اگر جانور صرف طے شدہ جینیاتی پروگرامنگ کے مطابق کام کرتے، تو ایک ہی نوع کا ہر فرد ایک جیسے حالات میں ایک جیسا ردعمل ظاہر کرتا۔ ایک خاص مقدار میں ہارمون جاری ہوتا جو متعلقہ جبلتی رویے کو متحرک کرتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جیسا کہ شاید آپ نے شاید پالتو جانوروں کا مشاہدہ کرکے پہلے ہی جان لیا ہوگا۔ بہادر اور بزدل کتے، جارحانہ اور انتہائی نرم مزاج بلیاں، گھبرانے والے اور مضبوط گھوڑے ہوتے ہیں۔ ہر جانور کا جو کردار بنتا ہے وہ اس کے انفرادی جینیاتی رجحان اور، اتنی ہی اہمیت کے ساتھ، اس کے ماحول کے اثر پر منحصر ہوتا ہے، جس کا مطلب اس کی زندگی کا تجربہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے نئے لگائے گئے درختوں کو ہرنوں سے بچانے کیلئے باڑ لگائی تھی۔ لیکن کوئی ہرن جگہ پا کر اندر آ ہی جاتے تھے۔ ان کے لئے میرا کتا تھا۔ یہ ان کا پیچھا کر کے انہیں بھگا دیتا تھا۔ ایک روز ہرنی اور اس کا بچھڑا اندر آ گئے تھے۔ کتے کو دیکھتے انہوں نے تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا۔ کتا پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اچانک نوجوان ہرن رک گیا۔ پھر پیچھے مڑا اور کتے کی طرف غصے سے بھاگنا شروع کر دیا۔ میرا کتا کسی چیز سے ڈرتا نہیں تھا۔ لیکن اچانک ہی اس طریقے سے نوجوان ہرن کا حملہ؟ کتا رک گیا۔ ہرن نے رفتار کم نہیں کی۔ کتا اسے آتے دیکھ کر الٹا مڑا اور بھاگ لیا۔ اس روز کا کھیل ختم ہوا۔ اس کے بعد اس نوجوان ہرن نے کتے سے ڈرنا چھوڑ دیا۔ وہ اس علاقے میں چرتا رہتا۔ میں اسے دیکھ کر سر ہلا کر ہنس دیتا۔ میں نے کبھی اس طرح کی بہادری کا مظاہرہ پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اور یہ زیادہ حیران کن اس لئے تھا کہ اس کی ماں اس کے ساتھ تھی۔ اور ماں نے درمیان میں پڑ کر اسے نہیں بچایا تھا۔ بہادری دکھانا اس کا اپنا فیصلہ تھا۔
لیکن بہادری کیا ہے؟ اس کی بھی کوئی غیرمبہم تعریف نہیں۔ لیکن عمومی طور پر معنی واضح ہیں۔ خطرے کے باوجود اس چیز کا احساس کہ عمل کرنا اہم ہے اور پھر اسے کر گزرنا۔ اسے مثبت صفت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اور اس روز نوجوان ہرن نے بہادری دکھائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے ہی بہادر وہ فیلڈفیئرز (ایک قسم کی چڑیا) دکھاتے ہیں جو دیودار کے پرانے درختوں میں اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ جب ان کا پرانا ازلی دشمن، کیریئن کوّا، نمودار ہوتا ہے، تو وہ اس کا انتظار نہیں کرتے وہ ان کے چوزوں کو پکڑ لے۔ جیسے ہی خوفناک پرندہ کالونی کی طرف اڑنا شروع کرتا ہے، اس پر فضائی حملہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ چھوٹی چڑیائیں اس بڑے حملہ آور کے گرد گھومتی ہیں اور اس پر حملہ کرتی ہیں۔ کوّے کے لیے ان چھوٹے پرندوں کو مار بھگانا یا زخمی کرنا آسان ہوگا، لیکن ان ایسے حملے، جو عام طور پر ملکر کیے جاتے ہیں، کوّے کو پریشان کر دیتے ہیں، اور یہ اپنے حملہ آوروں سے بچنے کے لیے ادھر ادھر مڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ حملے اسے گھونسلے سے دور لے جا رہے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اسے حملے واقعی پریشان کرتے ہیں، کیونکہ چند منٹوں کے بعد، کوّا عام طور پر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور ان پرانے درختوں کے جھنڈ سے دور غائب ہو جاتا ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ یہ چڑیائیں بہادر ہیں؟ یا پھر ان کا جینیاتی پروگرام متحرک ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا جواب ان معاملات میں ہمیشہ کی طرح “دونوں” ہے۔ (اور یہ صرف چڑیا کے ساتھ نہیں، ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے)۔ تمام چڑیائیں اس طرح کے حملے میں پرجوش حصہ نہیں لیتیں۔ یہ کوے کو کس قدر دور تک بھگائیں گی۔ کس طریقے سے اس کے قریب آ کر ٹھونگ مارنے کی کوشش کریں گی؟ اس بارے میں ہر چڑیا کی شخصیت الگ ہے۔ بہادر چڑیا کوے کا کئی سو گز دور تک پیچھا کرے گی۔
لیکن کیا بزدل پرندے نقصان میں نہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ ختم کیوں نہیں ہو گئے؟ اس پر تحقیق میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ نے گریٹ ٹٹس پر کی اور دلچسپ نتائج ملے۔ بزدل پرندے وہ ہیں جو کہ شرمیلے ہیں اور جھگڑے سے بچتے ہیں۔ ان کے اپنے چھوٹے گروہ ہوتے ہیں۔ یہ پرسکون رہتے ہیں اور حرکت کرنے سے پہلے وقت لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ چیزیں جو کہ ان کے بہادر ساتھ نوٹ نہیں کر پاتے، وہ انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ نڈر اور شرمیلا ہونے کے اپنے اپنے فوائد اور نقصان ہیں، اس وجہ سے یہ دونوں قسم کی خصوصیات ان پرندوں میں ملتی ہیں۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
جمعرات، 27 مارچ، 2025
حیوانات کی دنیا (14) ۔ بہادری
Tags
Inner Life of Animals#
Share This
About Wahara Umbakar
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
لیبلز:
Inner Life of Animals
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں