باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

پیر، 31 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (54) ۔ ذی روح


کیا جانور روح رکھتے ہیں؟ یہ سوال مجھ سے کیا جاتا رہا ہے اور یہ مشکل سوال ہے۔ اس کے لئے ہم پہلے انسانوں میں اس سوال کو دیکھ لیتے ہیں۔ روح کے معنی کیا ہیں؟ لغت میں اگر دیکھا جائے تو دلچسپ چیز نظر آتی ہے۔ مختلف لغات میں اس کے معنی بہت مختلف دیے گئے ہیں۔ یعنی کہ اس پر کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ایک تعریف بتاتی ہے کہ روح "انسانوں میں زندگی، احساس، فکر اور عمل کا اصول ہے"۔ ایک اور بتاتی ہے کہ یہ “انسانوں کا روحانی حصہ ہے، جو مذہبی عقائد کے مطابق، موت کے بعد زندہ رہتا ہے۔”۔ اس میں سے دوسری تعریف کی ہم معائنہ نہیں کر سکتے اس لئے ہم پہلی تعریف کو دیکھ لیتے ہیں۔
احساسات، خیالات اور اعمال—اگر جانوروں کو اس پر پرکھا جائے تو ان کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ جانور یقیناً عمل کرتے ہیں۔ ہم اس پوری سیریز میں دکھ چکے ہیں کہ ان کے احساسات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔  تو پھر خیالات باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا جانور سوچ رکھتے ہیں؟ یہ جاننا آسان نہیں ہے، کیونکہ سوچ کے لیے بہت سے مختلف وضاحتیں بھی ہیں، جن میں سے بہت سی انتہائی پیچیدہ ہیں اور پھر بھی اس تصور کو درست طور پر واضح نہیں کرتیں۔ ڈریسڈن کی تکنیکی یونیورسٹی نے اپنے طلباء کو یہ تعریف پیش کی، دیگر چیزوں کے علاوہ: "سوچ ایک ذہنی عملی ہے۔ جس میں اشیاء، واقعات یا اعمال کی علامتی یا تصویری نمائندگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس  تبدیل کیا جاتا ہے اور اس میں اضافہ کیا جاتا ہے۔" سوچ کے بارے میں ایک اور بہت آسان تعریف اسے زیادہ اختصار سے بیان کرتی ہے: "سوچ مسئلہ حل کرنا ہے۔" اس تعریف کے مطابق، سوچ ان جانوروں کی مہارت کا حصہ ہے جن کا رویہ ہمارے لیے سمجھ میں آتا ہے۔ کوے جو دوسرے کووں کو نام لے کر سلام کرتے ہیں، چوہے جو اپنے کئے پر غور کرتے ہیں اور ندامت محسوس کرتے ہیں، مرغ جو اپنی مرغیوں سے جھوٹ بولتے ہیں، اور میگپائز جو تھوڑا سا خطرہ مول لے کر بے وفائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کیا کوئی انکار کرے گا کہ ایسا کرتے وقت ان کے ذہنوں میں سوچ موجود نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں جانوروں کو دیکھتا ہوں تو میں تصور نہیں کر سکتا کہ جانور ہم سے بہت مختلف محسوس کرتے ہیں، اور اس بات کا اچھا امکان ہے کہ میں صحیح ہوں۔ آج بحث کا واحد بڑا نکتہ یہ ہے کہ کیا جانور سوچ سکتے ہیں؟ افکار و خیالات رکھتے ہیں؟
تاہم، جو چیز ہمارے لیے اتنی اہم ہے وہ ہماری ساتھی مخلوقات کے لیے کم اہم ہو سکتی ہے۔(ورنہ وہ ہماری طرح ترقی کرتے)۔ کیا گہری سوچ کوئی ایسی چیز ہے جو بالکل ضروری ہے؟ یہ یقینی طور پر ایک اطمینان بخش، پرامن زندگی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ جب ہم چھٹیوں پر آرام کر رہے ہوتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے: "میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں اور مجھے بالکل کسی چیز کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔" ہم زیادہ سوچے بغیر خوشی اور سکون کا تجربہ کر سکتے ہیں، اور یہی اصل نکتہ ہے: جذبات اور احساسات کو ذہانت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ جذبات جبلت پر مبنی پروگرامنگ کو چلاتے ہیں اور اس لیے تمام انواع کے لیے اہم ہیں، اور اس لیے تمام انواع انہیں کم یا زیادہ درجے تک محسوس کرتی ہیں۔ چاہے کوئی جانور ان جذبات پر غور کرے، انہیں غور و فکر کے ذریعے طول دے، یا بعد میں انہیں دوبارہ یاد کرے، یہ کم اہم ہے۔ یقیناً، یہ اچھی بات ہے کہ ہم بالکل ایسا کر سکتے ہیں، اور شاید ایسا کرنے سے ہم اپنی زندگیوں میں ان لمحات کو زیادہ شدت سے تجربہ کرتے ہیں۔ اور یہ خوشگوار اور ناگوار، دونوں قسم کے جذبات کے لئے ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس خیال کے خلاف ابھی بھی مزاحمت ہے کہ دوسری مخلوقات میں خوشی محسوس کرنے اور تکلیف اٹھانے کی صلاحیت ہے۔ یہ مزاحمت کچھ سائنس دانوں کی طرف سے بھی آتی ہے۔ اپنی تفریح کے لئے شکار کرنا، بڑے ممالیہ اور پرندے مار ڈالنا، ہمارے استعمال کے جانوروں کی تکلیف کی پرواہ نہ کرنا ۔۔۔ یہ سب اسی غلط سمجھ کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی بار anthropomorphism کا کہا جاتا ہے یعنی کہ انسانی صفات جانوروں پر منطبق کرنا۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ غیر سائنسی ہیں۔ تاہم، ایک انسان، خالصتاً حیاتیاتی نقطہ نظر سے دوسری انواع سے اتنا مختلف نہیں ہے۔ اس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا جاتا ہے کہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان موازنہ دور کی کوڑی نہیں ہے اور اس سے ہم اپنے جیسے جذبات اور ذہنی عمل کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اگر اس پر اختلاف نہیں کہ بھوک اور پیاس محسوس کر سکتے ہیں تو پھر خوشی، غم، ہمدردی اور ندامت کیوں نہیں۔
اس کا مطلب جانوروں کو انسانی صفات دینا نہیں لیکن انہیں بہتر طور پر سمجھنا ہے۔ ان کی اندرونی زندگیاں ہمارے جیسی نہیں، طرزِ زندگی الگ ہیں۔ لیکن انہیں کم عقل اور کمتر مخلوقات کے طور پر دیکھنا غیرمناسب ہے۔ کوے، ہرن اور دیگر جنگلی جانور اپنی طرح سے زندگی گزارتے ہیں۔ اس کا لطف اٹھاتے ہیں۔
"جانوروں کی اندرونی دنیا کے بارے میں اب بھی شک کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بہت سے جذبات اور ذہنی عمل انسانوں میں بھی ابھی تک واضح طور پر بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں، میں آپ کو خوشی، شکر گزاری، یا یہاں تک کہ صرف سوچ کی یاد دلاتا ہوں—یہ تمام اصطلاحات جن کی وضاحت کرنا مشکل رہا ہے۔ ہم جانوروں میں کسی ایسی چیز کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جسے ہم خود میں بھی واضح طور پر نہیں سمجھ سکتے؟ خالص سائنس میں معروضیت کے مطالبے سے تعریف کی جاتی ہے، اس کے لیے ہمیں اپنے جذبات کو ایک طرف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے سائنس کئی بار ہماری اس موضوع میں مدد نہیں کرتی۔
انسانوں نے اس دنیا میں ہمیشہ سے زندگی دوسری انواع کے ساتھ ہی گزاری ہے۔ یقینی طور پر ہمارے لئے یہ اہم رہا ہو گا کہ ہم جنگلی گھوڑوں، بھیڑیوں، ریچھوں کے ارادے کو بھانپ سکیں۔ ویسے ہی جیسا کہ ہم اجنبیوں کے چہرے پڑھ لیتے ہیں۔ کئی بار ہماری حساسیت ہمیں زیادہ دھوکا دیتی ہے اور ہم اپنے پالتو جانوروں کے بارے میں غلط اندازے لگا لیتے ہیں۔ لیکن نئی سائنسی دریافتیں ہمارے کئی اندازوں کو زیادہ اعتماد دے رہی ہیں۔
میرا ایک اندازہ ہے کہ کئی بار لوگ اس حقیقت کو قبول کرنے سے اس لئے بھی گریزاں ہوتے ہیں کہ یہ جانوروں کے استحصال میں رکاوٹ بنتی ہے۔ کیا ہم اس کے بعد جانوروں کا گوشت کھا پائیں گے؟ چمڑے کی جیکٹ زیبِ تن کر سکیں گے؟
 یہ صرف جانوروں کے ساتھ ہی نہیں۔ جیسا کہ سائنس نے دریافت کیا ہے اور کر رہی ہے کہ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ درخت اور دیگر پودے بھی احساس رکھتے ہیں اور یادداشت کی صلاحیت بھی۔ تو پھر ہم کھائیں کیا اور زندہ کیسے رہیں اگر ہم پودوں پر بھی رحم کرنا شروع کر دیں۔
ہم اپنی خوراک بنانے کے لیے فوٹوسنتھیسس تو نہیں کر سکتے، اس لیے ہمیں زندہ رہنے کے لیے زندہ وجودوں کو کھانا ہی پڑتا ہے۔ ہم اس کے لئے جو انتخاب کرتے ہیں وہ ذاتی ہوتے ہیں۔ وہ اس بات پر منحصر ہو سکتے ہیں کہ ہم کہاں رہتے ہیں یا جس ثقافت میں ہماری پرورش ہوئی ہے۔
میرے ذاتی نقطہ نظر سے، میں یہ تجویز کر رہا ہوں کہ ہم ان زندہ وجودوں کے ساتھ اپنے معاملات میں تھوڑا زیادہ احترام شامل کریں جو اس دنیا کا حصہ ہیں، چاہے وہ وجود جانور ہوں یا پودے۔ ہمارے پاس خوش گھوڑے، بکریاں اور مرغیاں ہوں۔ ہم مطمئن ہرن، چڑیوں یا کووں کا مشاہدہ کر سکیں۔ شاید ہم کسی روز یہ سن سکیں جب کوے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔
یہ دنیا ہماری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان دوسری انواع کی بھی۔ اگر گہری سوچ، خیالات اور افکار ہماری مہارت اور خاصیت ہیں تو پھر اسے ہر ذی روح کے لئے سب کے لئے بہتر بنانا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔
(ختم شد)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں