کیا جانور بے غرضی سے کام کر سکتے ہیں؟ یہ خود غرضی کا الٹ ہے۔خودغرضی جو ارتقائی لحاظ سے منفی نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ کسی برادری میں رہتے ہیں، تو اس گروہ کے کام کرنے کے لیے ایک سطح تک کی بے غرضی درکار ہوتی ہے۔ بہت سے جانور بے غرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بیکٹیریا بھی۔ مثال کے طور پر، انٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحم انفرادی بیکٹیریا انڈول خارج کرتے ہیں، یہ کیمیکل خطرے کی گھنٹی کا کام کرتا ہے۔ فوری طور پر، اس علاقے میں موجود دیگر تمام بیکٹیریا حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیکٹیریا بھی جو انٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحم ہونے کے لیے تبدیل نہیں ہوئے ہیں، زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ واضح طور پر بے غرضی کہی جائے گی۔ لیکن، کم از کم موجودہ سائنسی رائے کے مطابق، اس میں بیکٹیریا کی اپنی آزاد مرضی شامل نہیں۔
بے غرضی معنی صرف اس وقت رکھتی ہے جب اس میں آزاد مرضی شامل ہو۔ اگر آپ کے پاس انتخاب ہے اور آپ شعوری طور پر کسی چیز کی قربانی اس لئے دیتے ہیں کہ کسی اور فرد کی مدد ہو سکے۔ ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ کب یہ کام اپنی مرضی سے کیا جا رہا ہے لیکن ہم زیادہ ذہین جانوروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں پرندے شامل ہیں اور ان کی طرف سے بے غرضی کا مظاہرہ عام ہے۔ مثلاً، جب ایک دشمن قریب آتا ہے تو جو گریٹ ٹٹ سب سے پہلے اس کو نوٹ کرے، وہ خبردار کرنے کی پکار دیتی ہے۔ اور اس کو سن کر باقی پرندے محفوظ مقام کی طرف اڑ سکتے ہیں۔ جو پرندہ یہ پکار دیتا ہے، اس کے لئے خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کی طرف شکاری کی توجہ جا سکتی ہے۔ تو پھر یہ خطرہ کیوں مول لیتا ہے؟ خالص ارتقائی نظر سے دیکھا جائے تو اس کی تک نہیں بنے گی۔ کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسا والا پرندہ کھایا گیا۔ لیکن طویل مدت میں سخاوت، ہمدردی، ایثار مفید رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویمپائر جنوبی امریکا کی چمگادڑیں ہیں جو کہ رات کو نکلتی ہیں۔ مویشی اور دیگر ممالیہ کا خون چوستی ہیں۔ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ان کو تجربہ کار بھی ہونا ہے اور خوش قسمت بھی۔ کئی ویمپائر چمگادڑیں بھوکی رہ جاتی ہیں۔ کامیاب چمگادڑیں اس کو ان بدقسمت ساتھیوں کے ساتھ شئیر کرتی ہیں۔ اور یہ سب کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ نہ صرف قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بلکہ کسی بھی بھوکی چمگادڑ کے ساتھ۔
چمگادڑ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ارتقائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یقینی طور پر سب سے مضبوط ہی زندہ رہتے ہیں اور اس طرح سے خیرات دینا جانوروں کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور بناتا ہے۔ خوراک تلاش کرنے میں توانائی لگتی ہے، اور جو جانور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں انہیں خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، سماج کے کچھ ارکان بے غرض چمگادڑوں کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مستقل طور پر ان کی خدمات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے، جیسا کہ دو امریکی محققین نے دریافت کیا۔ ایک بات یہ ہے کہ چمگادڑ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور اس بات کو بالکل جانتے ہیں کہ کون سخی ہے اور کون نہیں۔ جو خاص طور پر ایثار مندانہ خصوصیات کا مظاہرہ کرتے ہیں اگر کبھی ان پر بدقسمتی کا وقت آ جائے تو ان کی سب سے پہلے مدد کی جاتی ہے۔
ایثار پسند افراد کے طویل مدت میں زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن سائنسدانوں کے مشاہدات سے ہم کچھ اور بھی سیکھ سکتے ہیں۔ واضح طور پر چمگادڑوں کے پاس انتخاب ہے— یعنی کہ ان کے پاس آزاد مرضی ہے—اور وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اپنا کھانا شئیر کرنا کرنا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو باہمی شناخت کے پیچیدہ سماجی نیٹ ورک، خاص افراد کو پہچاننے اور ان کی خصوصیات سے واقف ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔ ایثار مندی کو محض ایک اور اضطراری عمل کے طور پر جینیاتی طور پر طے کیا جا سکتا تھا تاکہ چمگادڑوں کے درمیان کوئی قابل شناخت کردار کا فرق نہ رہے۔
تاہم، بے غرضی صرف اس صورت میں بامعنی ہوتی ہے جب یہ فرد کی اپنی آزاد مرضی سے ہو، اور ویمپائر چمگادڑ واضح طور پر یہ انتخاب کرنے کی اپنی صلاحیت کا استعمال کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
جمعرات، 27 مارچ، 2025
حیوانات کی دنیا (29) ۔ ایثار
Tags
Inner Life of Animals#
Share This
About Wahara Umbakar
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
لیبلز:
Inner Life of Animals
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں