باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

ہفتہ، 15 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (3) ۔ ممتا


گلہری کی ماں اپنے بچوں کا خیال بہت بے غرضی سے کرتی ہے۔ اگر خطرہ محسوس ہو تو انہیں پیٹھ پر اٹھا کر بھاگے گی۔ اور یہ اس کے لئے آسان نہیں، تھکا دینے والا کام ہے۔ اس کے بچوں کی تعداد چھ تک ہو سکتی ہے جو کہ گردن سے لٹکے ہوں گے۔ اپنی تمام تر محنت اور لگن کے باوجود بچوں کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں۔
لیکن سوال یہ کہ کیا گلہری ماں واقعی ممتا محسوس کرتی ہیں؟ ایک بے انتہا محبت جس کی وجہ سے وہ بچے کو بچانے کے لئے اپنی زندگی دینے کو تیار ہوں؟ یا کیا یہ محض گلہری کی رگوں میں دوڑتے ایک ہارمون کی مقدار زیادہ ہو جانے کی وجہ سے خودکار پروگرام ہے؟
سائنس کا ایک نقص ہے کہ کئی بار حیاتیاتی پراسس میکانیکی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اور ایس لگتا ہے کہ گویا گلہریاں اور دیگر جاندار محض روبوٹ ہیں۔ لیکن اس کے لئے ہم خود اپنی نوع کو دیکھ سکتے ہیں۔
جب ایک ماں بچے کو گود میں اٹھاتی ہے تو اس کے جسم میں کیا ہوتا ہے؟ کیا ماں کا پیار جبلت ہے؟ سائنس اس کا جواب دے گی کہ “ہاں اور نہیں”۔ ماں کی محبت محض جبلی پروگرامنگ نہیں لیکن وہ حالات جو کہ اس کو پیدا کریں، وہ جبلی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بچے کی پیدائش سے پہلے، آکسیٹوسن نام کا ہارمون ماں کے نظام میں بہتا ہے، جو اسے اپنے بچے کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، بڑی مقدار میں اینڈورفنز بھی خارج ہوتے ہیں، جو درد کو کم کرتے ہیں اور اضطراب کو کم کرتے ہیں۔ یہ ہارمونز کا مرکب بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے خون میں رہتا ہے، یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بچے کو دنیا میں ایک ایسی ماں کے ذریعے خوش آمدید کہا جائے جو آرام دہ اور مثبت ہو۔ دودھ پلانا آکسیٹوسن کی مزید پیداوار کو تحریک دیتا ہے۔ ماں اور بچے کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی بات کئی جانوروں میں بھی ہوتی ہے، بشمول ان بکریوں کے جو کہ ہم پالتے ہیں۔ (بکری کی مائیں بھی آکسیٹوسن پیدا کرتی ہیں)۔ ایک بکری کی ماں اپنے بچوں کے ساتھ اس وقت واقف ہونا شروع کرتی ہے جب وہ پیدائش کے بعد اپنے بچوں کو چاٹ کر صاف کرتی ہے۔ صفائی کا یہ عمل ان کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے، اور جب بکری کی ماں اپنے بچوں سے نرم آواز میں آواز دیتی ہے، تو اس کے بچے ہلکی اور تیز آوازوں میں جواب دیتے ہیں، اور یہ آوازیں دونوں ماں اور بچوں میں نقش ہو جاتی ہیں۔
اگر صفائی کے وقت کچھ گڑبڑ ہو جائے تو چیزیں ٹھیک نہیں رہتیں۔ جب ہمارے چھوٹے ریوڑ میں کوئی بکری بچہ دینے کے لیے تیار ہوتی ہے، تو ہم اسے ایک الگ باڑے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ سکون سے یہ عمل کر سکے۔ باڑے کے دروازے کے نیچے ایک چھوٹا سا خلا ہوتا ہے، اور ایک بار پیدائش کے دوران، ایک خاص طور پر چھوٹا بچہ اس کے نیچے سے پھسل گیا۔ جب تک ہمیں اس حادثے کا پتہ چلا، قیمتی وقت گزر چکا تھا، اور بچے پر موجود لعاب خشک ہو چکا تھا۔ نتیجہ؟ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود، ماں بکری نے اپنے بچے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ماں کی محبت کو متحرک کرنے کا وقت گزر چکا تھا۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ہسپتال میں ایک انسانی ماں کو اس کے نومولود بچے سے لمبے عرصے تک جدا رکھا جائے، تو ماں کا رشتہ قائم کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ صورتحال بکریوں جیسی ڈرامائی نہیں ہے، انسان محبت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ اگر انسان بکریوں کی طرح ہوتے، تو گود لینے کا عمل کبھی کامیاب نہ ہوتا، کیونکہ گود لینے والی مائیں اکثر اپنے بچوں سے ان کی پیدائش کے کئی سال بعد ملتی ہیں۔ اس لیے، گود لینا ہمارے پاس یہ جانچنے کا بہترین موقع ہے کہ آیا ماں کی محبت محض ایک جبلتی ردعمل ہے یا کچھ ایسا جو سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سوال پر بات کرنے سے پہلے، ہم کچھ گہرائی میں جاتے ہیں کہ جبلت اور ان کے کام کرنےکیا طریقہ کیا ہے۔
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں