت بہتر جواب ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کو ایک اور مخلوق سے متعارف کروانا چاہوں گے۔ ایک جاندار جو کہ کوئی دماغ نہیں رکھتا۔ آپ اسے گلی سڑی لکڑی پر دیکھ سکتے ہیں۔ جو کہ زرد چٹائی بناتا ہے۔ یہ ایک طرح کی فنگس ہے جو کہ سلائم مولڈ کہلاتی ہے۔
فنگس جانوروں اور پودوں سے الگ اپنی کنگڈم ہے۔ یہ زرد تہہ جو کہ لکڑی پر بنی ہے، یہ حرکت کر سکتی ہے۔ رات کے وقت میں کسی جیلی فش کی طرح شیشے کے برتن سے باہر کھسک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
محققین سلائم مولڈ کی کچھ اقسام کو اتنا دلچچسپ پاتے ہیں کہ ان پر لیبارٹری میں گہری تحقیق ہوتی ہے۔ اس میں سے ایک فیسارم پولی سیفالم ہے۔ بنیادی طور پر، یہ مخلوق بے شمار مرکزوں والا ایک بہت بڑا خلیہ ہے۔  محققین ان یک خلوی جانداروں کو ایک بھول بھلیوں میں رکھتے ہیں اور ایک راستے پر انعام کے طور پر کھانا رکھتے ہیں۔ سلائم مولڈ بھول بھلیوں میں پھیل جاتا ہے۔ اور سو گھنٹوں کے اندر معمے کو حل کر لیتا ہے۔ اس کیلئے یہ اپنے نشان استعمال کرتا ہے جو یہ پہنچاتے ہیں  کہ یہ پہلے کہاں تھا۔ پھر یہ ان علاقوں سے گریز کرتا ہے کیونکہ وہ کامیابی کی طرف نہیں لے گئے، اس طرح کا رویہ عملی فائدہ مند ہے، کیونکہ مخلوق جانتی ہے کہ یہ خوراک کی تلاش میں پہلے کہاں تھی اور اس لیے وہ جگہیں جہاں کوئی خوراک باقی نہیں ہے۔ دماغ نہ ہونے پر بھول بھلیاں حل کرنے کے قابل ہونا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، اور محققین ان حرکت کرنے والی چٹائی نما مخلوقات کو کسی قسم کی جگہ کے بارے میں یادداشت رکھنے کا سہرا دیتے ہیں۔
جاپانی محققین نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ اور اس کی مدد سے ٹوکیو شہر کے اہم ترین راستوں کے نقشے سے راستے تلاش کئے۔ ایسا کرنے کے لئے انہوں نے سلائم مولڈ کو ایسی نم سطح پر رکھا جو شہر کے مرکز کی نمائندگی کرتا تھا۔  شہر کے پرکشش علاقوں کے طور پر خوراک رکھی۔ سلائم مولڈ جگہ سے نکلا اور ان تک پہنچنے کے مختصور ترین اور optimal راستوں کے ذریعے ان تک پہنچا،۔ یہ بہت بڑی حیران کن چیز تھی۔ اور بننے والے راستے شہر کے ٹرین سسٹم کی طرح کے تھے۔
سلائم مولڈ کی مثال اس لئے دلچسپ ہے کہ یہ ہمارے اس تعصب کو جھنجھوڑتی ہے جس کے مطابق قدرت میں بے وقوف اور بے عقل جاندار ہیں۔ اگر یک خلوی جاندار جگہ کے بارے میں حیران کن ذہانت کا مظاہرہ کر سکتے ہی اور پیچیدہ معمے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر فروٹ فلائی کے اڑھائی لاکھ خلیات والا دماغ حیران کن کام کر سکتے ہے تو یہ باعث تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
اور اگر ایسا ہے تو پھر وہ پرندے اور ممالیہ؟ کیا اس میں کوئی تعجب کی بات ہو گی کہ ہم دریافت کریں کہ وہ دنیا کے بارے میں اسی سطح کا احساس رکھتے ہیں جیسا کہ ہم؟
(جاری ہے)

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں