ہمیں اکثر قدرتی دنیا خوشگوار اور پرسکون لگی ہے۔ یہ پرامن اور ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ رنگ برنگی تتلیاں پھولوں سے بھری چراگاہوں میں اڑتی ہیں، برچ کے سفید تنے زمین کی جھاڑیوں پر سایہ فگن ہیں۔ جب ان کے پتے ہوا میں لہراتے ہیں تو یہ واقعی ہمارے لیے پر سکون نظارہ ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے جنگلی جانوروں میں لوگوں کے لیے بہت کم خطرات ہیں۔ تاہم، وہاں رہنے والی مخلوقات کے لیے ایسا نہیں ہے، اور اس لیے وہ اس خوشگوار منظر کو بالکل مختلف نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔
مثلاً، کبوتر ہمارے سے بالکل مختلف طریقے سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہماری طرح بصری نوع ہیں۔ یعنی کہ دیکھنے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، اور انہیں دیکھنے کے لیے دن کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، ان تمام تفصیلات کے علاوہ جو ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں، وہ ہوا میں موجود دیگر چیزوں سے بھی واضح طور پر واقف ہیں۔ وہ آسمان میں روشنی کی پولرائزیشن کو بھی دیکھتے ہیں—یعنی روشنی کی لہروں کی geometrical سمت—اور یہ شمال کی طرف ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دن کے وقت کبوتر جہاں بھی دیکھتے ہیں انہیں ایک قطب نما نظر آتا ہے۔ اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ پیغام رساں کبوتر لمبی دوری پر ہمیشہ اپنا گھر تلاش کرتے ہیں۔
ایک بار جب ہم چمگادڑوں کی سماعت کو "دیکھنا” کہہ لیں، تو ہم دوسری انواع کے ساتھ بھی اس حد کو وسیع کر سکتے ہیں، تاکہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں اور وہ دنیا کو کس طرح سے experience کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کتوں کے ساتھ، سوال یہ ہے کہ ان کی بصارت کا احساس (جو ہماری نسبت قدرے کم ہے)، ان کی سونگھنے اور سننے کے حواس سے جب مل جاتا ہے کتنی مضبوطی سے بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ مجموعہ دنیا کی تصویر کو مکمل کرتا ہے، تو ہم نہیں جانتے کہ کتے کیا دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ہم اگر ہم صرف ان کی بصارت پر فیصلہ صادر کریں۔ تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ کتوں کو عینک کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ ان کی آنکھوں میں موجود لینس مختلف فاصلوں کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کا اچھا کام نہیں کرتے، جس کا مطلب ہے کہ کتے صرف اس وقت فوکس میں موجود اشیاء کو دیکھتے ہیں جب وہ تقریباً 20 فٹ کی حد میں آتے ہیں۔ اگر وہ تقریباً 20 انچ سے زیادہ قریب آتے ہیں، تو وہ فوکس کھو دیتے ہیں۔ کتے ان تصاویر کو بنانے کے لیے تقریباً 160,000 بصری اعصابی ریشے استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہماری آنکھوں میں تقریباً بارہ لاکھ ہوتے ہیں۔ لیکن بصارت ہی کافی نہیں۔ آپ ایک چھوٹا سا تجربہ خود کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ ہیں جہاں پر باتیں کی جا رہی ہیں یا پس منظر میں کچھ شور ہے تو یہ آپ اپنے کان بند کریں۔ ہاتھوں کو کانوں کے ساتھ اتنا دبا دیں کہ آواز آنا بالکل بند ہو جائے۔ آپ کو ایسا لگے گا کہ آپ کے گرد چلتی تھری ڈی فلم کا تجربہ اچانک بالکل بدل گیا ہے۔ اس کی گہرائی کچھ گم ہو گئی۔ کتوں کے کان ہم سے پندرہ گنا زیادہ حساس ہیں۔ ان کے لئے دنیا کی تصویر کیسی ہو گی؟ اور اس کے ساتھ ان کی انتہائی حساس قوتِ شامہ کا اضافہ کر دیا جائے؟ دنیا کا تجربہ حسیات سے آنے والے سگنل مربوط ہونے سے ہوتا ہے۔۔۔ اگرچہ کتے بصری جانور ہیں لیکن پھر بھی، یہ دنیا کو جس طریقے سے محسوس کرتے ہیں، وہ ہم سے بہت مختلف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں یہ سوچتا ہوں کہ جانوروں کی ہر نوع دنیا کو بالکل مختلف طریقے سے دیکھ اور محسوس کر سکتی ہے، تو مجھے یہ بہت دلکش لگتا ہے۔ ہر نوع کے لئے یہ الگ دنیا ہے۔ اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں مختلف دنیائیں موجود ہیں۔ کچھ کا ہمیں ذرا اندازہ ہے لیک بہت سی ایسی ہیں جو دریافت ہونے کی منتظر ہیں۔ میرے علاقے میں بھی ہزاروں دیگر انواع بھی موجود ہیں جو بدقسمتی سے اتنی چھوٹی یا غیراہم سمجھی جاتی ہیں کہ ان پر ابھی تک منظم طریقے سے تحقیق نہیں کی گئی۔ ان کے احساسات کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ کیونکہ ایس تحقیق کے لیے بہت کم رقم ملتی ہے۔ اور جب ہم یہ نہیں جانتے کہ ان چھوٹے جانوروں کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ ان کی ضروریات کیا ہیں؟ تو ان کے لیے تحفظ میں بھی کسی کو دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
اتوار، 30 مارچ، 2025
حیوانات کی دنیا (47) ۔ دوسری دنیائیں
Tags
Inner Life of Animals#
Share This
About Wahara Umbakar
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
لیبلز:
Inner Life of Animals
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں