انسانوں کے زیرِ استعمال زیادہ تر جانور قابل رحم زندگی گزارتے ہیں۔ لاتعداد مرغیوں اور دیگر جانوروں کو خام مال پیدا کرنے والوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ یقینی طور پر یہ رضاکارانہ طور پر اور خوشی سے ہمارے لیے ایسا نہیں کرتے ہیں۔ تاہم، انسانی اور جانوروں کی شراکت داری کی بہت سے دل کو چھو لینے والی مثالیں موجود ہیں۔ میں اکثر ایسی شراکت داریوں کو اپنے زیر انتظام جنگل میں عملی طور پر دیکھتا ہوں۔ میں گھوڑوں کی ٹیموں کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو گرے ہوئے درختوں کو ہٹاتے ہیں۔ بہت بھاری مشینیں جنگل کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ وہ سطح سے 6 فٹ نیچے تک نازک مٹی کو کچل دیتی ہیں۔ لہذا، اپنے کمیونٹی جنگل میں، ہم درخت کاٹنے کے لیے ان کا استعمال نہیں کرتے۔ گرے ہوئے درختوں کو گھسیٹ کر باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور صدیوں سے ان کو ہٹانے کا کام گھوڑوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
کیا یہ گھوڑے اپنے کام سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟ کیا انہیں سارا دن بھاری بوجھ گھسیٹتے ہوئے بوریت نہیں ہوتی؟ میں ان ٹیموں میں کام کرنے والے کبھی کسی ایسے شخص سے نہیں ملا، جسے اپنے جانوروں سے پیار نہ ہو۔ ان کے گھوڑے ان کے ساتھی ہیں، اور وہ ان سے ان کی استعداد سے زیادہ کام کرواتے۔ کیونکہ جب آپ گھوڑوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی چھٹیاں نہیں ہوتیں اور جانور خاندان کے افراد کی طرح ہوتے ہیں۔ جب وہ جنگل میں کام پر ہوتے ہیں تو یہ لوگ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کے گھوڑوں کو کچھ نہ ہو۔ اور جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، گھوڑے خود اس سے زیادہ کام کرنے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں جتنا ان سے کروایا جاتا ہے۔ یہ اس وقت واضھ ہوتا ہے جب کام میں وقفہ لیا جاتا ہے۔ اور یہ واپس کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے بے تابی دکھاتی ہیں۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے کام سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کام کرتے وقت یہ لوگ اپنے گھوڑوں کو باگ کے اشاروں اور منہ کی آوازوں سے راہنمائی کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ گھوڑے اسے سنتے ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں آگے، پیچھے یا سائیڈ پر جانا ہے، اور کیا انہیں اپنی پوری طاقت سے کھینچنا چاہیے یا احتیاط سے آگے بڑھنا چاہیے۔
اسی طرح کی انسانی جانوروں کی شراکت داری چرواہوں اور ان کے کتوں کی ہے، جو زبانی احکامات کی بھی پیروی کرتے ہیں۔ یہ جانوروں کے اپنے کام میں مزا لینے کی ایک اور مثال ہے۔ آپ آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں اگر آپ بھیڑ جمع کرنے کے لیے بھیڑوں کے ریوڑ کے ارد گرد دوڑتے ہوئے چرواہے کتوں کو دیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’پالتو جانوروں‘‘ کے موضوع پر، دو بالکل مختلف نقطہ نظر ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ہم نے اپنی ساتھی مخلوقات کو افزائش کے ذریعے ڈھال کر انہیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بالکل موزوں بنایا ہے۔ جنگلی پالتو بن گیا ہے، دبلا موٹا ہو گیا ہے، بڑا چھوٹا ہو گیا ہے—ہماری خواہشات کچھ بھی ہوں، جانور انہیں پورا کر سکتے ہیں۔ کچھ انواع کو نت نئی اور عجیب شکلوں میں ڈھالا گیا ہے۔ تاہم، آپ اس عمل کو ایک اور نقطہ نظر سے بھی دیکھ سکتے ہیں—جانوروں کے نقطہ نظر سے۔ انہوں نے خود کو ایسے تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ وہ بالکل جانتے ہوں کہ ہمارے جذباتی بٹن کیسے دبانے ہیں۔ اور یہ ہمیں میرے کتے کرسٹی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا چپٹا ناک والا کتا ایک قدرتی دلکشی رکھتا تھا—آپ کو بس اسے پیار کرنا تھا۔ تو کیا ہم اس پر اثرانداز ہو رہے تھے یا یہ ہم پر؟ اسے خوراک اور پانی فراہم کیا گیا۔ اگر کوئی تکلیف ہوتی، تو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا۔ سردیوں میں، آگ کے پاس ہمیشہ ایک آرام دہ جگہ ہوتی تھی۔ اس ساتھی نے ایک خوشگوار زندگی گزاری۔ اگر وہ اپنے آباؤ اجداد بھیڑیوں کی طرح باہر گھوم رہا ہوتا، تو اس کی زندگی اس طرح نظر نہ ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاکٹوز کی برداشت کی مثال یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ہم اپنے چار ٹانگوں والے ساتھیوں کے ساتھ زندگی میں کس حد تک ڈھل چکے ہیں۔ عام طور پر صرف شیر خوار ہی دودھ برداشت کرتے ہیں، کیونکہ مائیں ان کے لئے یہ سفید مائع پیدا کرتی ہیں۔ دودھ کے اندر لاکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت، آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے جب شیر خوار ٹھوس غذا شروع کر دیتے ہیں۔ یا ایسا کہہ لیں کہ یہ ختم ہو جاتی تھی۔ جب لوگوں نے پالتو جانور رکھنا شروع کیے، تو بالغوں کے لیے اپنی گایوں اور بکریوں سے دودھ اور پنیر استعمال کرنا ممکن ہو گیا۔ چونکہ دودھ ایک قیمتی غذا ہے، ان جانوروں کو پالنے والوں کو ایک جینیاتی تبدیلی نے لاکٹوز کو ہضم کرنا ممکن بنایا۔ اس کا سراغ تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے لگایا جا سکتا ہے اور یہ ابھی تک جاری ہے، اور یہ صلاحیت ابھی تمام آبادی میں نہیں ہے۔ ابھی تک کوئی تحقیق نہیں ہے کہ کتوں کے ساتھ رہنے نے انسانوں کو کیسے متاثر کیا ہے۔ کیونکہ ان سے ہماری شراکت شاید چالیس ہزار سال سے جاری ہے۔
(جاری ہے)
Post Top Ad
اتوار، 30 مارچ، 2025
حیوانات کی دنیا (51) ۔ انسانوں سے رفاقت
Tags
Inner Life of Animals#
Share This
About Wahara Umbakar
علم کی تحریریں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کاوش آپ سب کو پسند آئے گی اگر آپ نے میری اس کاوش سے کچھ سیکھا ہو یا آپ کے لئے یہ معلومات نئی ہوں تو اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔ شکریہ
۔
وہارا امباکر
لیبلز:
Inner Life of Animals
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں