باتیں ادھر ادھر کی

Post Top Ad

ہفتہ، 29 مارچ، 2025

حیوانات کی دنیا (44) ۔ حساسیت


کیا جانور فطری طور پر لوگوں کی نسبت اپنے ماحول کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں؟ قدرتی طور پر، بہت سی انواع ایسی ہیں جو انفرادی حسیات میں ہم سے نمایاں طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ عقاب بہتر دیکھتے ہیں، اور کتے ہم سے بہتر سنتے اور سونگھتے ہیں۔ تاہم، ہمارے حواس کا مجموعی جوڑ اتنا اچھا ہے کہ اوسطاً ہم دوسری انواع سے مختلف نہیں ہیں۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ جانوروں کے مقابلے میں ہم اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں سے اتنے بے خبر ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس کا جواب ہمارے جدید گھر اور کام کے ماحول کے ہمارے حواس پر حاوی ہونے کے طریقے میں پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر، زیادہ تر بو اب جنگلات یا چراگاہوں سے نہیں آتی ہیں، بلکہ ایگزاسٹ پائپ، دفتر کے پرنٹر سے خارج ہونے والے مادوں، یا ہمارے جسم پر استعمال ہونے والے پرفیوم اور ڈیوڈرینٹ سے آتی ہیں۔ مصنوعی خوشبوؤں کے نتیجے میں مستقل حسی بوجھ قدرتی خوشبوؤں کو چھپا دیتا ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ مختلف ہوتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب آپ فطرت میں بہت زیادہ وقت گزارتے ہوں۔ مثال کے طور پر، جہاں میں رہتا ہوں، آپ 50 گز دور سے ایک موٹرسائیکل کو اپنے بدبودار دو سلنڈر انجن سے دھواں چھوڑتے ہوئے سونگھ سکتے ہیں، اور جب بارش ہوتی ہے، تو جنگل کی ہوا فوری طور پر کھمبیوں کی بو سے بھر جاتی ہے جو چند روز میں ان کی بھرپور پیداوار کی پیش گوئی کرتی ہے۔
بینائی کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ وہ لوگ جو کم عمری میں کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں یا اسمارٹ فونز پر وقت لگاتے ہیں ان بچوں کے مقابلے میں خراب بینائی رکھتے ہیں جو اپنا زیادہ تر وقت باہر گزارتے ہیں۔ حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان نسلوں میں نظر کمزور ہونے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 1920 کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگوں کے مقابلے میں 1960 کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگوں میں شرح چار گنا زیادہ ہیں۔ کیا ہم اپنی دور کی نظر خراب کر رہے ہیں؟ خوش قسمتی سے ہم چشمہ پہن سکتے ہیں؛ تاہم، ہماری قدرتی بینائی کی حس میں بڑھتی ہوئی خرابی مجھے کسی اور چیز کی علامت معلوم ہوتی ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ جن حواس کے ساتھ ہم پیدا ہوتے ہیں وہ فطرت سے اتنے ہی ہم آہنگ ہوتے ہیں جتنے جانوروں کے حواس ہوتے ہیں۔ یہ جدید طرزِ زندگی ہے جو ایک کے بعد ایک حس کو مدھم کر دیتی ہے۔ جب کوئی چیز  چلی جاتی ہے، تو اس کی مرمت نہیں کی جا سکتی، تاہم، ہمارا دماغ بہت سی چیزوں کی تلافی کر سکتا ہے۔ میرے لیے، ایک مثال بگلوں کی سالانہ نقل مکانی ہے۔ میں ان پرندوں کو دور سے بھی سن سکتا ہوں، یہاں تک کہ بند کمرے کے اندر سے بھی۔ مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں کہ یہ کیسے سن لیتا ہوں لیکن اس کے لیے صرف ایک ہلکا سا اشارہ درکار ہوتا ہے۔ اور جب میں باہر قدم رکھتا ہوں اور فاصلے پر پرندوں کا ایک V اڑتا ہوا دیکھتا ہوں۔
نقل مکانی کرنے والے بگلے اس موضوع سے گہرا تعلق رکھتے ہیں جو کہ جانوروں کا انتباہی نظام ہے۔ پرندے دور دراز کے موسمی نمونوں کا بتا دیتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی پشت پر ہوا کے ساتھ اڑنا پسند کرتے ہیں۔ جب وہ خزاں میں شمال سے نیچے اڑتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ شدید سرد شمالی ہوائیں جنوب کی طرف چل رہی ہیں، جو موسم کی پہلی برف باری کا اشارہ دے سکتی ہیں۔ تاہم، بہار میں، بگلوں کی بڑے پیمانے پر آمد افزائش نسل کے موسم کے آغاز کا اشارہ دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ گرم جنوبی ہوائیں اسپین میں ان کے موسمِ سرما کے ٹھکانوں سے شمال کی طرف آ رہی ہیں، اور درجہ حرارت جلد ہی بڑھنے والا ہے۔
آپ سننے سے موجودہ درجہ حرارت کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔ یہ عجیب لگتا ہے، لیکن یہ درحقیقت بہت آسان ہے۔ ٹڈیاں اور جھینگر یہاں ہمارے ننھے مددگار ہیں۔ یہ سرد خون والے کیڑے اس وقت اپنے راگ شروع کرتے ہیں جب درجہ حرارت تقریباً 53 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ درجہ حرارت جتنا اوپر چڑھتا ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے چہچہاتے ہیں۔ آپ یہ کہہ دے سکتے ہیں کہ درجہ حرارت بتانے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ آپ کی جلد پر ہوا کتنی گرم محسوس ہوتی ہے۔ درست، لیکن جب آپ متحرک ہوتے ہیں، تو یہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ آپ کے جسم سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو اس کی مشق ہے تو آپ جھینگروں کے راگ سے درجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔
جس طرح آپ اپنے کانوں کو تربیت دے سکتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی آنکھوں کو بھی۔ آپ چشمہ لگا کر ناقص بینائی کو درست کر سکتے ہیں، لیکن دماغ کا ردعمل اس سے بھی زیادہ اہم ہے، اور آپ اس کی صلاحیت کی نشو و نما کر کے اسے نکھار سکتے ہیں۔ ان دنوں میری بینائی صرف درختوں کے سبز رنگ میں فرق محسوس کرکے ہرنوں کو پکڑ لیتی ہے۔ اور ایسے ہی درخت پر بیٹل کے حملے سے متاثر بیدِ مجنوں میں رنگ کا معمولی فرق متاثرہ درخت اور پڑوسی کے صحت مند پتوں کے درمیان فرق ظاہر کر دیتا ہے۔
میرے ماحول میں دیگر حواس بھی تربیت پا گئی ہیں۔ میں اپنے چہرے پر چلنے والی ہوا کی سمت میں تبدیلی محسوس کر سکتا ہوں، جو موسم میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے، یا بارش کے چھوٹے قطرے جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ بارش ہلکی ہو گی اور تیز نہیں؛ یا ہوا کی بو میں معمولی بے قاعدگی جو دور سے سڑتے ہوئے جانور کی لاش کی موجودگی کا بتاتی ہے، یہ احساسات مل کر مجھے میرے ارد گرد کے موجودہ حالات اور اس کے خطرات کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ اس اس کے لئے مجھے زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔
اگر آپ کا تعلق آبادی کے اس چھوٹے حصے سے ہے جو کہ موسم کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو آپ بھی روشن نیلے آسمان میں پہلے بادلوں کے نمودار ہونے سے بہت پہلے طوفان کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ سائنس دان اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ یہ حساسیت کہاں موجود ہے۔ آیا اس کا تعلق خلیات کی جھلیوں کی بدلتی ہوئی conductivity سے ہے؛ لیکن، جو بھی ہے، یہ کام کرتا ہے۔ ابتدائی لوگ جنگلات اور چراگاہوں کو کتنی زیادہ درستگی سے پڑھنے کے قابل رہے ہوں گے؟ جانور اپنی پوری زندگی اسی ماحول میں رہتے ہیں۔ تو  پھر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ قدرتی آفات کی پیش گوئی کرنے میں اتنے بہتر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر جانور اتنے حساس ہیں، تو کیا طویل مدتی پیش گوئیوں بھی کر سکتے ہیں؟ کیا جانور محسوس کر سکتے ہیں کہ آنے والی سردیاں سخت ہوں گی؟ کچھ سالوں میں، آپ گلہریوں اور جے برڈ کو خاص طور پر بڑی مقدار میں بلوط اور دوسرے میوے دفن کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگا کہ وہ ایک لمبی اور برفانی سردی سے خود کو بچانے کے لیے دانشمندانہ دور اندیشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جانور صرف درختوں کی طرف سے کی گئی خوراک کی ضرورت سے زیادہ وافر پیشکش کا زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بیچ اور بلوط ہر تین سے پانچ سال بعد ایک ساتھ وافر پیداوار دیتے ہیں۔ یعنی کہ جانوروں کا رویہ آئندہ کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہا ہوتا۔
جانور طویل مدتی میں موسم کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ تاہم، جب ہم قلیل مدتی تبدیلیوں پر توجہ دیتے ہیں تو صورتحال مختلف ہے۔ اور اس سلسلے میں میری پسندیدہ نوع چافنچ ہے۔ یہ پرندے پرانے جنگلات میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہاں نر ایک خوبصورت گانا گاتا ہے جو کچھ اس طرح ہے "چپ چپ چپ چوئی چوئی چیئو"۔ لیکن آپ یہ گانا صرف اچھے موسم میں سن سکتے ہیں۔ اگر گہرے بادل جمع ہو رہے ہیں—بارش کی پہلی بوندیں بھی گر رہی ہوں گی—تو آپ جو سنتے ہیں وہ ایک ہی نوٹ پر "رن رن رن رن رن" ہوتا ہے۔
دوسرے چافنچ کو کیا فائدہ ہوتا ہے جب ایک چوکس پرندہ موسم میں تبدیلی کو دیکھتا ہے اور دوسروں کو خبردار کرتا ہے؟ کیا وہ سب صرف آسمان کی طرف دیکھ کر خود طوفان کو نہیں دیکھ سکتے تھے؟ اگر وہ ایک پرانے جنگل کے گھنے پتوں کے سائبان کے نیچے ہیں تو نہیں۔ آنے والے خطرے کو دیکھنے کی واحد جگہ ایک خلا ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دیوہیکل درختوں میں سے ایک گر جاتا ہے اور آسمان کا نظارہ کھل جاتا ہے یا درختوں میں بہت اونچائی سے۔ اس طرح انتباہات مفید ہیں کیونکہ ہر فنچ اس “بات” سے واقف نہیں ہے کہ کونسا موسم آنے والا ہے۔ ان کا نغمہ یہ پیغام جنگل بھر میں نشر کر دیتا ہے
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

میرے بارے میں