باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

اتوار، 30 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (53) ۔ بات چیت


سوئٹزرلینڈ میں گھوڑوں پر ہونے والی تحقیق دلچسپ ہے۔ زیادہ تر گھوڑوں کے مالکان جانتے ہیں کہ گھوڑے جسمانی زبان کا استعمال کرتے ہوئے بہت چیزیں بتا سکتے ہیں۔ اگرچہ گھوڑوں کی غیر زبانی مواصلات پر تحقیق کوے پر تحقیق سے زیادہ ہوئی ہے، لیکن ETH زیورخ کے محققین یہ جان کر حیران ہوئے کہ بظاہر گھوڑوں کی آوازوں میں کہیں زیادہ معنی موجود ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ہنہنانے میں دو بنیادی فریکوئنسیز ہوتی ہیں اور یہ پیچیدہ معلومات منتقل کر سکتی ہیں۔ دونوں بنیادی فریکوئنسیز میں سے پہلی یہ بتاتی ہے کہ ہنہنانا مثبت یا منفی جذبات کو بتا رہا ہے۔ دوسری فریکوئنسی جذبے کی شدت کو بتاتی ہے۔ ETH کی ویب سائٹ پر ان کی ریکارڈنگ کی مثالوں کے ساتھ یہ دیا گیا ہے۔
ریکارڈنگ سننے کے بعد، مجھے فوراً پتا لگ گیا کہ جب ہمارے گھوڑے ہمیں آتے ہوئے دیکھتے ہوئے ہنہناتے ہیں تو واضح طور پر مثبت جذبات کا اظہار ہے۔ (یہ الگ بات کہ شاید ان کی دلچسپی اس خوراک سے زیادہ ہو جو میں ساتھ لاتا ہوں)۔ میں اب مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ گھوڑے ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج پڑھنے کے بعد، میں نے زیادہ غور سے سنا کہ کیا ان کی آوازوں میں فرق ہے، اور کیا وہ بعض اوقات ہمیں دیکھ کر دوسروں کی نسبت زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اب مجھے اس کا جواب معلوم ہے۔ یقیناً، وہ زیادہ خوش ہوتے ہیں، بالکل انسانوں کی طرح۔ اس کے علاوہ، مجھے خیال ہے کہ ہنہنانے کی آوازیں بھی ہیں جو پیار کا اظہار کرتی ہیں۔ جب ہماری بڑی گھوڑی ہمارے ساتھ لپٹتی ہے، تو وہ بند ہونٹوں سے نرم، اونچی آوازیں نکالتی ہے۔ جب وہ ایسا کرتی ہے، تو ہم جانتے ہیں کہ وہ اچھا محسوس کر رہی ہے اور ہمارے ساتھ خوش ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اپنے جذبات کو "زبانی طور پر" ہم تک پہنچا رہی ہے۔ میرے خیال میں گھوڑے اس بات کی اچھی مثال ہیں کہ ہمیں جانوروں کے درمیان بات چیت کے بارے میں کتنا کم معلوم ہے۔ لوگوں نے ہزاروں سالوں سے گھوڑے رکھے ہیں۔ لہذا جنگلی جانوروں کے مقابلے میں ہمیں ان کا زیادہ علم ہے۔ اور نئی تحقیقات ہمیں یہ واضح طور پر بتاتی ہیں کہ جانوروں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے بارے میں ہمیں زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
اگلا قدم یہ ہوگا کہ اگر ہم نہ صرف اس زبان کو سمجھ سکیں جو جانور ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ ان سے بات بھی کر سکیں۔ تب ان سے براہ راست کچھ پوچھنا ممکن ہوگا، اور ہم خود کو بالواسطہ تحقیق سے بچا سکتے ہیں۔ اور ایسا کیا جا چکا ہے۔ کوکو نامی ایک مادہ گوریلا ہے جس کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ہاں، میرا مطلب ہے "کہنے کے لیے،" اور وہ اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے ہوئے ایسا کرتی ہے۔ پینی پیٹرسن نے کیلیفورنیا میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے حصے کے طور پر نوجوان بندر کو تربیت دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کوکو نے ایک ہزار سے زیادہ اشارے سیکھے، اور وہ انگریزی میں دو ہزار سے زیادہ الفاظ سمجھ سکتی ہے۔ اشاروں کی زبان میں اپنی مہارت کی بدولت، وہ سائنس دانوں کو بتا سکتی ہے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے، اور پہلی بار کسی جانور کے ساتھ طویل گفتگو کرنا ممکن ہے۔ دیگر بندروں کو بھی اسی طرح کے نتائج کے ساتھ تربیت دی گئی ہے، جو یہ بتاتے ہیں کہ کوکو کوئی استثناء نہیں ہے۔ مادہ گوریلا باقاعدگی سے میڈیا میں دکھائی دیتی ہے اور اکثر دلچسپ مناظر ہوتے ہیں۔ ایک بار اسے تحفے کے طور پر ایک stuffed زیبرا دیا گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے۔ اس نے اشاروں سے بتایا کہ سفید" اور "شیر"۔ اور جب اس سے پوچھا گیا کہ جانور مرنے کے بعد کہاں جاتے ہیں، تو اس نے "آرام دہ گڑھے” کا اشارہ کیا۔ کوکو نے اتنے ذہین جوابات دیے ہیں—اور سیکھے گئے تصورات میں اپنے نئے تصورات شامل کئے—کہ اسے زبان کی صلاحیت رکھنے والا بندر کہنا واقعی درست ہو گا۔
تاہم، اس کے سخت ناقدین بھی ہیں جنکا موقف ہے کہ کوکو کے ساتھ ہونے والی گفتگو سائنسی پروٹوکول کے مطابق نہیں کی جاتی ہے۔ بہرحال، میں کم از کم یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میرا اندرونی احساس ہے کہ ہم نے دوسری مخلوقات کی بات چیت کرنے کی صلاحیت کو بہت کم سمجھا ہے۔ میرے لیے بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ کیا کوکو واقعی بول سکتی ہے کیونکہ لوگوں اور جانوروں کے درمیان بات چیت ہمیشہ بہت یک طرفہ ہوگی۔ لوگ دوسری انواع کو انسانی زبان سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس نوع کو پھر خاص طور پر ذہین سمجھا جاتا ہے جب وہ انسانی تصورات یا احکامات کو سمجھتے ہیں۔ لوگ اس وقت بہت خوش ہوتے ہیں جب بجری گر، کوے یا کوکو جیسے بندر ہماری زبان میں سوال کا جواب دے سکتے ہیں یعنی کہ ان کی دنیا کو سیکھنے کے بجائے ہم ان کو اپنی دنیا میں لانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کے لئے یہ کہیں زیادہ دشوار نہیں ہو گا؟
ہم زمین پر سب سے ذہین نوع ہیں تو سائنس نے بہت پہلے اس سمت سے تحقیق کیوں نہیں کی؟ اگر جدید محققین کا خیال ہے کہ ان کی سیکھنے کی صلاحیت ہماری نسبت کم ہے تو تجربہ گاہ کے جانوروں کو اشاروں کی زبان سکھانے میں سالہا سال کیوں صرف کیے جاتے ہیں؟ کیا یہ بہت آسان نہیں ہوگا اگر ہم آخر کار جانوروں کی زبان سیکھنا شروع کر دیں؟ ہمارے پاس اب چند سال پہلے کی نسبت بہت زیادہ مواقع ہیں، جب آوازیں، مثال کے طور پر، گھوڑے کی سطح پر پیدا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ہم دو مختلف فریکوئنسیز پر ہنہنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ آج، ایک کمپیوٹر ہمارے کہے ہوئے کو مناسب جانوروں کی لغت میں ترجمہ کرنے کا معقول کام کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، میں اس قسم کی تحقیق کے لیے کسی سنجیدہ کوشش سے واقف نہیں ہوں۔ یقیناً ایسے لوگ ہیں جو جانوروں کی آوازوں کی نقل کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر پرندوں کی مختلف انواع کی آوازیں۔ تاہم، جو لوگ ایک کالی چڑیا یا چکادی کی نقل کر سکتے ہیں وہ پرندوں کی زبان میں بامعنی الفاظ نہیں کہہ سکتے۔ درختوں کی چوٹیوں پر بیٹھے نروں کے ذریعہ گایا جانے والا خوبصورت گانا نقل کرنا اسے رابطہ نہیں، نقالی ہے۔ اور شاید اس وقت وہ دوسروں کو بتا رہے ہوں کہ “یہ میری جگہ ہے”۔ جو آوازیں ہمارے کانوں کو اتنی دلکش لگتی ہیں وہ نوع کے اندر شاید ددوسرے حریفوں کو ڈرانے کا کام کرتی ہوں۔ یہ اس طرح ہوگا جیسے کسی طوطے کا مسلسل یہ کہنا، “بھاگ جاؤ”۔ بدقسمتی سے، ہم اپنی ساتھی مخلوقات کے ساتھ بات چیت کرنے کی اپنی صلاحیت کے ساتھ یہیں تک پہنچے ہیں۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں