باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

جمعرات، 27 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (33) ۔ جنگلی جانور


ایک مثال جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگلی جانور گھریلو زندگی لیے موزوں نہیں ہیں وہ یورپی جنگلی بلی ہے۔ 1990 تک، یہ تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ مغربی جرمنی کے وسطی پہاڑی علاقوں میں صرف چار سو کے قریب جانور زندہ بچے تھے، اور سکاٹش پہاڑی علاقوں میں تقریباً دو سو کی ایک چھوٹی باقی ماندہ آبادی تھی۔ تب سے، ان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ تحفظ اور دوبارہ متعارف کرانے کی کوششوں کی بدولت، اب ہزاروں جنگلی بلیاں ایک بار پھر وسطی یورپ میں گھومتی ہیں۔
یورپی جنگلی بلی ایک طاقتور گھریلو بلی کے سائز کی ہوتی ہے۔ اس کے گھنا بال زردی مائل رنگ کے ساتھ شیر کی دھاریوں والے ہوتے ہیں۔ اس کی جھاڑی دار دم کا سرا سیاہ ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گھریلو ٹیبی بلیوں کی شکل بھی ایسی ہی ہوتی ہے، اور ان کا جنگلی نوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹھیک شناخت صرف دماغ کے سائز یا آنت کی لمبائی کی پیمائش کرکے یا جینیاتی جانچ کے لیے بالوں کا نمونہ بھیج کر ہی ممکن ہے۔ جنگل میں آنے والوں کو اس فرق کا پتا نہیں چلتا۔
حال ہی میں، مجھے پتا لگا کہ جب ایک جنگلی بلی کا بچہ انسانوں کی دیکھ بھال میں بڑا ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ ایک شخص نے جنگل میں ایک الگ تھلگ راستے کے ساتھ ایک بچے کو دیکھا۔ یہ بے بس جانور تھا جس کو اس نے تنہا چھوڑ دیا۔ دو روز بعد، وہ اسی جگہ واپس آیا، اور اس نے میاؤں میاؤں کرتے بلونگڑے کو ابھی بھی پگڈنڈی کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ کسی بھی وجہ سے، اس کی ماں غائب ہو گئی تھی، اور اگر اسے اسی طرح چھوڑ دیا جاتا تو یہ مر جاتا۔ اس بار، وہ شخص اسے اپنے ساتھ گھر واپس لے گیا۔ اس نے جانوروں کے سینٹر سے چیک کیا۔ انہوں نے بالوں کا تجربہ کرکے تصدیق کی کہ یہ جنگلی بلی تھی۔
ان کی چھوٹی آنتوں کی وجہ سے، جنگلی بلیاں گھریلو بلیوں کا کھانا ہضم نہیں کر سکتیں۔ اس لیے چھوٹے بچے کو گوشت کھلایا گیا۔ کچھ ہی عرصے میںیہ خاندان کھانے کے وقت اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ بلی کا بچہ فوراً حملے پر اتر آتا تھا۔ جب وہ چہل قدمی کے لیے جاتے تو یہ خاندان کے ساتھ رہتا اور ایسا لگتا تھا کہ یہ آخرکار پالتو ہو رہا ہے۔ لیکن اس نے بڑی گھریلو بلیوں کو ڈرانا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسے مزید رکھنا ناممکن ہو گیا۔ اس کو بالآخر جنگلی حیات کی بحالی کے مرکز میں چھوڑنا پڑا۔
"یہ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ بہت سی انواع اپنا جنگلی رویہ نہیں کھوتیں اور اس لیے انسانوں کی دیکھ بھال میں زندگی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ آج کا ہر پالتو جانور ایک طویل افزائش کے عمل کا نتیجہ ہے۔ اور جنگلی جانور گھر میں پالنے کے لئے نہیں ہوتے۔ خواہ کم عمر سے ہی گھر میں رکھا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میساچوسٹس یونیورسٹی میں ڈاکٹر کیتھرین لارڈ نے تحقیق کی کہ بھیڑیوں کو پالنا کتوں کی نسبت اتنے مشکل کیوں ہیں۔ ان کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ جانور کا بچپن ہے۔ بھیڑیے کے بچے دو ہفتے کی عمر میں ہی اٹھ کر چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ اس وقت یہ دیکھ اور سن نہیں سکتے۔ ان کی سماعت چار ہفتوں کے بعد ہی نشوونما پا کر فعال ہوتی ہے۔ لہذا چند ہفتوں تک، وہ اپنی ماں کے ساتھ دنیا کو محسوس کرتے ہیں اور اس کے بارے میں سیکھتے ہیں، جب وہ ابھی تک بہرے اور اندھے ہوتے ہیں۔ وہ چھ ہفتے کی عمر میں آخر کار اپنی آنکھوں پر قابو پاتے ہیں، لیکن تب تک یہ چھوٹے شرارتی بچے اپنے خاندان اور اپنے ماحول کی بو اور آوازوں سے پہلے ہی واقف ہو چکے ہوتے ہیں، اور وہ ریوڑ کی سماجی زندگی میں مضبوطی سے ضم ہو چکے ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، کتے ریوڑ کے دیگر ارکان کے ساتھ بہت اس طرح جلد اور مضبوط رشتہ نہیں بناتے۔ ہزاروں سالوں کی افزائش نے کتوں میں سماجی کاری کے مرحلے کو مؤخر کر دیا ہے، اور آج یہ صرف اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ چار ہفتے کے ہوتے ہیں۔ بھیڑیوں اور کتوں دونوں میں، تشکیلاتی دور صرف چار ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ اگرچہ بھیڑیے کے تمام بچوں کے حواس اس اہم وقت میں مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے، کتے اپنے مکمل حسی ذخیرے سے لیس ہو کر اپنے ماحول کو دریافت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کتے بنیادی طور پر انسانی صحبت میں گھر جیسا محسوس کرتے ہیں، وہیں بھیڑیے اپنی پوری زندگی انسانوں پر ایک خاص عدم اعتماد برقرار رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ہرن کے بچے؟ کچھ نر ہرن اپنے مالکوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک سال سے کم عمر میں ہرن بالغ ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ تنہائی پسند ہیں اور اپنے علاقے میں مقابلہ برداشت نہیں کرتے۔ اس کے مالک اور ہرن میں جو محبت قائم ہوئی ہوتی ہے، وہ مدہم پڑ جاتی ہے۔ اور یہ اسے اپنا حریف سمجھنے لگتے ہیں جو کہ ان کے علاقے میں آ رہا ہے جس کو بھگانا ضروری ہے۔ اگر کوئی ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائے تو ہرن کے نوکیلے سینگوں سے لگائی گئی ٹکر کا ہدف بن سکتا ہے۔ اور یہ رویہ ہرن میں عام ہے۔ جن ہرنوں کو انسانوں نے پالا ہو، ان میں زیادہ امکان ہے کہ وہ حملہ کریں گے کیونکہ وہ انسانوں کو بھی اپنی نوع کا ہی سمجھ لیتے ہیں، خواہ انہیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔ 2013 میں شوارزوالڈر بوٹے کے ایک شمارے میں ایک رپورٹ تھی جس میں ایک نر ہرن نے والڈموسنگن گاؤں کے ایک کھیل کے میدان میں شام کے اوقات میں دو خواتین پر حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔ معلوم ہوا کہ اسے پچھلے سال انسانی ہاتھوں نے پالا تھا۔
(جاری ہے)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں