باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

جمعہ، 28 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (34) ۔ راستے


اگر جنگلی جانور کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا اب عجیب سے ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے۔ ماضی میں جو غیرمنقسم کھلے وسیع علاقے تھے، اب سڑکوں اور بستیوں نے انہیں تقسیم کر دیا ہے۔ ویرانوں میں گم ہو جانا اب ممکن نہیں رہا۔ ہمارا سب سے قدرتی ماحولیاتی نظام یعنی کہ ہمارے جنگلات بھی وہ نہیں رہے جو پہلے تھے۔ لکڑی کاٹ کر لے جانے والے ٹرکوں کے لئے دور دراز کے علاقوں میں بھی سڑکیں بنی ہیں۔
ان کچے پکے راستوں کے قدرتی دنیا کے لیے واضح نقصانات ہیں۔ کبھی ڈھیلی مٹی بہت زیادہ دب جاتی ہے، اور وہ چھوٹی مخلوقات جو اس کی زیر زمین تہوں میں رہتی تھیں، سب دم گھٹ کر مر جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ راستے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ڈیموں کی طرح کام کرتے ہیں، اور یہ معمولی مداخلت نہیں۔ متعدد ندیاں زیر زمین بہتی ہیں، اور بہت سے معاملات میں، وہ ان راستوں کے نیچے دبائی ہوئی مٹی سے رک جاتی ہیں یا راستہ بدل جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگل کے کچھ حصے دلدلی زمین کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن پر بہت سے درخت پھلنے پھولنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کی جڑیں بدبودار مرکب میں دم گھٹ کر مر جاتی ہیں۔ جنگل کے راستے اور پگڈنڈیاں روشنی سے بھاگنے والے زمینی کیڑوں کے لیے بھی کافی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ بیٹل، جنہوں نے بہت پہلے اڑنے کی صلاحیت کھو دی تھی، روشن راستوں کو عبور کرنے کے لیے درختوں کے نیچے اندھیرے کو چھوڑنے کی ہمت نہیں کرتے ہیں۔ راستوں سے گھیرے ہوئے ایک چھوٹے علاقے تک محدود، وہ اب اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جینیاتی مواد کا تبادلہ نہیں کر سکتے۔
یہ راستے ہرن یا ایسے دوسرے جانوروں کے لئے رکاوٹ نہیں ہوتے۔ بارش میں گیلی زمین پر چلنے کے بجائے وہ ان پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں پر انسانوں کے بنائے ایسے راستے موجود نہ ہوں، وہاں پر یہ خود پگڈنڈیاں بنا لیتے ہیں۔ تاہم، جانوروں کی بنائی گئی پگڈنڈیاں بہت تنگ ہوتی ہیں۔ مثلاً، جنگلی سور ایک راستہ سے بار بار گزریں تو یہاں کی گھاس اور جھاڑیاں ختم ہو جائیں گی اور سالہا سال کے استعمال سے فٹ پاتھ کی طرح کا راستہ ابھر آئے گا۔ ان کے گروہوں میں نسل در نسل ان کے بنائے گئے راستوں کا علم منتقل ہوتا رہے گا جن پر آسانی سے چلا جا سکتا ہے۔ اس وقت تک، جب تک انسان آ کر ان میں رکاوٹ نہیں ڈال دیتے۔
انسان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ جن جگہوں پر باقاعدہ سڑکیں اور راستے نہ بنائے گئے ہوں، وہاں پر چلنے والے لوگ ایک راستہ اختیار کرتے ہیں جو کہ وقت کے ساتھ باقاعدہ طور پر نمایاں ہو کر پگڈنڈی بن جاتا ہے۔ جہاں پر چلنا آسان ہوتا ہے۔
آپ کو معلوم ہو گا جب آپ پیدل چل رہے ہوں اور گیلے ہو رہے ہوں تو یہ کتنا ناخوشگوار ہوتا ہے۔ جانوروں کے لیے بھی یہ اس سے مختلف کیوں ہو گا۔ جب ان کے پیر اور جسم گیلے ہوتے ہیں تو انہیں بھی ناخوشگوار لگتا ہے، اور وہ آسان پگڈنڈیوں پر چلنا پسند کرتے ہیں۔ اور ان راستوں کا انہیں ایک اور فائدہ ہے جو کہ سفر کی رفتار ہے۔ جب ایک دشمن ہرن یا سور کے بچے پر کھانے کے لیے جھپٹنے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، تو ریوڑ جتنی جلدی ہو سکے بھاگنا چاہتا ہے۔ اور چونکہ گھنی شاخیں اور گرے ہوئے درخت رفتار سست کر دیتے ہیں، اس لیے بھاگنے کے لیے بہترین جگہ ایک کھلی پگڈنڈی پر ہے۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں