یورپ میں، رات کے آسمان کا کم از کم نصف حصہ روشنی کی آلودگی سے متاثر ہے۔ 30,000 باشندوں والا ایک چھوٹا شہر بھی ہر سمت میں 15 میل تک مصنوعی روشنی میں اضافے میں حصہ ڈالتا ہے۔ شہروں میں رہنے والے لوگوں کو ستاروں بھرے آسمان کا مشاہدہ کرنے کا بہت کم موقع ملتا ہے۔ اور یہ صرف انسان ہی نہیں ہیں جو متاثر ہوتے ہیں۔ جانوروں کی بہت سی انواع، خاص طور پر کیڑے، رات کو سفر کرتے وقت سمت معلوم کرنے کے لیے ستاروں پر انحصار کرتے ہیں۔ مثلاً، پتنگے جب سیدھی لائن میں اڑنا چاہتے ہیں تو چاند پر انحصار کرتے ہیں۔ جب چاند اپنی اونچائی پر ہوتا ہے اور وہ مغرب کی طرف اڑنا چاہتے ہیں، تو انہیں صرف چاند کو اپنی بائیں طرف رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن چھوٹے پتنگے چاند اور ایک بلب کے درمیان فرق نہیں بتا سکتے جو رات کو باغ میں روشن ہو۔ اب، جیسے ہی یہ مسافر مسافر پھولوں کے پاس سے گزرتا ہے، وہ فوری طور پر سمت تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کے لئے رات کی سب سے روشن چیز چاند ہی ہونی چاہیے۔ اور اس لیے وہ اس نئے چاند کو اپنی بائیں طرف رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے لیمپ 238,900 میل دور نہیں بلکہ صرف چند گز دور ہے۔ اگر پتنگا سیدھا اڑتا ہے تو چاند اس کے پیچھے آ جاتا ہے۔ اس نے چاند کو ایک ہی طرف رکھنا ہے تو اس کی اڑان دائرہ بنانے لگتی ہے۔ یہ اپنا راستہ ٹھیک کر رہا ہے کہ “چاند” بائیں طرف ہی رہے۔ یہ دائروں میں چکر کھاتی اڑان اسے روشنی کے اس منبع کے قریب لے جاتی ہے۔ اگر یہ مصنوعی چاند کوئی شمع تھی تو یہ پتنگا بھسم ہو کر زندگی گنوا بیٹھتا ہے۔
شاعر اسے پروانے اور شمع کی جان لیوا محبت کہہ دیتے ہیں۔ جبکہ وہ بے چارہ تو اسے چاند سمجھ کر اپنی سمت سیدھی کرنے کی کوشش میں تھا۔
لیکن اگر اس کا اختتام ایسا ڈرامائی نہ بھی ہو تو یہ روشنی اس کے لئے موت ہے۔ اگر یہ پوری رات سیدھا راستہ اڑنے کی کوشش کرتا رہے تو یہ کہیں نہیں پہنچے گا۔ یہیں چکر کاٹتے کاٹتے کسی وقت اس کے توانائی کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ اور یہ تھکن سے جان دے دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سڑکیں جنگلی جانوروں کے لیے خاص طور پر مسئلہ ہیں۔ اسفالٹ خود میں کوئی بری چیز نہیں ہے، کیڑے اور رینگنے والے جانور یہاں اس وقت تک خود کو گرم کر سکتے ہیں جب تک کہ ان کے جسم کا درجہ حرارت مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے کافی نہ ہو۔ سڑک اچھی طرح سے گرم ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ سردخون والے جانور (جو خود بہت کم گرمی پیدا کر سکتے ہیں) دن کا آغاز کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اور یہ ان کے لئے پرکشش ہیں۔ لیکن اس وقت تک، جب تک کہ گزرتی ہوئی کار ان کو اچانک ختم نہ کر دے۔ سڑکیں دوسرے طریقوں سے بھی پرکشش ہیں۔ سڑک کے کنارے کے بہت سے حصوں کی باقاعدگی سے کٹائی ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ ہرن کے لئے نرم گھاس اور دیگر لذیذ خوراک کا ایک اچھا ذریعہ ہیں۔ اور وہ شکاریوں سے بھی محفوظ ہیں، کیونکہ سڑک پر شکار ممنوع ہے۔ اس لئے تعجب کی بات نہیں کہ آپ رات کے وقت یہاں ایسے جانوروں کی تعداد دیکھ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ بڑی تعداد میں ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ جرمن انشورنس انڈسٹری ہر سال جنگلی جانوروں سے متعلق تقریباً 250,000 تصادم کی اطلاع دیتی ہے۔
جانور سیکھ لیتے ہیں۔ لیکن حادثات کے مستقل ہونے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ جوانی کی لاپرواہی ہے، جو صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہرن ایک سال کے ہوتے ہیں، تو وہ اپنا علاقہ تلاش کرنے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں زیادہ علاقائی سڑکوں کی کثافت کے پیش نظر، سال بھر کے ہرنوں کو نئے علاقے کی تلاش میں پہلے بہت سی سڑکوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔
دوسری وجہ محبت ہے۔ خاص طور پر جب ہرنیوں کا وقت ہوتا ہے تو وہ گویا ہوش کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے ذہن میں صرف ایک ہی چیز ہوتی ہے: جنسی تعلق۔ جولائی اور اگست کے گرم مہینوں میں، ان ہارمون بے قابو ہو جاتے ہیں، اور نر ہرن مسلسل ایسی ہرنی کی پرکشش آواز سننے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔ ملاپ کے لیے تیار مادہ ہرن خود پر توجہ دلانے کے لیے ایک خاص آواز نکالتی ہیں۔ اور نر یہ ڈھونڈتے ہیں کہ اس کے خوابوں کی خاتون کہاں کھڑی ہوسکتی ہے۔ چونکہ نروں کے حواس الجھن کی حالت میں ہوتے ہیں، تو وہ دیکھنے کی زحمت کیے بغیر سڑک پر کود پڑتے ہیں کہ اس میں کوئی خطرہ تو نہیں۔ اور اسی لیے گرمیوں میں جرمنی میں جنگلی جانوروں سے تصادم میں ایسے نر زیادہ شامل ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
اتوار، 30 مارچ، 2025
حیوانات کی دنیا (50) ۔ شمع پروانہ اور جان لیوا محبت
Tags
Inner Life of Animals#
Share This
About Wahara Umbakar
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
لیبلز:
Inner Life of Animals
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں