باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

پیر، 17 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (5) ۔ جذبات


جانوروں اور انسانوں میں بظاہر ایک فرق یہ ہے کہ ہم شعوری طور پر ماں کی محبت (اور دیگر جذبات) کو متحرک کر سکتے ہیں—مثال کے طور پر، گود لینے کے معاملے میں، جہاں پیدائش کے وقت ماں اور بچے کے درمیان جبلتی بندھن پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ پہلا رابطہ اکثر بہت بعد میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، جبلتی ماں کی محبت وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی ہے، اور جب یہ ہوتی ہے، تو ساتھ میں ہارمونز کا مجموعہ ماں کے خون میں بہتا ہے۔
تو کیا ہم نے آخر کار انسانی جذباتی دائرے کو کامیابی سے شناخت کر لیا ہے جس میں جانور داخل نہیں ہو سکتے؟ آئیے اپنی سرخ گلہری پر ایک اور نظر ڈالتے ہیں۔ کینیڈین محققین یوکون میں اس کے رشتہ داروں کو بیس سال سے زیادہ عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ تقریباً سات ہزار جانوروں نے اس تحقیق میں حصہ لیا، اور اگرچہ سرخ گلہریاں تنہا رہنے والے جانور ہیں، لیکن گود لینے کے پانچ واقعات دیکھے گئے۔ ان سب میں معاملے میں قریبی خاندان کے گلہری کے بچوں کو کسی دوسری مادہ نے پالا۔ صرف بھانجے، بھتیجے یا پوتے پوتیوں کو گود لیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ گلہریوں کی ایثار پسندی کی حدود ہیں۔ خالصتاً ارتقائی نقطہ نظر سے، اس انتظام کے فوائد ہیں، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ بہت قریب سے متعلقہ جینیاتی مواد محفوظ اور منتقل کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں کہ بیس سالوں میں پانچ واقعات گلہریوں میں اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہیں کہ وہ ممتا “سیکھ” سکتی ہیں۔ تو پھر، کچھ دوسری انواع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن 2012 میں، بیبی نامی ایک فرانسیسی کتیا خبروں میں آئی۔ بیبی جرمنی کے برینڈن برگ میں ایک جانوروں کی پناہ گاہ میں رہتی تھی۔ ایک دن، چھ جنگلی سؤر کے بچے لائے گئے۔ غالباً، ان کی ماں کو شکاریوں نے گولی مار دی تھی، اور چھوٹے بچے تنہا زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ پناہ گاہ میں، جانوروں کو دودھ ملا—اور بھرپور پیار۔ دودھ نگہداشت کرنے والوں کی بوتلوں سے آتا تھا، لیکن پیار اور گرمجوشی بیبی سے آئی۔ کتیا نے فوراً سارے بچوں کو گود لے لیا۔ بچے اس کے ساتھ لپٹ کر سوتے تھے۔ اس نے دن کے وقت چھوٹے بچوں پر گہری نظر بھی رکھی۔ لیکن کیا اسے حقیقی گود لینا کہا جا سکتا ہے؟ آخرکار، بیبی نے بچوں کو دودھ نہیں پلایا۔ لیکن دودھ پلانا انسانی گود لینے کا بھی ضروری جزو نہیں ہے۔ اور پھر بھی کتوں کی رپورٹس ہیں—جیسے کیوبا کی کتیا یٹی—جس نے یہ کام بھی کیا۔ یٹی کے قریب جب چند سؤروں کے بچے ہوئے، تو یٹی نے بچوں کو فوری گود لے لیا۔ اور انہیں دودھ بھی پلایا۔ کیا یہ شعوری فیصلہ تھا؟ اگر غور کیا جائے تو انسانوں میں بھی ایسے ہی سوال ہوتے ہیں۔ اور ایسے ہی سوال پوچھے جا سکتے ہیں۔
اور ایسے دوسرے واقعات بھی ہیں۔موزز نامی کوّا ایک ایسی مثال ہے۔ جب پرندے اپنے بچوں کو کھو دیتے ہیں، تو ان کے پاس موقع ہوتا ہے۔ وہ آسانی سے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ مزید انڈے دے سکتے ہیں۔ موزز نے کچھ اور انتخاب کیا۔ اور موزز کی توجہ کا مرکز ایک ممکنہ دشمن تھا—ایک گھریلو بلی—اگرچہ ایک انتہائی چھوٹا اور نسبتاً بے بس، کیونکہ بلی کے بچے نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا اور اسے کافی عرصے سے کچھ کھانے کو نہیں ملا تھا۔  یہ چھوٹا آوارہ بلونگڑا میساچوسٹس کے ایک گھر میں نمودار ہوا۔  اور یہاں پر ایک کوّے نے اس چھوٹے یتیم کو گود لے لیا۔ گھر میں رہائش پذیر جوڑے کے لئے یہ حیران کن منظر تھا۔ کوے کی بلونگڑے کے لئے ممتا ایک عجیب نظارہ تھا۔ موزز اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی، اسے کیچوے اور بھونرے کھلا رہا تھی۔ ۔ کوّے اور بلی کے درمیان دوستی بلی کے بڑے ہونے کے بعد بھی جاری رہی، اور یہ تب تک جاری رہی جب تک کہ پانچ سال بعد کوا غائب نہیں ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ہم واپس جبلت کے سوال پر چلتے ہیں۔ میری رائے میں اس سے کوئی فرق پڑتا ہی نہیں کہ محبت کا آغاز کسی لاشعور کے مقام سے ہوا یا پھر شعوری سوچ سے۔ محبت کا احساس بالآخر ایک ہی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ انسان دونوں طرح کی محبت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگرچہ ہارمونز سے پیدا ہونے والی جبلتی محبت زیادہ عام ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جانور شعوری طور پر ماں کے جذبات پیدا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں (مختلف انواع کے جانوروں کا گود لینا ہمیں اس مفروضے  پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے) لیکن ممتا کی محبت موجود رہتی ہے، اور یہ اتنی ہی متاثر کن اور اتنی ہی زبردست ہے۔ وہ گلہری جو گرمی کی لہر میں ہمارے لان کو پار کر رہی تھی، جس کے گلے میں ایک بچہ لپٹا ہوا تھا ۔۔۔ اس کا محرک گہری محبت تھی۔ اسی طرح کے بے لوث محبت جو کہ ہماری اپنی ماؤں نے ہم سے کی ہو گی۔ اور، اس کو جان کر یہ تجربہ اور بھی خوبصورت ہو جاتا ہے۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں